قومی

راولپنڈی، اسلام آباد میں ’’ایک اذان، ایک نماز‘‘ پر جلد عملدرآمد شروع کریں گے، سردار محمد یوسف

وفاقی وزیر مذہبی امور کی زیر صدارت مشاورتی اجلاس، تمام مکاتبِ فکر کے علماء کا یکساں اذان و نماز کے کیلنڈر کے اجرا پر اتفاق

وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف کی زیر صدارت راولپنڈی اور اسلام آباد میں یکساں اذان اور نماز کے نفاذ کے حوالے سے مشاورتی اجلاس جمعرات کو وزارت مذہبی امور میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں تمام مکاتبِ فکر کے جید علماء، مشائخ عظام اور تاجر برادری کے نمائندوں نے ’’نظامِ صلوٰۃ‘‘ پر سیر حاصل گفتگو کی اور فیصلہ کیا کہ جلد یکساں اذان اور نماز کا باقاعدہ کیلنڈر جاری کرتے ہوئے اس پر عملی عملدرآمد شروع کر دیا جائے گا۔

اجلاس کے آغاز پر خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے کہا کہ گزشتہ حکومت میں یکساں اذان اور نماز کا نفاذ کیا گیا تھا تاہم بعد ازاں حکومتوں کی تبدیلی کے باعث اس پر عملدرآمد رک گیا۔ انہوں نے کہا کہ اب اس سفر کو اتفاقِ رائے کے ساتھ دوبارہ آگے بڑھانے کے لیے یہ مشاورتی عمل شروع کیا گیا ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ جب راولپنڈی اور اسلام آباد میں دوبارہ یکساں اذان اور نماز کا آغاز ہو گا تو اس کے اثرات چاروں صوبوں سمیت گلگت بلتستان تک جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ وزارت مذہبی امور یکساں اذان اور جماعت کے نفاذ کے لیے قانون سازی پر بھی کام کر رہی ہے۔

سردار محمد یوسف کا کہنا تھا کہ اجلاس میں ہونے والی بامعنی گفتگو اور مفید مشاورت سے واضح رہنمائی حاصل ہوئی ہے جو مستقبل میں نماز باجماعت کے فروغ میں معاون ثابت ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ وزارت مذہبی امور ان مشاورتی اجلاسوں کی روشنی میں عملی، متوازن اور قابلِ قبول اقدامات کرے گی تاکہ نظامِ صلوٰۃ، اتحادِ امت اور دینی ہم آہنگی کو مزید فروغ دیا جا سکے۔

وفاقی سیکرٹری مذہبی امور ڈاکٹر ساجد محمود چوہان نے دفاتر اور تجارتی مراکز میں نماز اور وضو کے لیے جگہیں قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آج کے اجلاس میں تمام مکاتبِ فکر کے علماء اور تاجر برادری کا اتفاقِ رائے مثالی ہے اور اس مشن کو اسی جذبے سے آگے بڑھایا جانا چاہیے۔

ممبر مرکزی رویتِ ہلال کمیٹی مفتی ضمیر احمد ساجد نے کہا کہ یکساں اذان اور نماز کے لیے آسان اور مرحلہ وار طریقہ اپنانا چاہیے۔ انہوں نے تجویز دی کہ آغاز نمازِ جمعہ کے اوقات سے کیا جائے اور بعد ازاں دیگر نمازوں تک اس نظام کو وسعت دی جائے۔

مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کے صدر چوہدری محمد کاشف نے کہا کہ پاکستان کلمہ طیبہ کی بنیاد پر بنا ہے اور دینی معاملات میں اتحاد وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ نماز کے قیام سے معاشرے میں پاکیزگی، احترام اور محبت کا ماحول پیدا ہوتا ہے، جس سے رویے بہتر اور ایثار کا جذبہ پروان چڑھتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اسلام آباد میں اذان کے بعد دکانیں رضا کارانہ طور پر نماز کے لیے بند کرنے کے لیے تیار ہیں اور اس ضمن میں قانون سازی کی ضرورت پر زور دیا۔

نظامِ صلوٰۃ کمیٹی کے اراکین اور جید علماء نے یکساں اذان و نماز کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب دنیاوی معاملات میں اتحاد ممکن ہے تو خالقِ حقیقی کے حضور سجدہ ریزی کے لیے بھی ایک ہونا وقت کا تقاضا ہے۔ علماء نے مساجد میں خواتین کے لیے جگہ مختص کرنے اور محکمہ اوقاف سمیت تمام مساجد کی تزئین و آرائش کے لیے رکے ہوئے فنڈز فوری جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔

مشاورتی اجلاس میں مولانا سید چراغ الدین شاہ، مفتی ضمیر احمد ساجد، مولانا عبدالرزاق حیدری، مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کے صدر چوہدری محمد کاشف، نائب صدر پاکستان بزنس فورم ضیا احمد راجہ، علامہ سجاد نقوی، محمد شبیر علی خان، مولوی عبدالحکیم، پیر محمد ممتاز ضیا نظامی، علامہ ریاض الحق چشتی، مفتی عبدالسلام جلالی، مفتی جمیل الرحمن فاروقی، قاری محبوب الرحمن، قاری محمد یوسف اور وزارت مذہبی امور کے اعلیٰ حکام شریک تھے۔

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button