کالمز

غزہ کا معرکہ: تاریخ ساز فتح

غزہ کی فتح صرف ایک معرکہ نہیں، بلکہ یہ عالمی استعماری سازش کے خلاف ایک غیر معمولی مزاحمت کا شاندار مظاہرہ ہے۔ غزہ نے اسرائیل کی فوجی قوت کو شکست نہیں دی، بلکہ اس نے ایک ایسے عالمی اتحاد کو چیلنج کیا، جو اپنی طاقت کے بل بوتے پر فلسطین کو تسلیم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا تھا۔ اس عالمی سازش میں صرف اسرائیل کا ہاتھ نہیں تھا، بلکہ فلسطینی اتھارٹی کی خاموش حمایت، عرب ممالک جیسے مصر، اردن، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، مراکش، اور امریکہ و یورپ کے سیاسی و عسکری امداد بھی شامل تھی۔ لیکن ان تمام طاقتوں کے باوجود، غزہ نے اپنے زمین و خون کے ساتھ اپنی بقاء کے حق میں غیر متزلزل ارادے کا ثبوت دیا۔

غزہ کا یہ کٹھن سفر ہر کسی کے لئے ایک حیرت کا سامان بن چکا تھا۔ غزہ کے پاس وہ تمام سہولتیں نہیں تھیں جو دشمن اسرائیل کو مہیا تھیں، نہ مالی وسائل، نہ جدید اسلحہ، نہ سیاسی ہم آہنگی۔ مگر پھر بھی، غزہ نے غیر معمولی قوت اور عزم کے ساتھ اسرائیل کا مقابلہ کیا۔پس اس کے پیچھے ایک مضبوط طاقت تھی — غزہ کی عوام کا بے پایاں حوصلہ، ان کا عزمِ آزادی، اور شہادت کے راستے پر ان کا جان دینے کا عہد۔

غزہ کی اس شاندار کامیابی میں مکمل طور پر حق و باطل کا فرق ظاہر ہو چکا ہے۔ اگر دنیا بھر کے سیاسی تجزیہ کاروں کی بات کی جائے تو شاید کوئی بھی یہ پیش گوئی نہ کر سکتا تھابکہ یہ جنگ دو ماہ سے زیادہ مدت تک جاری رہے گی لیکن غزہ کا معرکہ ایک معجزہ بن کر اُبھرا ہے، ایک ایسا معجزہ جو نہ صرف غزہ کی سرزمین، بلکہ پورے عرب و اسلامی دنیا کے لئے تاریخی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔

اس فتح کو صرف ایک فوجی جیت تک محدود نہ سمجھا جائے، بلکہ یہ عالمی سیاست میں ایک موڑ کا غماز ہے۔ ایک ایسی پوزیشن کی طرف قدم بڑھانا ہے جہاں غزہ کے مزاحمت پسند لوگ یہ سمجھ سکتے ہیں کہ ان کی جد و جہد کا ایک گہرا پیغام عالمی حکمرانوں تک پہنچ چکا ہے۔ اس کامیابی کا ایک سب سے بڑا پیغام یہ ہے کہ دنیا کے بڑے بڑے طاقتور ممالک اور ان کے اتحادیوں کے مقابلے میں، ایک چھوٹی سی قوم اپنے حق کے لئے کامیاب ہو سکتی ہے اگر اس کے اندر عزم، حوصلہ، اور ایمان کی طاقت ہو۔

یہ حقیقت کہ غزہ نے صرف اپنے محدود وسائل کے ساتھ اس طوفان کا مقابلہ کیا، ہمیں ایک بہت بڑا سبق دیتی ہے۔ اس جدوجہد نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اگر ہم اسلامی اُمت کی جانب سے اتحاد و اتفاق کی حقیقت کو سمجھیں تو دنیا کی کوئی بھی طاقت ہمیں شکست دینے کی اہلیت نہیں رکھتی۔

غزہ کی اس کامیابی کو صرف ایک معرکہ نہیں سمجھنا چاہیے، بلکہ اس کا پیغام صرف ایک قوم تک محدود نہیں، بلکہ پوری اُمت مسلمہ کے لیے ہے۔ ہم میں طاقت، حوصلہ، اور غیرت موجود ہے، بس ضرورت ہے تو خودی کو بیدار کرنے کی۔ اگر دنیا کی طاقتور قومیں اس سچائی سے بے خبر ہیں تو ہمیں اپنے اندر کی اصل طاقت کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ہم عالمی سطح پر ایک نئی تاریخ رقم کر سکیں۔

غزہ کی فتح کی یہ ایک سچائی ہے جو ہمیں بتاتی ہے کہ ہم اگر یکجا ہو جائیں تو دنیا میں ایسی تبدیلیاں لا سکتے ہیں جنہیں تاریخ ہمیشہ یاد رکھے گی۔ یہ کامیابی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ بے پناہ قربانیاں اور آزمائشیں کبھی رائیگاں نہیں جاتیں، اور یہ راستہ ایسا نصر (فتح) بن کر ابھرتا ہے جو پوری اُمت مسلمہ کے لئے نئی روشنی کا باعث بنے گا۔

لہذا، غزہ کی شجاع عوام کی اس فتح کے پیچھے جو قوت و عزم ہے، وہ ہمیں اندرونی تبدیلی کی دعوت دے رہی ہے۔ یہ وقت ہے کہ ہم اپنے اندر جھانک کر خودی اور عزت کی قیمت پہچانیں، اور اپنے سیاسی حکمرانوں کے فرسودہ طریقوں کے خاتمے کے لیے ایک نیا عزم کریں۔

یہ معرکہ ایک نظر سے محض غزہ کی جیت نہیں بلکہ ایک ایسا پیغام ہے جو مسلم امہ کے لیے تبدیلی اور بیداری کا نشان بن چکا ہے!

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button