سول ہسپتال جلالپورجٹاں اپگریڈیشن عوامی نمائندوں اور ضلعی انتظامیہ کا عوام کو لالی پاپ
تحریر:اے ایس بٹ
پاکستان کو وجود میں آنے کے بعد عوام آج تک علاج معالجے کی مناسب سہولتوں کو ترس رہی ہے۔ پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں کی بات کی جائے تو مسائل کا گڑھ بنتے جارہے ہیں، طبی سہولیات کے فقدان کے باعث مریضوں کو نہ صرف مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے بلکہ کئی مریض جان کی بازی بھی ہار جاتے ہیں۔ناقص خوراک اور جعلی ادویات کی وجہ سے آج ہماری صحت کی جو حالت ہے وہ بیان سے باہر ہے شاید ہی کوئی گھر یا شخص کسی مرض سے بفضل اللہ تعالیٰ محفوظ ہو ورنہ موذی امراض نے ہر فرد اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ میرے مضمون کا مقصد سول ہسپتال جلالپورجٹاں کی حالت زار ہے جس کا ہماری عوام بری طرح شکار ہیں ہمارے ہاں زبانی کلامی اور جھوٹ بولنے کی عادت زیادہ ہے، جھوٹ بولنے میں ہمارا کوئی ثانی نہیں، اگر میں یہ کہوں کہ ہم نے جھوٹ میں پی ایچ ڈی کررکھا ہے یا ہمارے نمائندے عوام کو لالی پاپ دینے کے ماہر ہیں تو یہ ہر گز غلط نہ ہوگا بلکہ ابھی تک یہ جلالپورجٹاں کی عوام کے لیے حقیقت ہی ثابت ہوا ہوگا۔ سول ہسپتال جلالپورجٹاں میں مریضوں کے علاج کے لیے بنیادی سہولیات کی فراہمی کے فقدان کی وجہ سے کئی ماؤں کے لاڈلے تڑپ تڑپ کر زندگی کی بازی ہار گئے۔سول ہسپتال ”مقامی ڈاکٹرز ممبران قومی و صوبائی اسمبلی اور بیورو کریٹس“ کی مجرمانہ غفلت“ کے باعث صرف اور صرف ”غریب“ لوگوں کے لئے مختص ہو کررہ گیا بلکہ کئی سال گزرنے اور درجنوں افسران بالا کے دورے کرنے کے باوجود سینکڑوں دیہات پر مشتمل جلالپورجٹاں کا اکلوتا سرکاری ہسپتال سر درد، پیٹ درد سمیت معمولی زخم کی مرہم پٹی اور معمولی انجکشن لگانے تک محدود ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ کچھ سال پہلے جلالپورجٹاں کے مقامی نوجوان کی تصاویر اور ویڈیوز بھی سوشل میڈیا کی زینت رہیں جس میں وہ زخمی حالت میں ہسپتال کے فرش پر علاج معالجے کی فراہمی کےلیے تڑپتا رہا اور اپنی زندگی کو بچانے کےلیے ڈاکٹروں سمیت وہاں موجود افراد سے منت سماجت کرتا رہا لیکن ہسپتال ہذا میں سہولیات نہ ہونے کی وجہ سےآخر کار گجرات پہنچنے سے پہلے ہی اپنی زندگی کی بازی ہار گیا کچھ دن شہری بھی افسردہ رہے ایسے حادثات سے میں سہولیات کی عدم دستیابی سے تنگ آکر متعدد مرتبہ سول سوسائٹی سمیت دیگر تنظیموں کی جانب سے سول ہسپتال کی اپگریڈیشن کےلیے احتجاج بھی ریکارڈ کروایا جاتا رہا لیکن عوامی احتجاج اور صحافیوں کی نشاندہی کے باوجود کئی سال گزر جانے کے بعد بھی سول ہسپتال جلالپورجٹاں کی اپگریڈیشن نہ کروائی جا سکی۔ اب اگر عوامی نمائندوں کی بات کی جائے تو سابق ایم این اے چوہدری حسین الہی سمیت دیگر سابق ممبران قومی و صوبائی اسمبلی بھی گذشتہ سالوں میں متعدد مرتبہ جلالپورجٹاں کے شہریوں سے ہسپتال کی اپگریڈیشن کے وعدے کرتے آ رہے ہیں سابقہ دور اقتدار میں تو ہسپتال کے عقب میں موجود سرکاری کمروں کو بلڈنگ بنانے کے لیے مسمار کیا گیا اور ٹراما سنٹر جلالپورجٹاں کا افتتاح کرکے باقاعدہ مبارکبادیں اور خبروں کی سرخیاں بھی لگا کر عوام کو لالی پاپ دیا گیا جس کے کچھ عرصہ بعد ہی نامعلوم افراد وہاں موجود ریت بجری سمیت دیگر سامان بھی اٹھا کر لے گئے اور ٹراما سنٹر بننے کی بجائے بچوں کے کرکٹ کھیلنے کے لیے گراونڈ کی شکل اختیار کر گیا۔یہاں قارئین آپ خود سوچیں کہ شہر بھرمیں درجنوں پرائیویٹ ہسپتالوں کو کیسے کامیابی سے چلا یا جارہا ہے۔ یہ ہماری صحت سے کھیلنے کی بد ترین مثال اور ثبوت ہے جس کے بارے میں ہمارے نمائندے اور ضلعی انتظامیہ غفلت کا شکار نظر آرہی ہے۔عوامی نمائندوں سمیت ضلعی انتظامیہ کو چاہیے کہ سب سے پہلے صحت کے شعبے پر توجہ دے تاکہ لوگوں کو علاج کی سہولت میسر ہوسکے بالخصوص جلالپورجٹاں میں قائم واحد سرکاری ہسپتال کی ہنگامی بنیادوں پر اپگریڈیشن کے لیے اقدامات کیے جائیں تاکہ جلالپورجٹاں سمیت گردونواح سے علاج معالجہ کے لیے سول ہسپتال جلالپورجٹاں آنے والی عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جاسکے۔


