ہزارہ

ایبٹ آباد میں ٹریفک نظام کی ناکامی، کمسن بچوں کی جانیں ضائع، عوام میں شدید غم و غصہ

اسلام اباد  خیبر پختونخوا کے اہم ترین اور حساس ضلع ایبٹ آباد میں ٹریفک کا نظام مکمل طور پر بری طرح ناکام ہو چکا ہے۔ آئے روز حادثات معمول بن چکے ہیں جبکہ حالیہ افسوسناک واقعے میں تیز رفتار ڈمپر ڈرائیور نے پانچ معصوم بچوں کو کچل ڈالا۔ دل دہلا دینے والے اس حادثے میں دو سگی بہنوں سمیت تین بچے جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہوگئے۔ ڈمپر ڈرائیور حادثے کے بعد موقع سے فرار ہو گیا اور تاحال روپوش ہے۔
شہریوں کے مطابق ایبٹ آباد شہر میں جگہ جگہ غیر قانونی اڈے قائم ہیں، جہاں مین سڑک پر ہی مسافروں کو جانوروں کی طرح اتارنے اور بٹھانے کا سلسلہ جاری ہے۔ غیر قانونی سوزوکی اڈوں کے باعث نہ صرف ٹریفک جام معمول بن گیا ہے بلکہ ان اڈوں سے انتظامیہ اور ٹریفک حکام کے بعض اہلکار مبینہ طور پر بھتہ وصول کرتے ہیں۔

 


عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ شہر کے اندر تیز رفتار گاڑیوں کی ریسیں روز کا معمول بن چکی ہیں اور ان ظالم ڈرائیوروں نے شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ کمسن بچوں کا اسکول جاتے ہوئے ڈمپر تلے آنا ایک بڑا سانحہ ہے جس نے پورے ایبٹ آباد کو سوگوار اور عوام کو مشتعل کر دیا ہے۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ ایبٹ آباد شہر میں نہ کوئی ٹریفک افسر موجود ہے اور نہ ہی کوئی اہلکار اپنی ذمہ داریاں نبھا رہا ہے۔ شہریوں نے انسپکٹر جنرل پولیس خیبر پختونخوا سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر اس افسوسناک واقعے کا نوٹس لیا جائے، ڈمپر ڈرائیور کو گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دی جائے اور ایبٹ آباد میں ٹریفک کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button