یومِ پاکستان: پاکستان ہاؤس لندن میں پرچم کشائی کی باوقار تقریب، قومی عزم کی تجدید
ہائی کمشنر ڈاکٹر محمد فیصل کا خطاب، بانیانِ پاکستان کو خراجِ عقیدت، کشمیری عوام سے یکجہتی اور برطانیہ میں پاکستانی کمیونٹی کی خدمات کا اعتراف

لندن میں واقع پاکستان ہاؤس میں یومِ پاکستان کے موقع پر ایک سادہ مگر نہایت باوقار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں قومی پرچم کشائی کی مرکزی تقریب نے شرکاء کے دلوں میں حب الوطنی کے جذبات کو تازہ کر دیا۔ اس موقع پر برطانیہ میں پاکستان کے ہائی کمشنر ڈاکٹر محمد فیصل نے قومی پرچم لہرایا، جس کے ساتھ ہی فضا “پاکستان زندہ باد” کے نعروں سے گونج اٹھی۔ تقریب میں ہائی کمیشن کے اعلیٰ حکام، برطانوی و پاکستانی کمیونٹی کے معزز افراد، طلبہ، میڈیا نمائندگان اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔
یومِ پاکستان کی اس تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کے بعد قومی ترانہ پیش کیا گیا۔ تقریب کے دوران صدرِ پاکستان، وزیراعظم اور نائب وزیراعظم/وزیر خارجہ کے خصوصی پیغامات بھی پڑھ کر سنائے گئے، جن میں یومِ پاکستان کی اہمیت، قومی اتحاد، ترقی اور خودمختاری کے عزم کو اجاگر کیا گیا۔ ان پیغامات میں اس بات پر زور دیا گیا کہ پاکستان آج بھی انہی اصولوں پر قائم ہے جن کی بنیاد قائداعظم محمد علی جناح اور دیگر رہنماؤں نے رکھی تھی۔

ہائی کمشنر ڈاکٹر محمد فیصل نے اپنے کلیدی خطاب میں یومِ پاکستان کی تاریخی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ 23 مارچ کا دن ہمیں ان عظیم قربانیوں اور جدوجہد کی یاد دلاتا ہے جو برصغیر کے مسلمانوں نے ایک آزاد ریاست کے قیام کے لیے کیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ دن صرف جشن منانے کا نہیں بلکہ عہد کی تجدید کا بھی دن ہے کہ ہم اپنے ملک کی ترقی، استحکام اور خوشحالی کے لیے بھرپور کردار ادا کریں گے۔
انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ بانیانِ پاکستان نے ایک ایسا ملک قائم کرنے کا خواب دیکھا تھا جہاں مسلمان اپنی مذہبی، ثقافتی اور سماجی روایات کے مطابق آزادانہ زندگی گزار سکیں۔ آج ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اس خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لیے اپنی تمام تر توانائیاں صرف کریں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی قوم ہمیشہ سے ہی مشکلات کا سامنا ہمت اور ثابت قدمی کے ساتھ کرتی آئی ہے اور مستقبل میں بھی یہی جذبہ ہمیں آگے بڑھنے میں مدد دے گا۔
ڈاکٹر محمد فیصل نے پاکستان کی خارجہ پالیسی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہمیشہ سے خطے میں امن، استحکام اور باہمی احترام کا خواہاں رہا ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اپنی خودمختاری اور سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا اور اگر کسی بھی جانب سے جارحیت کی کوشش کی گئی تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ امن ہماری ترجیح ضرور ہے، لیکن قومی وقار اور دفاع ہر صورت مقدم ہیں۔

انہوں نے پاکستان ہائی کمیشن لندن کی کارکردگی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ حکومتِ پاکستان کی ہدایات کے مطابق کفایت شعاری کے اقدامات پر سختی سے عمل کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ان اقدامات کا مقصد وسائل کا بہتر استعمال یقینی بنانا ہے، تاہم اس سے ہائی کمیشن کی خدمات یا کارکردگی متاثر نہیں ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی کمیونٹی کو بہترین سہولیات فراہم کرنا ہماری اولین ترجیح ہے۔
تقریب میں برطانیہ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کی خدمات کو بھی بھرپور انداز میں سراہا گیا۔ ہائی کمشنر نے کہا کہ اوورسیز پاکستانی ملک کا قیمتی اثاثہ ہیں جو نہ صرف پاکستان کی معیشت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں بلکہ دنیا بھر میں پاکستان کا مثبت تشخص بھی اجاگر کرتے ہیں۔ انہوں نے مختلف شعبوں جیسے تعلیم، صحت، کاروبار، سیاست اور سماجی خدمات میں پاکستانی نژاد افراد کی کامیابیوں کو پاکستان کے لیے باعثِ فخر قرار دیا۔
ڈاکٹر محمد فیصل نے اپنے خطاب میں مسئلہ کشمیر کا بھی خصوصی طور پر ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بھارت کے غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ اپنی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی قراردادوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کشمیری عوام کو ان کا حقِ خودارادیت دیا جانا چاہیے، اور پاکستان اس مقصد کے لیے سفارتی، اخلاقی اور سیاسی حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اس دیرینہ تنازع کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔
تقریب کے دوران مقررین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ نوجوان نسل کو پاکستان کی تاریخ، نظریہ اور قربانیوں سے آگاہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان ہی پاکستان کا مستقبل ہیں، اور اگر انہیں درست سمت دی جائے تو وہ ملک کو ترقی کی نئی بلندیوں تک لے جا سکتے ہیں۔
یومِ پاکستان کی یہ تقریب نہ صرف ایک رسمی تقریب تھی بلکہ اس نے بیرون



