قومی

سندھ اسمبلی میں قرارداد کی مکمل حمایت، فارم 47 اور بلدیاتی انتخابات پر سخت مؤقف

شرجیل انعام میمن کا اپوزیشن پر تنقید، کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کی تجویز مسترد

سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے سندھ اسمبلی میں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی جانب سے پیش کردہ قرارداد کی مکمل حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس ایوان میں جو بھی رکن جائز طریقے سے منتخب ہو کر آیا ہے وہ اس قرارداد کی تائید کرے گا۔

سندھ اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قرارداد کا مقصد جمہوری اقدار کا تحفظ اور عوامی مینڈیٹ کا احترام ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ آج ایم کیو ایم کے رکن طٰہٰ احمد خان نے خود تسلیم کیا کہ وہ فارم 47 کے ذریعے ایوان میں پہنچے ہیں، اور اگر وہ اس طریقے سے نہ آتے تو یقیناً قرارداد کی حمایت کرتے۔ شرجیل انعام میمن کا کہنا تھا کہ یہ اعتراف اس بات کا ثبوت ہے کہ کچھ عناصر عوامی طاقت کے بجائے دیگر ذرائع سے اقتدار میں آئے۔

انہوں نے کہا کہ کراچی سمیت سندھ کے تمام اضلاع کے عوام باشعور ہیں اور یہاں سے منتخب ہونے والے نمائندے حقیقی عوامی حمایت رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جو افراد کسی اور طریقے سے ایوان میں آئے، انہوں نے بھی بالواسطہ طور پر اس حقیقت کو تسلیم کیا ہے۔ انہوں نے گورنر ہاؤس میں منعقدہ ایک کانفرنس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں ایک بھی ایسا فرد موجود نہیں تھا جو عوام کے ووٹوں سے کونسلر منتخب ہونے کی صلاحیت رکھتا ہو۔

بلدیاتی نظام کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے شرجیل انعام میمن نے کہا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ بلدیاتی کونسلیں کام نہیں کر رہیں۔ ان کے مطابق تمام بلدیاتی نمائندے اپنے دائرہ اختیار میں مؤثر انداز سے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اگر ان کے پاس عوامی مینڈیٹ تھا تو وہ بلدیاتی انتخابات میں بھرپور حصہ کیوں نہ لے سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کو نتائج کا اندازہ تھا، اسی لیے وہ انتخابی میدان سے دور رہے۔

کراچی کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ شہر دنیا کے بہترین شہروں میں شمار ہوتا ہے۔ ان کے مطابق اگر کراچی پسماندہ ہوتا تو ملک بھر سے لوگ علاج، تعلیم اور روزگار کے لیے یہاں کا رخ نہ کرتے۔ انہوں نے زور دیا کہ کراچی پاکستان کی معاشی شہ رگ ہے اور اسے کمزور کرنے کی کوئی بھی کوشش ناقابل قبول ہے۔

کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کی تجویز پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے سابق صدر پرویز مشرف کے دور کا حوالہ دیا اور کہا کہ اس زمانے میں عملی طور پر کراچی وفاق کے کنٹرول میں تھا، مگر اسی دور میں شہر کو چائنا کٹنگ جیسے سنگین مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ آج اپوزیشن میں بیٹھے بعض عناصر نے ماضی میں شہر کے امن و امان کو نقصان پہنچایا اور پولیس افسران کو نشانہ بنایا گیا۔

شرجیل انعام میمن نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے ہمیشہ قومی یکجہتی اور وفاق کی مضبوطی کے لیے “پاکستان کھپے” کا نعرہ بلند کیا ہے اور آئندہ بھی جمہوریت، عوامی حقِ رائے دہی اور صوبائی خودمختاری کے دفاع کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔

رپورٹ: عبدالمومن

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button