کالمز

زندگی پلٹنے والا فن

حنان علی عباسی

آج میں انسانی دماغ اور اس کی پیچیدہ تاروں کے رازوں سے پردہ اٹھانے یہاں حاضر ہوں۔ میری یہ گفتگو ذہنی اور جذباتی صحت کے کچھ قیمتی رازوں پرمشتمل ہے۔

ساتھیو! ہم سب جانتے ہیں کہ ٹیکنالوجی کی انتہاؤں کو چھوتا جدید انسان اپنی شعوری شخصیت کھو کر ڈیٹا کےوسیع سمندر میں ڈوب رہا ہے۔ نئی تہذیب کا ہر سلجھا ہوا انسان کہیں نہ کہیں سے الجھا ملتاہے۔ مجھ سمیت ہر کوئی معلومات کی موسلا دھار بارش سے بھیگا ہے۔ مگر کوئی ہمیں یہ نہیں بتا رہا کہ بھائی ہمارے ذہنوں کو روزانہ دس گھنٹے تک سکرینوں کے مسلسل استعمال یا غصیلےتبصرے کرنےکے لیے نہیں بنایا گیا تھا۔

زمانہ جب سے جدید ہوگیا ہے
دلوں میں غم شدید ہوگیا ہے

ہمارے بچے، جوان اور بزرگ سب بے حد ڈیجیٹل ہوگئے۔ ایسے میں ہمارے وجود میں موجود مسلسل چلتی مشین (دماغ) سے دھیان دور ہو رہا ہے۔ اگر ہم نے اپنے آپ کو نئے دور کے مطابق (ری پروگرام) نہ کیا یا اندرونی تعمیرِ نو نہ کی تو ہماری لطیف ذات کا پھول مرجھا جائے گا۔

آگ کا کیا ہے پل دو پل میں لگتی ہے
بجھتے بجھتے اک زمانہ لگتا ہے

راحت کے راز ہمارے ذہن میں موجود ہیں۔ ڈیجیٹل دور میں اپنی آن لائن اور آف لائن زندگیوں کے درمیان توازن قائم کرکے ہی ہم اپنے جذباتی دنیا سدھار سکتے ہیں۔ یہ کوئی کتابی باتیں نہیں۔ نئی اعیجادات اور معلومات کے سیلاب سے اپنی ذات کو بچانے کے لیے بس ہمیں اندر بننے والی ایک بالکل نئی شخصیت کا مطالعہ کرنا ہے:

مدتیں ہو گئی حساب کیے
کیا پتہ کتنے رہ گئے ہیں ہم

چلیں سادگی سے یہ سمجھتے ہیں کہ شعوری اور لاشعوری ذہن یعنی Conscious and Subconscious Mind سوچ کی دو مختلف سیڑھیاں ہیں۔ شعور معلومات کو پروسیس کرتا ہے۔ جبکہ لاشعور معلومات اور واقعات کو سٹور کر لیتا ہے۔ شعور کا کام نئی معلومات، تاثرات اور جذبات کو چھان کر لاشعور کے مستقل ذخیرہ کو مہیاکرنا ہے۔ جبکہ لاشعوری دماغ دبی ہوئی خواہشات، یادوں اور جبلتوں کا ایک وسیع ذخیرہ ہے جو ہمارے عادتیں اور اعمال تشکیل دیتا ہے۔ یعنی لاشعوری ذہن سے نکلنے والی شخصیت ہی ہماری اصل شناخت ہوتی ہے۔

دنیا بدلنے والے ذہنوں نے ہمیشہ اپنے شعور کو مثبت سوچ سے پروان چڑھایا ہے۔ پیارے ساتھیو، اچھی سوچ سیکھنا وہ فن ہے جو انسان بچپن سے بڑھاپے تک سیکھتا رہتا ہے۔ اس ڈیجیٹل دور میں، ہمارا شعور سوشل میڈیا کے ساتھ جڑ چکا ہے، یہاں ہر اسکرول اور کلک ہمارے خیالات کو نئی شکل دیتا ہے۔ بس ہمیں کرنا یہ ہے کہ اپنی سوچ کومثبت خیالات سے بھرنا ہے۔

اس پیچیدہ عمل کی وضاحت کے لیے میں ایک سادہ سی مثال دیتا ہوں۔ آج سے گیارہ سال قبل جب میں نے نئی نئی گاڑی چلانا شروع کی تو آغاز میں انتہائی توجہ سٹیئرنگ، گیئر، کلچ اور بریک کے پیچیدہ میکانزم کی طرف ہوتی تھی۔ میں احتیاط کے ساتھ سڑک اور سکرین پر توجہ رکھتا تھا۔ تاہم، آہستہ آہستہ ہاتھ سیدھا ہوتا گیا۔ ڈرائیونگ کے تکنیکی امور لاشعور کی گہرائی میں اترتے گئےاور کچھ ہی دنوں میں، ڈرائیونگ میرے ذہن میں وہ آسان "پروگرام” بن گیا، جو آٹو پائلٹ پر چلنے لگا۔ ہماری زندگی میں ایسے بہت سے کام ہیں جوروح میں پیوست ہو جاتے ہیں اور ہمیں یوں لگتا ہےجیسے کسی ان دیکھے ہاتھ کی رہنمائی میں ہو رہے ہوں۔ اسی طرح جو ہم سوچتے ہیں وہ ہمارا (Thought Pattern ) زاویہ سوچ بن جاتا ہے۔ اسی طرح اگر ہم گھڑی بائیں ہاتھ میں باندھتے ہیں تو ہر مرتبہ بنا سوچےخود بخود گھڑی بائیں ہاتھ میں باندھ لیتے ہیں۔

ساتھیو اپنے برین کو وہ برتن سمجھو جس سے وہی چیز باہر آئے گی جو اس میں ڈالو گے۔ جو کچھ دیکھیں گے، پڑھیں گے، سنیں گے، یا جس قسم کے ماحول میں رہیں گے، اسی قسم کے خیالات آپ کی ذہنی زمین پر حکومت کریں گے۔ مطلب : جیسی صحبت ویسی سوچ۔ مجلس کا رنگ آپ کی سوچ پر ضرور چڑھتا ہے۔ اچھا سوچنے والوں کی دوستی بھی انسان کو اچھی شخصیت کا مالک بنا دیتی ہے۔

ساتھیو! راز یہ ہے کہ نئی معلومات دیکھنے کے لیےمقدار سے زیادہ معیار پر توجہ مرکوز رکھیں۔ تازہ دم ہونے کے لئے اپنے آپ کو اسکرینوں کی بیڑیوں سے آزاد کیجئے۔ ڈیجیٹل دنیا سے Disconnect ہونا ہمیں اپنی تھکی ہوئی ذہنی مشینری کو دوبارہ چارج کرنے کا موقع دیتا ہے۔ یہ عمل دماغ، جسم اور روح کے پودے کی پرورش کرتا ہے۔

انسان کے اندر ہر وقت اندرونی ابلاغ یعنی خود کلامی لاشعوری طورپر جاری رہتی ہے۔ یہی اندرونی مکالمہ ہماری بیرونی دنیا تشکیل دیتا ہے ۔جو لوگ منفی خود کلامی سے بچ جاتے ہیں وہی اس دنیا میں اپنے پوشیدہ خزانے سے کام لیتے ہیں۔ نفسیاتی تکلیفوں سے نجات کے لیےہپناسس، این ایل پی اور ایفرمیشن لاشعور کے انہی پہلووں کو فوکس کرتی ہے۔

نئے دور میں سکون کا سفر ایک نازک عمارت جیسا ہے، جو کسی بھی لمحے منہدم ہو سکتی ہے۔ اس تباہی کے ملبے کے اندر ہماری نفسیاتی صحت کی ممکنہ موت بھی ہو سکتی ہے۔ جیسے جیسے ہم نیوروبرین سائنس کے دلچسپ دائرے میں داخل ہوتے ہیں، ہمیں اُن اسباب کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے جو ہمارے خیالات، احساسات اور اعمال کو متاثر کرتے ہیں۔ اس لیےخیالات کو اچھی طرح سوچ سمجھ کر اپنی عادات اور کردار کا حصہ بنائیں۔

ذہن میں رُکی کسی مستقل پریشانی سے نجات کے لیے لاشعور میں چھپے خیالات کوذہن سے کھرچ دینا بہت ضروری ہے۔ میں ماہر نفسیات تو نہیں مگر دنیا کے تمام ماہرین نفسیات مختلف طریقوں سے لاشعور کو ری پروگرام کرنے کے لئےشعوری صحت پر ہی کام کرتےہیں۔ جس طرح ایک فنکار اپناشاہکار تخلیق کرنے کے لیے رنگوں اور ساخت کو ایک ساتھ بُنتا ہے، اسی طرح ہم اپنے اعصابی نظام کو اپنی مرضی سے دوبارہ پروگرام کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

اس سے قبل کہ ہمارے چھوٹے چھوٹے دکھ دائمی درد بن جائیں چلیں اپنی اندرونی دنیا کی دریافت پر نکلتے ہیں۔

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button