قومی

علم و خدمت کا روشن استعارہ: میر نادر علی ابڑو کی ہمہ جہت شخصیت

ایک مثالی خادم: میر نادر علی ابڑوتحریر: غلام محمد کنبھر

علمی، ادبی اور سماجی میدان میں اپنی منفرد پہچان بنانے والی ہمہ جہت شخصیت میر نادر علی ابڑو کی خدمات کو ہر حلقے میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ مختصر عرصے میں انہوں نے جس انداز سے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا، وہ قابلِ تحسین ہے۔ وہ نہ صرف ایک باصلاحیت افسر کے طور پر جانے جاتے ہیں بلکہ ایک حساس دل رکھنے والے انسان کی حیثیت سے بھی ہر دل عزیز ہیں۔ لوگوں کے دکھ سکھ میں شریک ہونا، محبت اور خلوص کے ساتھ پیش آنا ان کی شخصیت کا نمایاں وصف ہے۔

شہیدوں کی سرزمین لاڑکانہ میں پیدا ہونے والے میر نادر علی ابڑو نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر سے حاصل کی۔ بعد ازاں انہوں نے قانون کی ڈگری حاصل کی اور سندھ کے معروف دانشور سوبھو گیان چندانی کی سرپرستی میں وکالت کے شعبے سے وابستہ رہے۔ یہ وہ دور تھا جس نے ان کی فکری اور ادبی سوچ کو مزید جِلا بخشی۔

بعد میں انہوں نے محکمہ اینٹی کرپشن میں بطور سرکل آفیسر ذمہ داریاں سنبھالیں۔ اپنی دیانت داری، محنت اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے باعث وہ جلد ہی نمایاں مقام حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ انہوں نے ٹھری میرواہ، عمرکوٹ، مٹھی، نواب شاہ، سکھر، دادو، جامشورو اور کراچی سمیت مختلف شہروں میں بطور سرکل آفیسر اور ڈائریکٹر خدمات انجام دیں۔ ہر مقام پر ان کی کارکردگی کو سراہا گیا اور انہیں مختلف اعزازات اور اسناد سے نوازا گیا۔

ادبی میدان میں بھی ان کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔ جہاں بھی ان کا قیام رہا، وہاں بڑے ادبی پروگراموں کا انعقاد کیا گیا۔ خاص طور پر ننگرپارکر میں مسک جہاں خان کھوسو لائبریری کا قیام ان کا ایک تاریخی کارنامہ ہے، جس نے علاقے میں علمی سرگرمیوں کو فروغ دیا۔ وہ سندھ کے مثالی خدمت گزاروں، سیاسی و سماجی رہنماؤں پر کالم لکھنے اور انہیں کتابی صورت میں شائع کرنے کے حوالے سے بھی جانے جاتے ہیں۔ انہوں نے متعدد کتابیں تصنیف کیں اور سندھی زبان میں درود شریف کی کتاب شائع کر کے دینی و ادبی خدمت بھی انجام دی۔

ان کی شخصیت میں صوفیانہ رنگ بھی نمایاں ہے۔ وہ سندھ کے معروف بزرگوں کے مزارات پر حاضری دیتے اور روحانی وابستگی کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں۔ یہی روحانی اثر ان کی طبیعت میں عاجزی، انکساری اور خدمتِ خلق کے جذبے کو مزید مضبوط کرتا ہے۔

میر نادر علی ابڑو نے ملک کی تاریخ کی ایک بڑی فلاحی تنظیم "پاکستان زندہ باد بنیادی تنظیم” کی بنیاد بھی رکھی، جو ملک بھر میں خدمات انجام دے رہی ہے۔ ضلع عمرکوٹ کی بحالی کے حوالے سے ان کے تحریر کردہ کالم کو بے حد پذیرائی ملی، جس پر اُس وقت کے اسپیکر سندھ اسمبلی سید مظفر حسین شاہ نے انہیں ایوارڈ سے نوازا۔

وہ ایک ادبی گھرانے میں پروان چڑھے۔ ان کے والد مرحوم کامریڈ تاج محمد ابڑو نے ان کی تربیت میں اہم کردار ادا کیا۔ یہی ادبی اور فکری ماحول ان کی شخصیت کی بنیاد بنا، جس کے باعث آج انہیں سندھ کے نمایاں ادیبوں اور خدمت گزاروں میں شمار کیا جاتا ہے۔

میر نادر علی ابڑو کی زندگی خدمت، علم اور محبت کا حسین امتزاج ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں صحت و سلامتی کے ساتھ لمبی عمر عطا فرمائے اور وہ اسی جذبے کے ساتھ قوم و ملت کی خدمت کرتے

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button