ہزارہ

ایبٹ آباد انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن بورڈ لاوارث۔

ہری پور  گزشتہ میٹرک اور ایف ایس سی امتحانات و نتائج کی ناقص کارکردگی پر عوامی حلقوں میں سخت تشویش اور بے چینی پائی جاتی ہے۔

عوامی، سماجی اور سنجیدہ حلقوں کی طرف سے صوبائی وزارتِ تعلیم، وفاقی وزارتِ تعلیم اور اربابِ اختیارات کی توجہ مبذول کروائی جا رہی ہے کہ گزشتہ تین چار سالوں سے تعلیمی بورڈ کی کارکردگی انتہائی تسلی بخش رہی۔ چند ماہ پہلے بورڈ کے کہنہ مشق ماہر تعلیم چیئرمین محمد شفیق اعوان کے جانے کے بعد ایک بار پھر شکایات اور مسائل نے سر اُٹھایا۔ گُزشتہ میٹرک کے امتحانات و نتائج اور حالیہ انٹرمیڈیٹ کے امتحانات و نتائج پر عوامی حلقوں، طلباء وطالبات میں بے چینی اور اشتعال دیکھا گیا ہے۔ بعض کے مطابق اس سے قبل امتحانات میں بھرپور امتحانی سینٹروں کی چیکنگ، سٹاف کی ڈیوٹیوں اور بھوکی مافیا کا قلعہ تمع ہوا۔ میرٹ اور نتائج میں تمام معاملات کی باریک بینی کو مدنظر رکھا جاتا تھا لیکن حالیہ نتائج مایوس کُن ہیں۔ چیئرمین بورڈ کی زمہ داریاں کمشنر ہزارہ کو سونپی گئی ہیں جو سمجھ سے بالاتر ہے۔ کمشنر ہزارہ کی زمہ داریاں دیگر اہم معاملات پر زیادہ فوکس ہوتی ہیں۔ اور یہ بورڈ کا انتظام ایک ماہر تعلیم اور کہنہ مشق کا کام ہے۔ چائیے تو یہ تھا کہ نیا چیئرمین آنے تک گزشتہ چیئرمین کو ہی یہ زمہ داریاں دی جاتیں اور سنجیدہ حلقوں کے مطابق گزشتہ منعقدہ میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے امتحانات و نتائج کا آڈٹ کیا جائے کہ نتائج آنے کے بعد طلباء وطالبات کے مطابق ہماری محنت سراسر رائیگاں گئی۔ بعض کے مطابق پیپروں کی چیکنگ اور بعد میں ٹیگنگ میں ڈنڈی ماری گئی ہے۔ بہت سے پوزیشن ہولڈر بچے محروم ہوئے اور بہت سے بے پرواہ فیضیاب ہوئے۔ جانے والے بورڈ کے سربراہ نے اپنا کام اور کردار زندہ رکھا۔ میرٹ کو اولیں ترجیح دی۔ اُن کی موجودگی میں کبھی ایسے مسائل پیدا نہ ہوئے۔ کبھی فیسوں میں اضافہ، کبھی پیپروں میں چیکنگ اور ری ٹوٹلنگ میں مسائل اور امتحانی سینٹروں میں بھوکی مافیا نے جی بھر کر پیاس بجھائی۔ عوامی، سماجی، سنجیدہ حلقوں نے اِن مسائل کے تدارک کے لیے محمد شفیق اعوان کو ایک بار پھر زمہ داری دیکر اُن کی خدمات سے فائدہ اُٹھانے کا مطالبہ کیا ہے۔

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button