بھارت بین الاقوامی دہشت گردی کے ساتھ ساتھ جعلی ڈگریوں اور ویزوں میں بھی نمایاں پوزیشن حاصل کر چکا ہے۔
نئی دہلی — بھارت میں بین الاقوامی دہشت گردی کے ساتھ ساتھ جعلی ڈگریوں اور ویزوں کا کاروبار بھی بے حد بڑھ گیا ہے، جس سے نہ صرف ملک کی ساکھ متاثر ہو رہی ہے بلکہ لاکھوں افراد بھی دھوکے کا شکار ہو رہے ہیں

پولیس نے حال ہی میں ایک وسیع جعلی ڈگری ریکیٹ پکڑا، جس میں 100,000 سے زائد جعلی ڈگریاں اور سرٹیفکیٹس شامل تھیں۔
ریکیٹ نے 22 یونیورسٹیوں کی جعلی ڈگریاں تیار کر کے افراد کو فراہم کیں۔
متعدد لوگوں نے غیر قانونی ویزا اور تعلیمی مواقع کے لیے جعلی دستاویزات استعمال کیں۔
گرفتار مرکزی ملزمان کے بارے میں تحقیقات جاری ہیں، جن پر ملینز روپے کی مالی دھوکہ دہی کا الزام ہے۔
تلنگانہ ہائی کورٹ نے ایک ملازم کو پرانی جعلی ڈگری کیس کے باوجود بحال کیا، جبکہ راجستھان میں کئی ٹیچرز کی نوکریاں جعلی ڈگریوں کی بنیاد پر ختم کی گئی
ماہرین کے مطابق بھارت میں یہ دھوکہ دہی تعلیمی. سفری نظام کی شفافیت کے لیے خطرہ ہے۔ یونیورسٹیوں کی تصدیق، نیشنل اکیڈمک ڈپازٹری، اور ویزا چیکنگ سسٹمز کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے تاکہ بین الاقوامی سطح پر ملک کی ساکھ برقرار رہے۔


