امریکہ کی سپریم کورٹ کے فیصلے پر غصہ، ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی ٹیرف 10 فیصد سے بڑھا کر 15 فیصد کر دیا
امریکی صدر کا اعلان: دنیا بھر کے ممالک پر عائد عالمی ٹیرف کو 15 فیصد تک بڑھا رہا ہوں

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ کی سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کے بعد عالمی سطح پر تجارتی پابندیوں میں اضافہ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ بطور امریکی صدر دنیا بھر کے ممالک پر پہلے سے عائد 10 فیصد عالمی ٹیرف کو بڑھا کر 15 فیصد کر رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ یہ اقدام امریکی معیشت کے تحفظ، مقامی صنعتوں کی مضبوطی اور تجارتی توازن کو بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ نے گزشتہ برسوں میں غیر منصفانہ تجارتی پالیسیوں کا سامنا کیا ہے، اور اب یہ قدم قومی مفاد کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہو گیا ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق عالمی ٹیرف میں یہ اضافہ عالمی تجارت پر نمایاں اثر ڈال سکتا ہے، جبکہ مختلف ممالک کی جانب سے اس کا جواب بھی متوقع ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے نہ صرف درآمدات متاثر ہوں گی بلکہ عالمی مارکیٹ میں قیمتوں میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے اثرات صارفین اور کاروباری اداروں دونوں پر پڑیں گے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ان کا مقصد صرف امریکہ کے کاروباری حلقوں اور صنعتوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مقامی صنعتیں عالمی مقابلے میں نقصان اٹھا رہی ہیں، اس لیے ٹیرف میں اضافہ کرکے امریکی مصنوعات کو ترجیح دی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ فیصلہ عارضی نہیں بلکہ ملکی مفاد میں طویل مدتی حکمت عملی کے تحت کیا گیا ہے۔
عالمی سطح پر ردعمل
ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد دنیا کے کئی ممالک نے خدشات کا اظہار کیا ہے۔ چین، یورپین یونین اور دیگر تجارتی شراکت داروں نے کہا ہے کہ یہ فیصلہ بین الاقوامی تجارت کے لیے غیر مستحکم صورتحال پیدا کر سکتا ہے۔ بعض ممالک نے کہا کہ اگر امریکہ نے ٹیرف میں اضافہ کیا تو وہ بھی جوابی اقدامات کرنے پر مجبور ہوں گے، جس سے تجارتی کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق اگرچہ ٹیرف کا مقصد امریکی مصنوعات کی حفاظت اور مقامی صنعتوں کی ترقی ہے، لیکن اس کے عالمی اثرات بھی نظرانداز نہیں کیے جا سکتے۔ تجزیہ کاروں نے یہ بھی کہا کہ اس اقدام سے عالمی سطح پر اقتصادی غیر یقینی صورتحال میں اضافہ ہوگا اور صارفین کے لیے اشیاء کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں۔
امریکی عوام اور کاروباری حلقوں کی رائے
امریکہ کے کاروباری حلقوں نے صدر ٹرمپ کے اس فیصلے کا خیرمقدم بھی کیا ہے اور تنقید بھی کی ہے۔ کچھ صنعتکاروں نے کہا کہ یہ اقدام ان کے لیے مفید ہے کیونکہ اس سے درآمدی مصنوعات پر دباؤ بڑھے گا اور امریکی مصنوعات کی مانگ میں اضافہ ہوگا۔ دوسری جانب چھوٹے کاروباری اداروں نے خدشہ ظاہر کیا کہ بڑھا ہوا ٹیرف درآمدات کی قیمتیں بڑھا دے گا اور کاروبار پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔
امریکی عوام میں بھی اس اعلان پر مختلف ردعمل سامنے آئے ہیں۔ کچھ شہری صدر کے فیصلے کو ملکی مفاد میں درست قرار دے رہے ہیں، جبکہ دیگر نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس سے قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے اور روزمرہ کی ضروریات مہنگی ہو جائیں گی۔
سیاسی اثرات
یہ اقدام صدر ٹرمپ کے سیاسی کیریئر پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔ انتخابی سال کے قریب یہ فیصلہ ان کے حمایتی حلقوں میں مقبول ہو سکتا ہے، کیونکہ وہ اسے امریکہ کی حفاظت کے لیے ضروری اقدام کے طور پر پیش کر سکتے ہیں۔ تاہم مخالفین اس اقدام کو غیر ذمہ دارانہ اور عالمی تعلقات کے لیے نقصان دہ قرار دے رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق عالمی ٹیرف میں اضافہ امریکی معیشت کو وقتی طور پر فائدہ دے سکتا ہے، لیکن طویل مدتی میں اس کے اثرات مختلف ہو سکتے ہیں۔ اگر دیگر ممالک نے جوابی اقدامات کیے تو امریکی مصنوعات کی برآمدات متاثر ہو سکتی ہیں اور عالمی سطح پر کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔
صدر ٹرمپ کے مطابق یہ فیصلہ امریکہ کے لیے غیر متزلزل مفاد میں کیا گیا ہے اور اس سے امریکی صنعتیں مضبوط ہوں گی، روزگار کے مواقع بڑھیں گے اور عالمی تجارتی تعلقات میں امریکہ کی پوزیشن مستحکم ہو گی۔
رپورٹ: عبدالمومن



