عالمیقومی

اسرائیل کی جانب سے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنا بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے، اسحاق ڈار

نائب وزیراعظم کا او آئی سی وزرائے خارجہ اجلاس میں صومالیہ کی خودمختاری، وحدت اور علاقائی سالمیت کی بھرپور حمایت کا اعادہ

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے اسرائیل کی جانب سے صومالیہ کے صومالی لینڈ خطے کو تسلیم کرنے کے اعلان کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے صومالیہ کی خودمختاری، وحدت اور علاقائی سالمیت پر براہِ راست حملہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور کی کھلی اور سنگین خلاف ورزی ہے، جس کے دور رس منفی اثرات نہ صرف ہارن آف افریقہ بلکہ ریڈ سی خطے اور عالمی امن و سلامتی پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

او آئی سی کونسل آف فارن منسٹرز کے غیر معمولی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نائب وزیراعظم نے واضح کیا کہ پاکستان صومالیہ کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ سرحدوں کے تحفظ کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صومالیہ کی سرحدیں ناقابلِ تنسیخ اور مقدس حیثیت رکھتی ہیں اور صومالی لینڈ صومالیہ کا اٹوٹ، ناقابلِ تقسیم اور لازمی حصہ ہے۔

اسحاق ڈار نے اسرائیل کے اس اعلان اور بعد ازاں صومالی لینڈ میں اسرائیلی وزیر خارجہ کے اشتعال انگیز دورے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے اقدامات خطے میں عدم استحکام کو ہوا دینے کے مترادف ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی بیرونی طاقت کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ کسی خودمختار ریاست کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرے یا اس کی علاقائی ساخت کو تبدیل کرنے کی کوشش کرے۔

نائب وزیراعظم نے کہا کہ ریاستی خودمختاری اور علاقائی سالمیت بین الاقوامی قانون کے بنیادی اور لازمی اصول ہیں، جن سے کسی صورت انحراف یا ان کی خلاف ورزی قابلِ قبول نہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ کسی بھی ریاست یا بیرونی ادارے کی جانب سے صومالیہ کے کسی حصے کو تسلیم کرنے کا کوئی قانونی یا اخلاقی جواز موجود نہیں، اس لیے ایسے تمام اقدامات کو کالعدم اور غیر مؤثر سمجھا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنا کوئی سفارتی عمل نہیں بلکہ سیاسی جارحیت ہے، جو ایک خطرناک مثال قائم کر سکتی ہے۔ اس قسم کے اقدامات اگر روکے نہ گئے تو مستقبل میں دیگر ممالک بھی اسی روش کو اپناتے ہوئے بین الاقوامی نظام کو شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

اسحاق ڈار نے بتایا کہ پاکستان نے او آئی سی کے رکن ممالک کے ساتھ مل کر اس غیر قانونی اقدام کو یکسر مسترد کیا ہے اور اس حوالے سے جاری کیے گئے مشترکہ بیان کی بھرپور حمایت کی ہے۔ مشترکہ بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ کسی ریاست کے حصے کو تسلیم کرنا بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے اور اس کے خطے اور عالمی سطح پر سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ او آئی سی اور عالمی برادری کی جانب سے اس غیر قانونی اقدام کو مسترد کرنا نہایت ضروری ہے تاکہ اس طرح کے اقدامات کو مستقبل میں نظیر بننے سے روکا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر عالمی برادری نے بروقت اور مضبوط ردعمل نہ دیا تو یہ عمل دیگر تنازعات کو بھی جنم دے سکتا ہے۔

نائب وزیراعظم نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صومالیہ سیاسی اور ادارہ جاتی سطح پر مثبت پیش رفت کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صومالیہ نے قومی مفاہمت، آئینی اصلاحات اور ریاستی اداروں کی بحالی کے شعبوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں، جو ملک کے جمہوری مستقبل کے لیے نہایت اہم ہیں۔

اسحاق ڈار کے مطابق صومالیہ کے مالیاتی شعبے میں بھی مثبت تبدیلیاں دیکھنے میں آ رہی ہیں، خصوصاً اقتصادی قانون سازی اور ایک فرد ایک ووٹ کے اصول پر مبنی جامع انتخابات کی جانب پیش رفت جمہوری استحکام کے لیے حوصلہ افزا اقدامات ہیں۔ ایسے نازک مرحلے پر کسی بھی بیرونی مداخلت سے ان مثبت کوششوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ صومالیہ کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے متحد ہو کر کردار ادا کرے اور ایسے تمام اقدامات کی مذمت کرے جو بین الاقوامی امن کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button