ریلوے پینشنرز ایسوسی ایشن کا حکومت سے پنشن میں کی گئی اصلاحات کو واپس لینے کا مطالبہ
آل پاکستان ریلویز پینشنز ایسوسی ایشن کا ایک ہنگامی اجلاس زیر صدارت چیئرمین محمد اسلم عادل بٹ منعقد ہوا، جس میں ویڈیو لنک کے ذریعے تمام قائدین نے شرکت کی اور پنشنرز کو درپیش مسائل اور ان کے حل کے سلسلے میں پیشرفت سے آگاہ کیا۔اس موقع پر جنرل سکریٹری اورنگزیب تنولی و دیگر قائدین کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے پینشن میں کی گئی اصلاحات ریٹائرڈ ملازمین کے ساتھ ظلم ہے،بیواؤں یتیموں اور بزرگ پینشنرز کو مزید مراعات دی جاتی ہیں تاکہ اس مہنگائی کے دور میں اپنی باقی زندگی سکون سے گزار سکیں ،مگر صد افسوس کہ جو مراعات حاصل تھیں،ان کو بھی نئی اصلاحات کا نام دے کر چھین لیا گیا، یا مراعات کو کم کر دیا گیا .اس ضمن میں یہ بات قابل ذکر ہے کہ جب سے پاکستان بنا ، اور پینشن دی جا رہی ہے، اس وقت سے اب تک حالات جیسے بھی ہوں ،حکومت نےپینشنرز کو اپنی استطاعت کے مطابق اضافہ دیا،مگر موجودہ حکومت نے رائج الوقت قوانین میں ترمیم کر کے پرانے طریقہ کار کو یکسر تبدیل کر دیا، پینشنرز کی پینشن میں اضافے کو دو سال کی مہنگائی کے تناسب سے منسلک کر دیا، یعنی دو سال کی مہنگائی کی شرح سے 80 فیصد اضافہ کیا جائے گا ،جو کہ ضعیف العمر پینشنرزکے ساتھ ظلم ہے ،اسی طرح فیملی پینشن میں یتیم بچوں اور بچیوں کے لیے 10 سال کے بعد پنشن ختم کرنا ظلم اور زیادتی ہے .آل پاکستان ریلوے پینشنرز ایسوسی ایشن حکومت وقت سے پر زور مطالبہ کرتی ہے کہ ان بیواؤں ،یتیم بچوں ، بچیوں اور ضعیف العمر پینشنرز پر رحم کیا جائے،پنشن میں کی گئی اصلاحات کو واپس لیا جائے ،سابقہ طریقہ کار کو بحال کیا جائے ،پینشن میں اسی طرح اضافہ کیا جائے جس طرح پہلے کیا جاتا تھا،فیملی پینشن میں 10 سال والی پابندی ختم کی جائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔


