ہزارہ

سال2024سیاسی بت گر گئے۔ سروے نے اصل حقائق سامنے رکھ دیئے۔ کراچی میں تین ہی اصل سیاسی قوتیں موجود ہیں۔ بانی ایم کیو ایم کا مقابلہ ڈاکٹر عشرت العباد سے ہے۔

ایم کیو ایم پاکستان کی قیادت اور گورنر سندھ کی قلعی کھل گئی۔ جماعت اسلامی کے دعووں میں سچائی۔ میئر کراچی کے صرف (261) ووٹ، منتشر تحریک لبیک پہلے نمبر پر، ایم کیو ایم پاکستان اور ایم کیو ایم حقیقی کو عوام نے سیاست سے ریٹائرڈ کردیا۔ پی ٹی آئی کراچی کی غیر مقبول جماعت، حلیم عادل شیخ نے 139ووٹ لئے۔ فیصلہ سازقوتوں کے لئے لمحہ فکریہ

 

کراچی (خصوصی رپورٹ /ڈسٹرکٹ رپورٹر) سٹی 021نیوز کے الیکشن پول 2024نے کراچی کی سیاست کا منظر نامہ ہی بدل دیا ہے۔ ببدلتی ہوئی صورتحال کی عکاسی پول میں نظر آگئی۔ جو دلچسپ اور آئینے کی حیثیت رکھتی ہے۔ نتائج سیاسی مسخروں کے لئے عبرت ناک اور سبق آموز ہیں۔ان نتائج کا تفصیلی جائزہ پیش خدمت ہے۔ شکست خوردہ سیاسی افراد کے لئے تازیانہ عبرت ہے۔ نتائج کے مطابق پہلے نمبر پر تحریک لبیک پاکستان (TLP) کے حافظ سعد رضوی نے 7.5ہزار ووٹ حاصل کئے۔پچھلے انتخابات میں TLPنے کبھی کوئی نشست نہیں جیتی جو اس بات کا ثبوت ہے کہ انکا ووٹ بنک ابھی تک منتشر ہے۔ بانی ایم کیو ایم نے 2.2ہزار ووٹ حاصل کئے۔ جس سے ابتک انکا سحر نہ ٹوٹنے کا عندیہ ملتا ہے۔ حیرت انگیز نتیجہ میں ڈاکٹر عشرت العباد نے 1.4ہزار ووٹ لے کر تیسری پوزیشن حاصل کرلی۔ جبکہ انہیں صرف چھ ماہ سیاست میں متحرک ہوئے ہیں۔ اتنے کم وقت مقبولیت حاصل ہونے پر ڈاکٹر عشرت العباد ایک طاقتور سیاسی رہنما کے طور پر سامنے آئے ہیں۔جبکہ انہوں نے ابھی میری پہچان پاکستان کے نام سے کام شروع کیا ہے اور وطن میں موجود نہیں ہیں۔ پچھلے سروے میں عشرت العباد پہلے نمبر پر آئے تھے، جبکہ پورے سال کے سروے میں انکی پوزیشن تیسری آئی ہے۔ جماعت اسلامی نے چوتھی پوزیشن حاصل کی ہے۔ جماعت اسلامی نے 1.3ہزار ووٹ حاصل کئے۔ جماعت اسلامی ایک منظم جماعت ہے حافظ نعیم الرحمان نے کراچی کا امیر بننے کے بعد جماعت اسلامی میں نئی جان ڈالی۔ اصل حقیقت جو سامنے آئی ہے وہ یہ ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان نے ان نتائج میں جو ووٹ لئے وہ انہیں کراچی کا اسٹیک ہولڈر بھی ثابت نہیں کر رہے بڑے بڑے دعوی کرنے والے مصطفی کمال صرف (378)ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی (57) ووٹ، ڈاکٹر فاروق ستار (29) ووٹ، کامران ٹیسوری موجودہ گورنر سندھ کو (160) ووٹ حاصل کئے ہیں جو لمحہ فکریہ ہے۔ جس جماعت کے بڑی تعداد میں قومی اسمبلی، سندھ اسمبلی میں اراکین ہوں۔اسکے باوجود اسکے رہنماؤں کی کراچی کے عوام نے جو درگت بنائی ہے اس سے انکی عوامی حمایت نہ ہونے کا پول کھل گیا ہے۔ عوامی، سماجی اور سیاسی حلقوں نے انکی سیاست پر سوالات اٹھا دیئے ہیں۔دوسرا حیرت انگیز امر یہ ہے کہ میئر کراچی مرتضی وہاب جو پیپلز پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں صرف (261) ووٹ لے کر سوالیہ نشان اور انکا مینڈیٹ بھی واضع ہوگیا ہے۔ اس پول کے بعد میئر کراچی فادر آف سٹی کیسے کہلا سکتے ہیں۔انکے میئر بننے کے طریقہ کار اور جماعت اسلامی کے قبضہ میئر کا دعوی بھی جان پکڑ گیا ہے۔ پی ٹی آئی کا چہرہ بھی سامنے آگیا حلیم عادل شیخ کو صرف (139) ووٹ ملے۔ جس سے حقیقت حال سامنے آگئی۔ مہاجر قومی موومنٹ (حقیقی) کے چیئرمین آفاق احمد بھی بری طرح رد ہوئے ہیں۔انہیں (85) ووٹ ملے۔ بری طرح رد کئے جانے کے بعد انکی 30سالہ سیاست بھی سوالیہ نشان اور عوام کی جانب سے مکمل رد کرنے کے مترادف ہے۔ پول سے یہ بھی واضع ہوا ہے کہ ڈاکٹر خالد مقبول اور ڈاکٹر فاروق ستار کو عوام نے سیاست سے ریٹائرڈ کردیا ہے۔انہیں مذید سیاست کرنے کے بجائے سیاست سے مکمل الگ ہونے کا خاموش پیغام عوام نے دے دیا ہے۔ کراچی کی سیاست کا حیرت انگیز امر جو سامنے آیا ہے۔وہ یہ ہے کہ پاکستان سے باہر دو سیاسی رہنماؤں بانی ایم کیو ایم اور ڈاکٹر عشرت العباد خان کے درمیان مقابلے کی صورتحال سامنے آیا ہے۔ جبکہ دیگر رہنماؤں کی قلعی کھل گئی ہے۔موجودہ صورتحال میں عوام نے کراچی کی سیاست کے لئے جو پیغام دیا ہے۔ اب فیصلہ ساز قوتوں کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔ اس سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ جب حمایت غیر مقبول افراد کی جائے تو عوام کی انہیں تائید حاصل نہ ہونے کی وجہ سے وہ غیر مقبول افراد عوام کے غصے کا شکار تو ہوسکتے ہیں کیونکہ عوام کی بہتر منصف ہوتے ہیں مصنوعی قیادتیں اور میئر ہوں یا لیڈر عوام انکی حمایت نہیں کرتے اور یہ افراد عوام کی منشاء کے مطابق کام بھی نہیں کرتے۔کراچی کی سیاست میں مد مقابل وہی ہیں جنہیں عوام پسند کرتے ہیں۔ ڈاکٹر عشرت العباد نے جس تیزی سے ملکی سیاست میں جگہ بنائی ہے اور کراچی میں اپنی مقبولیت Intactرکھی ہے۔اس لئے اب فیصلہ سازوں کو ملکی سیاست سے مصنوعی سیاست دانوں کے بجائے کراچی سمیت ملک بھر میں مقبولیت حاصل کرنے والے پہلے رہنما ڈاکٹر عشرت العباد پر حیرت کے بجائے یہ سوچنا ہوگا کہ ملک سے باہر رہ کر بھی سیاسی کایا پلٹی جا سکتی ہے۔ اس لئے انہیں اس پول کی اہمیت اور سروے کو عوامی نوشتہ دیوار سمجھ کر فیصلے لینے ہوں گے۔

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button