علی امین گنڈاپور کی وضاحت، عمران خان کے ذاتی معالج سے متعلق بیان پر معذرت
غصہ جائز قرار، کہا عمران خان کی صحت اور آنکھ کے معاملے پر تحفظات برقرار ہیں

سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنما علی امین گنڈاپور نے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ اگر ان کے غصے کی وجہ سے کسی کا دل دکھا ہے تو وہ اس پر معذرت خواہ ہیں، تاہم انہوں نے اپنے غصے کو جائز قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ ذاتی معالج کی ڈیمانڈ پوری نہ ہونے پر برہم تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ کسی ایک فرد کا نہیں بلکہ انسانی ہمدردی اور بنیادی حقوق کا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی صحت، بالخصوص آنکھ کے مسئلے کے حوالے سے پارٹی قیادت اور اہل خانہ کو شدید تحفظات لاحق ہیں۔ علی امین گنڈاپور کے مطابق اگر اس حساس معاملے پر کسی کو غصہ نہیں آ رہا تو ان کے خیال میں یہ انسانیت کے تقاضوں کے منافی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی قیدی کو، خواہ وہ عام شہری ہو یا سیاسی رہنما، مناسب طبی سہولیات کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ذاتی معالج تک رسائی کا مطالبہ محض سیاسی نہیں بلکہ طبی ضرورت کے تحت کیا گیا تھا۔
سابق وزیراعلیٰ نے کہا کہ ان کا مقصد کسی کی دل آزاری نہیں بلکہ ایک بنیادی انسانی مسئلے کی طرف توجہ دلانا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اختلاف رائے جمہوری معاشرے کا حصہ ہے، لیکن صحت جیسے معاملے پر سنجیدگی اور حساسیت کا مظاہرہ ضروری ہے۔
سیاسی حلقوں میں اس بیان کے بعد بحث کا سلسلہ جاری ہے۔ بعض رہنماؤں نے ان کے مؤقف کی حمایت کی ہے اور کہا ہے کہ زیر حراست افراد کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جانا چاہیے، جبکہ دیگر حلقوں کا کہنا ہے کہ ایسے بیانات سے سیاسی درجہ حرارت میں اضافہ ہوتا ہے۔
علی امین گنڈاپور نے اپنے پیغام میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ عمران خان کی صحت کے معاملے پر آواز اٹھاتے رہیں گے اور قانونی و آئینی دائرے میں رہتے ہوئے ہر ممکن کوشش جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی جدوجہد کسی ذاتی مفاد کے لیے نہیں بلکہ ایک اصولی مؤقف کے تحت ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ حالات میں بیانات کی شدت اور ردعمل دونوں اہمیت اختیار کر چکے ہیں، اور ایسے میں رہنماؤں کی جانب سے تحمل اور بردباری کا مظاہرہ سیاسی ماحول کو متوازن رکھنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم عمران خان کی صحت کے حوالے سے اٹھائے گئے سوالات نے ایک بار پھر اس معاملے کو قومی سطح پر موضوعِ بحث بنا دیا ہے۔
رپورٹ: عبدالمومن


