افسوس افسوس اور صد افسوس اج تیسرا دن ہے جو میں نے مدینہ منورہ میں بدر میں اور جدہ میں گزارا ایک اونٹنی کا پاؤں کٹنے پر میرا دل اور پریشان ہو اور یہاں پہنچ کر ایک تصویر دیکھ کر مجھے ایسا لگا کہ انسان جو ہے وہ اللہ کا شکر ہے کسی مرد نے یہ کام کیا ہوگا کہ ایک اچھی خاصی خاتون کے منہ کے اوپر تیزاب پھینک کر اس کی زندگی اچیرم بنا دی ہے وہ چھوٹی سی اونٹنی اس کے انسو نکلے تو مجھے وہ اونٹ یاد ا گیا جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے سامنے ا کے رویا کہ میرا مالک مجھ سے بہت کام لیتا ہے اور کھانے کو کچھ نہیں کہ تا اپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اس پر غصہ کیا اور کہا کہ جانوروں کو عذاب نہ دیا کرو ہم اسی رسول پہ امتی ہیں کہ جنہوں نے خواتین کو عزت دلائی اور تاریخ میں پہلی مرتبہ عورت کو اس کا حق دلایا ظالم انسان ہو سکتا ہے اس بہن نے اور اس بیٹی نے کوئی غلطی کی ہو لیکن اس کا اجر اس کو یہ دینا اور اس کا چہرہ بگاڑ دینا یہ بہت بڑی غلطی ہے کاش پاکستان میں سے حیوان جانور نہ ہوتے پچھلی دفعہ ایک عورت نے پاکستان کا یہی چہرہ فلم بنا کے پوری دنیا کو دکھایا تھا تو میں بہت غصے ہوا تھا پاکستان کے کچھ علاقوں میں اج کل بھی یہ رواج جاری ہے کہ عورت کو کاری کر کے اس کا سر قلم کر دیا جاتا ہے اور پھر جس شخص کے ساتھ وہ قاری ہوتی ہے اس کو بھی قتل کر دیا جاتا ہے پھر وہ اج بھی ہمارے پاکستان کے بڑے صوبے میں جاری و ساری ہے اور بڑے سے تھوڑے چھوٹے صوبے میں تو اور زیادہ ہوتا ہے جس شخص کو بھی اگر اپ دشمنی کا نشانہ بناتے ہو تو ایک عورت کو مار کر اس کی زندگی اجیرن کر دیتے ہیں اس قسم کے واقعات اپ دیکھیں جس بندے کو اگر یہ کہہ دیا جائے کہ اس کے پورا قبیلہ اس کے پیچھے پڑ جاتا ہے کہ یہ اس نے ہماری عورت کے ساتھ برا سلوک کیا ہے اور اس کا انجام موت ہوتا ہے یا پھر جس چیز کے لیے وہ کما کرتے ہیں زمین جائیداد اس سے اس اس کا حامد الگ کر دیا جاتا ہے ایسے واقعات بہت سے ہو چکے ہیں یہ صرف پاکستان کے صوبے سندھ میں ہی نہیں ہوتا بلکہ ہر جگہ ہر شہر اور ہر موڑ پر یہ غیرت کے نام پہ قتل بھی ہو جاتے ہیں پچھلے دنوں سکھر میں ایک ہندو عورت کے ساتھ بھی ایسے ہی واقعہ ہوا انڈیا کے چینلز میں شور مچ گیا لیکن انڈیا اپنے گریبان میں جا کے تو اس کے ہاتھ میں بھی بے رحم مسلمانوں کا خون ہے باقی رہی بات ہمارے ہاں کہ ہندو ممبران یہ الزام لگاتے ہیں کہ ان کی عورتوں کو جبرا مسلمان کیا جا رہا ہے اس بات کی تحقیق کے لیے میں خود گھوٹکی گیا ہوں دراصل ہندو مذہب چار طبقوں میں پڑا ہوا ہے چوتھے طبقے کی زندگی بالکل اجیرن ہو جاتی ہے تو وہی زیادہ مسلمان ہو جاتی ہے اور عزت پاتی ہیں کیونکہ اسلام میں برابری ہوتی ہے اس کی وجہ سے وہ مسلمان ہو جاتی ہے پیر پرچونڈی شریف کے پاس میں نے پورا دن گزارا ہے اور میں نے ایک نو مسلم لڑکی سے بھی ملاقات کی ہے اس کے والدین سے بھی ملا ہوں والدہ سے بھی اور والد سے بھی بے شک والد اور والدہ رو رہے تھے اور گڑگڑا کے اپنی بیٹی سے کہہ رہے تھے اپنا مذہب مت چھوڑو لیکن اس لڑکی نے اسلام قبول کیا اصل میں ہندو ازم میں یہ چوتھے درجے کے ہندو ہیں ان کی کوئی عزت وقار نہیں ہے اور اسلام نے درجہ ہی کوئی نہیں ہے اسلام میں داخل ہوتے ہوئے یہ عورتیں برابری کی عزت پاتی ہیں مجھے اللہ نے موقع دیا کہ میں نے اس لڑکی کے سر پہ ہاتھ رکھا اور ایک ہزار روپیہ بھی دیا اور میں نے اسے پنڈی اور اسلام اباد انے کی دعوت یہ جو این جی اوز ہیں پیسہ کمانے والی ان کی تو بات ہی نہ کریں یہ رہتی اسلام اباد میں ہیں اور جنہیں یہ نہیں پتہ کہ گھوٹکی پنوں عقل میرپور متھیلو ہیں کہاں تو یہ کیسے بتائیں گے کہ اس قاتل گرمی میں سفر کیا اور جا کے کہ میاں جاوید صاحب اور میاں نور صاحب کا مہمان ڈرا خدا کی قسم ظلم نہیں ہوتا وہ مجھے بتا رہے تھے کہ ان کے گھروں میں ہندو اور تک کام کرتی ہیں ان کے محلے میں ہندو عورت محفوظ ہے اور ہندو کام کرتے ہیں ہم نے کبھی کسی کو جبرا مسلمان نہیں کیا یہ شور شرابہ میں مجاتا رہا اور بتاتا رہا کہ یہ نہیں ہوتا لیکن پریس جو ہے وہ کیا کرتا ہے زیادہ سے زیادہ خبریں میں میرا کالم چھپا تھا کہ بچوںڈی شریف سے مدینہ منورہ کی خوشبو کلب مدینہ منورہ سے خوشبو لے کر ایا ہوں وہ سب مسلمانوں کے لیے ہے اور جتنے بھی غیر مسلمان ہیں ان کے لیے دعوت ہے کہ ائیں مسلمان ہو جائیں لوگ اب کہنا شروع ہو گئے ہیں کہ مسلمان ہونے کا فائدہ کیا ہے بابا میں اپ کو بتا دوں اپ کو اس دنیا میں تو ہو سکتا ہے فائدہ نہ ہو اس دنیا میں تو ہو سکتا ہے مسلمان چاہیے نہ کر رہے ہوں لیکن جو دنیا اخرت کی ہے اس میں دیکھوں گا کہ جب اپ کا گریبان ہوگا اور میرا ہاتھ ہوگا کہ میں نے اپ کو دعوت دی اور اپ نے میرا مذاق اڑایا تھا
دراصل یہ غضب ناک کاروائیاں صرف پاکستان میں ہی نہیں ہوتی کیا انڈیا میں نہیں ہوتی اپ جانتے ہیں انڈیا میں چلتی بس کے اندر ریپ ہوا دکھ اس بات کا ہے کہ انڈیا نے یہاں ا کر ایموشنل بلیک میلنگ کا پرانا ہتھیار ازمایا ہے اور کہا ہے کہ میں اس کی مصنوعی ٹانگ لگا کر دے دوں گا تو کیا ہم ایسے ہی گئے گزرے ہیں اپ اتنا ہی اگر دیالو ہیں تو اپ مجھے بتائیں کہ وزرات کے ہزاروں مسلمانوں کا قتل عام اپ نے کیا تو اپ نے ان کے لیے کیا کیا کشمیر میں ایک لاکھ سے زیادہ مسلمان شہید کر دیے گئے ہیں اس کا کیا کیا ہے اور باقی چھوڑو یہ جو اپ اپنی بڑی ترقی دکھاتے ہو اپ کی ہزاروں عورتیں اس بات کا مظاہرہ کرتے ہیں کہ ہمیں ٹوائلٹ بنا کے دو یہ ایک جہاں کی عورت نے بھی مجھے طعنہ دیا ہے کہ اپ ان کو ٹوائلٹ بنا کر دیں گے میں نے کہا میں کیوں کیوں ٹائٹ بنا کے ان کو دوں گا جہنم میں جائے وہ مودی کا ہندوستان جس نے ہماری مسلمان بہنوں کے ساتھ بلتکار کیا مسلمان نوجوانوں کے ساتھ ظلم کیا ویسے میں اپ کو بتاؤں کہ کووڈ میں جب وہ کتے کے موت مر رہے تھے تو ہمارے عمران خان ہیں اکسیجن بھیجنے کی افر کی تھی اور یہاں سے ایمبولنس وغیرہ روانہ کی تھی اللہ کے فضل و کرم سے ہم اگرچہ فستعیت کا شکار ہیں ظلم کا شکار ہیں ہمارے اوپر زیادہ ظلم ہو رہا ہے انڈیا سے بھی زیادہ ظلم ہو رہا ہے اسرائیل سے بھی زیادہ ظلم ہو رہا ہے لیکن ہم مسلمان پھر بھی اپنے اپ کو اس قابل سمجھتے ہیں کہ ایک تو اس ظالم کو ہم سزا دیں گے جس نے جانور کے پاؤں کو کاٹا میں دو دن مدینہ رہ کے ایا ہوں اپ یقین کریں ہر وقت میری نظروں کے سامنے یہ پیارا اور بولا جانور اتا تھا لیکن اج جب اس بولی والی بچی کو میں نے دیکھا کہ اس کی انکھ جل گئی ہے اس کا چہرہ تیزاب سے جھلسا دیا گیا ہے تو پھر اس وقت میں نے سوچا کہ اے میرے رب کیا یہ انسان شروع سے ہی اسی طرح کا ظالم ہے اور پھر میرے ذہن میں بہت سارے لوگ ائے میں اپنے علاقے کے عاطف خان کا منظر میری انکھوں کے سامنے ا جاتا ہے کہ جس کو گولیاں مار مار کے اس دنیا سے دور کر دیا گیا اسی طرح اپنے دائیں بائیں قتل مکاتلے ہوتے ہوئے دیکھتا ہوں تو پریشان ہو جاتا ہوں یہ جو وڈیرا ہے کیا اس نے مرنا نہیں ہے ہمارے سامنے زرداری نے یہ کہا تھا کہ میں کسی کی زمین کے اوپر قبضہ نہیں ہونے دوں گا کیا یہ اونٹنی قبضہ کرنے گئی تھی چلو پنجابیوں نے تو وہاں پہ اپنی جو جائیدادیں بنائی جو زمینیں بنائی جو بہت محنت کر کے بنائی ان کو تو اپ نکال رہے ہو لیکن اللہ سے ڈرو یار یہ جانور کے ساتھ اپ نے کیا کیا اور اس بیٹی اور بہن کے سامنے جو کچھ منظر ا رہا ہے وہ یہی ہے کہ یہ کسی ظالم نے اس کے اوپر تیزاب پھینکا ہے یقین کریں یہ پاکستان وہ پاکستان نہیں ہے جس کا خواب ہم نے دیکھا تھا یہ ویسا پاکستان نہیں ہے جس کا خواب ہمارے پرپ ہونے دیکھا تھا یہ کیسا پاکستان ہے اپ یقین کیجیے کہ ہر وہ کام یہاں پہ ہو رہا ہے جو نہیں ہونا چاہیے تھا کیا پاکستان میں اتنی غربت ہے جس وقت پاکستان ازاد ہوا تھا تو اس زمانے میں غربت خدا کی قسم بہت غربت تھی لیکن انسان کی یہ خرمستیاں ہیں کہ ایک جانب کسی جانور کی ٹانگ کاٹ دیتا ہے اور دوسری جانب اس معصوم عورت کی انکھ اور اس کا چہرہ بگاڑ کے رکھ دیتا تھا اب یہ خوبصورت چہرے والی کس طرح لوگوں میں مفتی بیٹھتی ہو اس کو کس طرح لوگوں کے سوالوں کا جواب دینا پڑے گا کہ کیوں تمہارے اوپر تیزاب پھینکا دے کیا ہوا تھا کیا تم بھاگ گئی تھی کیا تم کسی غیر مرد کے ساتھ اشنا بن گئی تھی اس کو اور اپ کے ماں نے اور اپ کے بہن نے اور اپ کے باپ نے اپ کے چہرہ بیڑا غرق کرتے ہیں یا اپ کا خاوند نے اپ کے کسی کام کی وجہ سے اپ کے چہرے پر تیزاب پھینک دیا مزیدار کی بات ہے کہ ہم عورت کی بات نہیں مانتے عورت سچ بھی کہے گی تو لوگ کہیں گے کہ یہ جھوٹ بول رہی ہے میں اپنے رب سے یہ دعا کرتا ہوں ہوں کہ اے اللہ پاک اس ظالم کو اتنے برے انجام سے دوچار کر کہ اس کو بھی پتہ چلے کسی کی بہن کسی کی بیٹی کے ساتھ کتنا ظلم کیا ہے عورت کے ساتھ اس ظلم نہیں ہونا چاہیے اور جانور کے ساتھ تو ایسا ہونا ہی نہیں چاہیے یہ ایسا دین ہے جو جانوروں کا بھی خیال رکھتا ہے حضرت صالح علیہ السلام کی اونٹنی کو لوگوں نے قتل کر دیا تھا اس کا عذاب پوری قوم پر نازل ہوا تھا کیا اس پاکستانی عورت کے چہرے پر جو تیزاب پھینکا گیا ہے کب اس کی سزا اس قوم کو ملے گی