ایران کا دعویٰ: سعودی عرب کے پرنس سلطان ائیر بیس پر میزائل حملہ
بحرین میں امریکی ففتھ فلیٹ کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ، ایران نے بجلی کے نظام پر حملے کی صورت میں سخت جواب کی دھمکی دے دی

مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں ایران نے سعودی عرب میں واقع اہم فوجی تنصیب، Prince Sultan Air Base، کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ ایران کے ختم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹر کے ترجمان کے مطابق اس اڈے پر بیلسٹک میزائلوں کے ذریعے حملہ کیا گیا، جس کا مقصد وہاں موجود امریکی فوجی سرگرمیوں کو نقصان پہنچانا تھا۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ ائیر بیس خطے میں امریکی فوج کے لیے ایک اہم مرکز کی حیثیت رکھتا ہے، جہاں سے جاسوس طیارے اور دیگر دفاعی آپریشنز چلائے جاتے ہیں۔ ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ ان میزائل حملوں میں امریکی جاسوس طیاروں کو نشانہ بنایا گیا، تاہم اس حوالے سے آزاد ذرائع سے تاحال تصدیق سامنے نہیں آئی۔
دوسری جانب ایران نے بحرین میں موجود امریکی بحری بیڑے، United States Fifth Fleet، کو بھی میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ یہ بیڑا خلیج میں امریکی مفادات کے تحفظ کے لیے نہایت اہم سمجھا جاتا ہے، اور اس پر کسی بھی قسم کا حملہ خطے میں بڑی فوجی کشیدگی کا سبب بن سکتا ہے۔
ادھر ایران کی اہم فوجی فورس Islamic Revolutionary Guard Corps (پاسدارانِ انقلاب) نے بھی ایک سخت بیان جاری کیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر امریکا یا اسرائیل کی جانب سے ایران کے بجلی کے نظام کو نشانہ بنایا گیا تو ایران بھی اسی نوعیت کا جواب دے گا۔
پاسداران انقلاب کے مطابق، اگر ایرانی پاور پلانٹس پر حملہ کیا گیا تو وہ اسرائیلی بجلی گھروں اور امریکی اڈوں کو بجلی فراہم کرنے والے نظام کو نشانہ بنانے سے گریز نہیں کریں گے۔ اس بیان کو خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں ایک واضح انتباہ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے بیانات اور دعوے مشرق وسطیٰ میں پہلے سے موجود تناؤ کو مزید بڑھا سکتے ہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان تعلقات پہلے ہی انتہائی کشیدہ ہیں۔ اگر ان دعوؤں کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ صورتحال ایک بڑے علاقائی تنازع میں بھی تبدیل ہو سکتی ہے۔
تاحال سعودی عرب، امریکا یا بحرین کی جانب سے ان دعوؤں پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جس کی وجہ سے صورتحال مزید غیر واضح ہے۔ تاہم عالمی برادری اس پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے، کیونکہ اس کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔


