کالمز

امید نو۔۔۔۔باز نو

تحریر: عامر علی بانواز


پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے لئے تمام قوموں، مزاہب، اور ثقافتوں کا یکجاں ہونا ضروری ہے۔ اتحاد ہی وہ قوت ہے جو کسی بھی ملک کو درپیش چیلنج کا مقابلہ کرنے اور ایک روشن مستقبل کی جانب بڑھنے میں مدد دیتی ہے۔ اگر ہم باہمی اختلافات کو پس پشت ڈال کر مل کر کام کریں تو نہ صرف معیشت مستحکم ہوگی بلکہ سماجی ہم آہنگی بھی بڑھے گی۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے بھی ایمان، اتحاد،یقین، تنظیم اور قربانی کا درس دیا ہے۔ تاکہ ہم ایک مضبوط، خود مختاراور خوشحال ملک بن سکیں۔ پاکستان کے بہتر مستقبل کے لئے پاکستان میں بسنے والی تمام اکائیوں کے ساتھ اقلیتوں اور تمام لسانی گروہوں کو کو ایک قوم بن کر ملک کی ترقی، استحکام، کے لئے یکجہتی، ہم آہنگی، کے لئے کردار ادا کرنے سے ممکن ہے۔ اگر پاکستانی قوم مستحکم و متحد ہوگی تو ااندرونی و بیرونی تمام دشمنوں کی سازشیں ناکام ہونگیں۔ پاکستان مستحکم، خوشحال اور ترقی یافتہ ملک بن سکے گا۔ پاکستان میں بسنے والی تمام اکائیوں، قومیتوں م، مختلف مزاہب سے تعلق رکھنے والے پاکستان میں موجود سیاست داں، مختلف مزاہب کے روحانی پیشوا، دانشور اور مختلف مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد اگر بہترین کردار ادا کریں۔سیاسی، مزہبی اور لسانی گروہ بندی کا شکار نہ ہوں تو ملک میں کبھی عدم استحکام اور غیر یقینی کی کیفیت نہ ہو حکومت کی گڈ گورننس بھی اس میں اہم جز ہے۔ اسی افراتفری اور ملک میں Nepotism کی سیاست اور مختلف افراد کے کردار کے بعد ایک نام ایسا بھی دیکھنے میں آرہا ہے۔ جو گزشتہ دو برس سے پاکستان میں بسنے والی تمام قومیتوں اقلیتوں، مختلف مزاہب سے تعلق رکھنے والوں، پاکستان کے سیاسی قائدین، تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے علماء، مزہبی شخصیات، لسانی سیاست اور ملک میں اہم کردار رکھنے والی شخصیات سے مستقل رابطے میں ہیں۔ جنکا نکتہ نظر یہ ہے کہ ہم ایک قوم پاکستانی قوم بن کر پاکستان کی ترقی، تعمیر، سا لمیت، بقاء اور ریاستی اداروں کی مضبوطی کے لئے ایک پلیٹ فارم ایک سوچ ایک نظریہ کے تحت متحد و منظم ہوں۔ یہ نام سابق گورنر سندھ نشان امتیازاور قومی سیاست میں بہترین کردار ادا کرنے والے ڈاکٹر عشرت العباد خان کا ہے۔جنکی پوری ایک تاریخ ہے۔ ماضی میں ہاوسنگ، ٹاؤن پلاننگ کی کامیاب وزارت چلانے کے بعد 14سال گورنر سندھ کی حیثیت سے ملک میں اہم اور معتدل مزاج گورنر کی حیثیت سے خدمات سر انجام دیتے رہے۔ انہوں نے اپنے گورنر سندھ کے ٹرن اوور میں پاکستان، سری لنکا اور انڈیا کے نیوی افسران کو بحری قذاقوں سے بازیاب کرانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔صرف یہی نہیں کراچی سمیت پورے سندھ میں تعمیر و ترقی اور امن وامان کا سہرا بھی انہی کو جاتا ہے۔ ڈاکٹر عشرت العباد خان نے اپنے گورنری کے دور میں پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن)، مسلم لیگ (ق)،ایم کیو ایم اور فنکشنل لیگ کی حکومتوں میں اپنی خدمات سرانجام دیں۔انکی قائدانہ صلاحیتوں اور مدبرانہ سوچ کے سب قائل رہے۔انہوں نے سندھ کے پیچیدہ مسائل کے ساتھ ساتھ، پنجاب، کے پی کے، بلوچستان کے صوبائی مسائل اور وفاقی حکومت کے درپیش مسائل میں بھی پل کا کردار ادا کیا۔ انکی مثبت سوچ کے سب داعی تھے۔ گورنری سے فارغ ہونے کے بعد بھی وہ ملک کی سیاست اور ملک کو درپیش مسائل سے ہر لمحہ آگاہ رہے اور گزشتہ دوسال میں اپنے کردار کو محسوس کرتے ہوئے قومی سوچ کے ساتھ ایک پلیٹ فارم اور ملک کے خلاف مہم سازی کے خلاف ملک کے 24کروڑ عوام کو’ میری پہچان پاکستان‘ کا سلوگن دیا اور قوم میں ایک نئی روح پھونکی ریاست پہلے سیاست بعد میں کی سوچ کو پروان چڑھایا۔ یہی وجہ ہے کہ انکے مثبت کردار کی وجہ سے ملک بھر کے لوگ پاکستان، کشمیر، گلگت بلتستان تک انکے نعرے کے ساتھ جڑتے جا رہے ہیں۔پاکستان کے ہر شہر گاؤں۔ قصبوں، گوٹھوں، میں پہلی مرتبہ ڈاکٹر عشرت العباد کو ویلکم کیا گیا ہے۔ پاکستان کے دانشور، ادیب، شعراء، سیاسی مبصرین، اور ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر عشرت العباد کی آواز کے ساتھ ہم آہنگ ہیں۔ پاکستان کی تعمیر و ترقی اور دیرنیہ مسائل کے حل کے لئے وہ ڈاکٹر عشرت العباد کو ناگزیر سمجھتے ہیں۔ انہیں رہنما مان کر سب انکے ساتھ جڑنے کے لئے تیار ہیں۔ڈاکٹر صاحب ملکی معیشت کی بحالی، مثبت سوچ، مایوسی کے خاتمے اور ملک میں استحکام کے لئے مسلسل کاوشوں میں ہیں جسکے ثمرات نظر آرہے ہیں۔ آئندہ حالات میں ملک میں روایتی سیاست دانوں کے بجائے عوام میں حب الوطنی اور وطن پرستی اور ڈاکٹر عشرت العباد کے لئے عوام میں مقبولیت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ ملک کی فیصلہ ساز قوتیں پاکستان میں کرپشن اور قرضوں کے بوجھ تلے عوام اور ملک کو درست راہ پر لانے کے لئے اگر پرانی روش کے برعکس اگر نئی سوچ کی پزیرائی کرتی ہیں تو یہ ملک کو معاشی بھنور سے نکالنے اور ملک میں بہتری سرمایہ کاری اور حالات کی درستگی کے لئے ڈاکٹر عشرت العباد سے بہتر کوئی چوائس نہیں۔ اب یہ دیکھنا ہے کہ فیصلہ ساز قوتیں کیا فیصلہ کرتی ہیں کیونکہ ملک بار بار کے تجربات اور آزمائے ہوئے سیاسی ماحول کے بجائے معتدل مزاج اور سنجیدہ افراد ڈاکٹر عشرت العباد جیسی سوچ کے سیاسی قومی اور بہترین منتظم کا متقاضی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button