آج کے کالمزکالمز

ربیع الاول کی آمد، محبتِ رسول ﷺ کی محافل سجنے لگیں

تحریر: چوہدری سجاد مشتاق مہر

 

ہجری سال کے بارہ مہینوں میں ربیع الاول ایک ایسا مہینہ ہے جو دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے خوشیوں، برکتوں اور رحمتوں کا پیغام لے کر آتا ہے۔ یہ وہ مہینہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے اپنی سب سے بڑی نعمت انسانیت کو عطا فرمائی۔ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ولادت باسعادت اسی ماہ میں ہوئی، اور یوں تاریک دنیا کو روشنی کا سہارا مل گیا۔
ربیع الاول آتے ہی دنیا بھر کے مسلمان اپنے گھروں، گلیوں، بازاروں اور مساجد کو سجا دیتے ہیں۔ چراغاں ہوتا ہے، محفلیں منعقد ہوتی ہیں، نعتوں کی گونج ہر سو پھیلتی ہے۔ گویا یہ مہینہ صرف ایک تاریخی یادگار نہیں بلکہ ایمان کو تازہ کرنے، محبتِ رسول ﷺ کے عہد کو دہرانے اور سیرتِ طیبہ کو اپنانے کا موقع ہے۔ربیع الاول کی آمد کے ساتھ ہی چھوٹے بڑے شہروں میں محافلِ میلاد سجنے لگتی ہیں۔ یہ محافل مسلمانوں کی محبت اور عقیدت کی زندہ مثال ہیں۔ ان محفلوں میں نعت خوانی ہوتی ہے، درود و سلام پڑھا جاتا ہے، اور نبی اکرم ﷺ کی حیاتِ طیبہ کے روشن پہلو بیان کیے جاتے ہیں۔یہ محافل دراصل ایک روحانی اجتماع کی صورت اختیار کر لیتی ہیں۔ ایک طرف محفل میں بیٹھنے والا دل کی دنیا کو سکون پاتا ہے اور دوسری طرف یہ پیغام بھی ملتا ہے کہ عشقِ رسول ﷺ کا تقاضا عملی زندگی میں سیرتِ رسول ﷺ کو اپنانا ہے۔ربیع الاول ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ محبتِ رسول ﷺ کا اصل مطلب محض نعرے لگانا یا محفلوں میں شریک ہونا نہیں بلکہ زندگی کو اسوۂ حسنہ کے مطابق ڈھالنا ہے۔اگر نبی کریم ﷺ نے سچائی کو بنیاد بنایا تو ہمیں جھوٹ سے اجتناب کرنا ہوگا۔اگر آپ ﷺ نے عدل قائم کیا تو ہمیں بھی انصاف کا دامن تھامنا ہوگا۔اگر آپ ﷺ نے صبر اور درگزر کو اپنایا تو ہمیں بھی اپنے غصے اور انا کو قابو میں رکھنا ہوگا۔محافلِ میلاد کی اصل روح یہ ہے کہ ہم اپنے دلوں اور اعمال کو حضور ﷺ کے پیغام کے مطابق سنواریں۔
نبی کریم ﷺ کی زندگی سراسر اخلاق کا پیکر تھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا”بیشک مجھے اس لیے بھیجا گیا ہے تاکہ میں اعلیٰ اخلاق کو کامل کر دوں۔”ربیع الاول کی محفلیں ہمیں یہ سبق دیتی ہیں کہ ہم اپنے اخلاق کو بہتر کریں۔ جھوٹ، فریب، غیبت، حسد اور کینہ کو دل سے نکالیں۔ سچائی، محبت، عاجزی اور ایثار کو اپنائیں۔ یہی محبتِ رسول ﷺ کا حقیقی تقاضا ہے۔محافلِ میلاد کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ یہ محافل مسلمانوں کو سماجی طور پر قریب کر دیتی ہیں۔ ایک محفل میں مختلف طبقوں کے لوگ اکٹھے بیٹھتے ہیں، ساتھ مل کے درود پڑھتے ہیں اور ایک ہی جذبے کے ساتھ نبی ﷺ کی شان بیان کرتے ہیں۔یہ اجتماع ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ معاشرتی تقسیم، ذات پات، لسانی اختلافات اور فرقہ واریت کو چھوڑ کر ہمیں ایک اُمت بننا چاہیے۔ ربیع الاول ہمیں یاد دلاتا ہے کہ مسلمان کا اصل تعارف اس کی محبتِ رسول ﷺ ہے، نہ کہ اس کی برادری یا فرقہ۔نبی کریم ﷺ نے تجارت کو امانت اور دیانت کے ساتھ کرنے کی تعلیم دی۔ آپ ﷺ کی عملی زندگی ہمیں بتاتی ہے کہ معاشی انصاف قائم کیے بغیر معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا۔ربیع الاول کے دن ہمیں یہ عہد کرنا چاہیے کہ ہم اپنے کاروبار کو حلال بنائیں گے، ملاوٹ سے بچیں گے، اور اپنے لین دین میں دیانت داری کو اپنائیں گے۔ یہی نبی ﷺ کی تعلیمات کا حصہ ہے۔رسول اکرم ﷺ نے رشتہ داروں کے ساتھ حسنِ سلوک کو ایمان کا حصہ قرار دیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ جو صلہ رحمی کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی عمر اور رزق میں برکت عطا فرماتا ہے۔ربیع الاول کی محافل ہمیں یہ سبق دیتی ہیں کہ رشتوں کو جوڑیں، ٹوٹے دلوں کو سنبھالیں اور محبت کو عام کریں۔ اگر ہم واقعی محبتِ رسول ﷺ کے دعوے دار ہیں تو ہمیں اپنے دلوں کو نفرت سے پاک اور محبت سے آباد کرنا ہوگا۔ربیع الاول کے دنوں میں گھروں اور مساجد کو سجانا، چراغاں کرنا اور روشنی پھیلانا ایک عام روایت ہے۔ لیکن اس سے بڑھ کر ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے دلوں کو نورِ ایمان سے منور کریں۔ اگر دل اندھیروں میں ڈوبا ہوا ہو تو گھروں کی روشنی کا کیا فائدہ؟ اصل چراغ وہ ہے جو باطن کو روشن کر دے، اور یہ چراغ تب جلتا ہے جب ہم حضور ﷺ کی تعلیمات پر عمل کرتے ہیں۔
ربیع الاول کی آمد مسلمانوں کے لیے خوشیوں کی نوید ہے۔ یہ مہینہ ہمیں عشقِ رسول ﷺ کا سبق دیتا ہے اور یاد دلاتا ہے کہ محبت محض الفاظ نہیں بلکہ عمل کا تقاضا کرتی ہے
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ ربیع الاول صرف ایک مہینہ نہیں بلکہ ایمان کی تجدید کا موقع ہے۔

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button