ہزارہ

ترجمان سندھ حکومت نادر گبول کا راولپنڈی چیمبر کا دورہ، راولپنڈی کی تاجر برادری کو "جنوب میں تعمیر” (Build in the South) کی دعوت

سندھ پوٹھوہار خطے کے لیے "اقتصادی گیٹ وے" کی حیثیت رکھتا ہے، سیاسی سرحدیں معاشی انضمام میں رکاوٹ نہیں بننی چاہئیں: نادر گبول

راولپنڈی: ترجمان سندھ حکومت نادر گبول نے راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (RCCI) کا سرکاری دورہ کیا اور صدر آر سی سی آئی عثمان شوکت سے ملاقات کی۔ انہوں نے پرتپاک استقبال پر آر سی سی آئی کی قیادت کا شکریہ ادا کیا اور قومی اقتصادی ترقی میں چیمبر کے فعال اور متحرک کردار کو سراہا۔
ملاقات کے دوران صدر عثمان شوکت نے وفد کو چیمبر کے اہم اقدامات اور آئندہ کے پروگراموں پر بریفنگ دی۔ انہوں نے آر سی سی آئی کے فلیگ شپ پروگرام ’ریوائیو پاکستان‘ (REVIVE Pakistan) انیشیٹو پر روشنی ڈالی جس کا مقصد قومی جذبے کو بیدار کرنا، سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنا اور اقتصادی ترقی کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں خیبرپختونخوا اور سندھ کے گورنر ہاؤسز میں کامیاب کانفرنسز منعقد کی گئیں جن میں تاجر برادری اور سفارتی کور نے شرکت کی تاکہ معاشی بحالی کے لیے قابل عمل حکمت عملی تیار کی جا سکے۔
ترجمان سندھ حکومت نے آر سی سی آئی کی کاوشوں کی تعریف کی اور مستقبل میں ایسے پروگراموں کے انعقاد کے لیے وزیراعلیٰ ہاؤس سمیت ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے سندھ کو خطہ پوٹھوہار کے لیے "اقتصادی گیٹ وے” قرار دیا اور پنجاب کے مینوفیکچررز اور برآمد کنندگان پر زور دیا کہ وہ سندھ کی اسٹریٹجک بندرگاہوں، اضافی توانائی کے وسائل اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (PPP) فریم ورک سے فائدہ اٹھائیں۔
ایگزیکٹو کمیٹی سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سیاسی سرحدیں معاشی انضمام میں رکاوٹ نہیں ہونی چاہئیں۔ انہوں نے ملک کے شمالی اور جنوبی خطوں کے درمیان خلیج کو کم کرنے کے لیے عملی لاجسٹکس اور صنعتی حل پیش کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔
پنجاب اور سندھ کی سرحد کے قریب نیشنل ہائی وے (N-5) پر واقع خیرپور اسپیشل اکنامک زون (KSEZ) کا ذکر کرتے ہوئے، انہوں نے اسے راولپنڈی کی صنعتوں کے پھیلاؤ کے لیے موزوں ترین مقام قرار دیا۔ انہوں نے تجویز دی کہ سندھ کے اضافی خام مال (خصوصاً کھجور اور کپاس) کو راولپنڈی کی پیکیجنگ اور لائٹ انجینئرنگ کی مہارت کے ساتھ جوڑ کر زرعی صنعتی تعاون (Agro-industrial collaboration) کو فروغ دیا جائے۔
توانائی کے شعبے پر گفتگو کرتے ہوئے ترجمان نے تھر کول پراجیکٹ اور گھارو-جہمپیر ونڈ کوریڈور کے ذریعے نیشنل گرڈ میں سندھ کے کردار کو اجاگر کیا اور کہا کہ سندھ کے وسائل پورے پاکستان میں صنعتی ترقی کو چلا رہے ہیں۔ انہوں نے نجی شعبے کو توانائی کی ذیلی خدمات میں سرمایہ کاری کی دعوت دی۔
سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھانے کے لیے انہوں نے سندھ کے پی پی پی (PPP) ماڈل کا حوالہ دیا جسے ’اکانومسٹ انٹیلی جنس یونٹ‘ نے ایشیا میں چھٹا بہترین ماڈل قرار دیا ہے۔ یہ ایک محفوظ اور خطرے سے پاک (De-risked) فریم ورک ہے جہاں حکومت سرمایہ کاروں کے ساتھ مالی ذمہ داری میں شراکت دار بنتی ہے۔
وفد نے انفراسٹرکچر کی بڑی ترقیوں بشمول شاہراہ شہید ذوالفقار علی بھٹو پر بھی روشنی ڈالی، جو کراچی پورٹ اور ایم-نائن (M-9) موٹر وے کے درمیان تیز رفتار اور ایکسس کنٹرولڈ لنک فراہم کرتی ہے، جس سے لاجسٹکس کے وقت میں نمایاں کمی آئی ہے۔
کاروبار میں آسانی (Ease of Doing Business) کے حوالے سے ’سندھ بزنس ون اسٹاپ شاپ‘ (SBOSS) کا ذکر کیا گیا، جو ایک ڈیجیٹل پورٹل ہے جس کے ذریعے 16 محکموں کی 130 سے زائد خدمات فراہم کی جا رہی ہیں، تاکہ سرمایہ کار مکمل شفافیت کے ساتھ آن لائن کام کر سکیں۔
ملاقات کے اختتام پر آر سی سی آئی کی قیادت کو دھابیجی اکنامک زون اور ایوارڈ یافتہ خیرپور اکنامک زون کے دورے کی دعوت دی گئی۔ اجلاس کا اختتام نادر گبول اور صدر عثمان شوکت کی جانب سے گل پلازہ سانحہ کے شہداء کے لیے فاتحہ خوانی اور دعائے مغفرت پر ہوا۔

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button