جج محمد سعید امجد نے زیراستعمال نان کسٹم پیڈ گاڑی اور ٹمپرڈ چیسز نمبر گاڑی حوالے کرنے کاحکم دیدیا۔
گزشتہ روز کیس پر سماعت کے دوران کسٹم ڈیپارٹمنٹ کے وکیل عباس خان سنگین ایڈوکیٹ عدالت میں پیش ہوئے ۔عدالت کو بتایا گیا کہ کوہاٹ روڈ پشاور میں کسٹم اہلکاروں نے ایک گاڑی کو روکاجسے ایکسائز اہلکار چلا رہے تھے جسکے بعد پولیس نے مذکورہ ٹیوٹا فیلڈر گاڑی جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے پیش کی اورمجسٹریٹ نے گاڑی ایکسائز ڈیپارٹمنٹ کو ریلیز کرنے کاحکم دیا تھا۔جس کیخلاف کسٹم ڈیپارٹمنٹ نے سیشن کورٹ میں سول رویژن کی درخواست دائر کی ۔اس موقع پر عباس خان سنگین ایڈوکیٹ نے بتایا کہ مذکورہ گاڑی کا چیسزنمبر مشکوک تھا اورایف ایس ایل رپورٹ کے مطابق چیسز نمبر میں ٹمپرنگ ہوئی ہے جبکہ نمبر پلیٹ بھی جعلی تھا جس پر مہران سوزوکی گاڑی کا نمبرپلیٹ لگایا گیا تھا۔ یہ گاڑی ایکسائز ڈیپارٹمنٹ نے پراونشل موٹروہیکل آرڈیننس 1965کے تحت ضبط کی تھی جو قانونی طور پر غلظ ہے۔ عباس خان سنگین ایڈوکیٹ نے دلائل دیئے کہ یہ نان کسٹم پیڈگاڑی ہے اور ایسی تمام این سی پی گاڑیوں کو کسی کو بھی استعمال کرنےکی اجازت نہیں ہے اور سپریم کورٹ اورپشاورہائیکورٹ فیصلوں کی روشنی میں اور کسٹم ایکٹ کے رو سے یہ این سی پی گاڑیاں قانونی طور پر کسٹم ڈیپارٹمنٹ کے حوالے کی جائیگی۔ ایکسائز افسران یا اہلکاروں کے پاس یہ اختیار نہیں کہ وہ ایسی گاڑیاں استعمال کریںکیونکہ آرٹیکل 142,143کے تحت اگر ایک معاملے پر وفاقی اورصوبائی قانون موجود ہو تو وفاقی قانون ہی لاگو ہوگا لہذا ایکسائز ڈیپارٹمنٹ کیجانب سے پکڑی گئی گاڑی قانونی طور پر نزدیکی کسٹم ہاﺅس منتقل کی جائیگی۔ عدالت نے دلائل مکمل ہونے پر ایکسائز ڈیپارٹمنٹ کو قبضے میں لی گئی گاڑی کلیکٹریٹ آف کسٹم (انفورسمنٹ )کسٹم ہاﺅس پشاور کے حوالے کرنے کے احکامات جاری کردیئے ہیں۔


