
انسان کی زندگی میں سب سے قیمتی سرمایہ اس کے رشتے ہوتے ہیں۔ ماں باپ کی ممتا و شفقت، بہن بھائیوں کا پیار، بیوی شوہر کا اعتماد، اولاد کا سہارا، دوستوں کی وفا اور ہمسایوں کی خیرخواہی۔یہ سب مل کر زندگی کو خوشیوں سے بھر دیتے ہیں۔ لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ آج کے مادی دور میں رشتوں کا تقدس کمزور پڑتا جا رہا ہے۔ رشتے جو کبھی محبت، ایثار اور قربانی کی علامت ہوا کرتے تھے، اب اکثر مفاد، خود غرضی اور وقت گزاری کا ذریعہ بن گئے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو فطری طور پر رشتوں کا محتاج بنایا ہے۔ کوئی بھی شخص تنہا زندگی نہیں گزار سکتا۔ ماں کے بغیر بچپن کی پرورش ممکن نہیں، باپ کے بغیر زندگی کا سفر ادھورا رہتا ہے، بہن بھائیوں کے بغیر بچپن کی مسکراہٹیں ادھوری لگتی ہیں اور بیوی بچوں کے بغیر جوانی کا سکون بے معنی ہو جاتا ہے۔ گویا رشتے انسان کے وجود کی تکمیل ہیں۔قرآن پاک میں کئی جگہ رشتوں کی پاسداری کا حکم دیا گیا ہے۔ ارشاد ہے”اور رشتہ دار کو اس کا حق دو، اور مسکین کو اور مسافر کو (بھی)” (سورۃ بنی اسرائیل 26)یہ آیت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ رشتہ محض ایک تعلق نہیں بلکہ ایک ذمہ داری بھی ہے۔ماں باپ کے بغیر انسان کا کوئی وجود ہی نہیں۔ ان کی قربانیوں کا بدلہ اولاد کبھی نہیں چکا سکتی۔ لیکن آج کی افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ بچے بڑے ہونے کے بعد والدین کو بوجھ سمجھنے لگتے ہیں۔ بوڑھے ماں باپ کو اولڈ ہومز میں چھوڑ دینا یا ان کے ساتھ سرد رویہ رکھنا معاشرتی زوال کی علامت ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا”وہ شخص برباد ہو گیا جس نے اپنے والدین کو بڑھاپے میں پایا اور پھر بھی جنت میں نہ جا سکا۔”سوچیے! والدین کی خدمت جنت کا راستہ ہے لیکن ہم نے اس رشتے کو دنیاوی مصروفیات کی نذر کر دیا ہے۔بہن بھائی زندگی کا سب سے خوبصورت تحفہ ہیں۔ یہ رشتہ بچپن کی شرارتوں سے شروع ہو کر بڑھاپے تک ساتھ دیتا ہے۔ لیکن آج کے معاشرے میں جائیداد اور وراثت کے جھگڑوں نے اس رشتے کو بھی کمزور کر دیا ہے۔ بھائی بھائی کا دشمن بن رہا ہے، بہنیں محرومِ وراثت کی تصویر بنی بیٹھی ہیں۔ اگر ہم اسلام کی تعلیمات پر غور کریں تو یہ جھگڑے کبھی پیدا ہی نہ ہوں۔ قرآن و حدیث نے وراثت کے اصول واضح کر دیے ہیں، لیکن ہم اپنی خواہشات کے لیے رشتوں کی قربانی دینے سے بھی گریز نہیں کرتے۔میاں بیوی کا رشتہ محبت، اعتماد اور سکون کا دوسرا نام ہے۔ قرآن میں اسے "لباس” قرار دیا گیا”وہ تمہارے لیے لباس ہیں اور تم ان کے لیے لباس ہو۔” (البقرہ: 187)لیکن آج طلاق کی بڑھتی ہوئی شرح اور گھریلو ناچاقیاں اس رشتے کی کمزوری کی عکاس ہیں۔ شوہر اپنی ذمہ داریوں سے غافل ہے، بیوی صبر و برداشت سے دور ہو گئی ہے، نتیجہ یہ کہ ایک مضبوط خاندانی نظام بکھرتا جا رہا ہے۔اولاد والدین کے لیے سب سے بڑی آزمائش اور سب سے بڑی خوشی بھی ہے۔ لیکن اگر اولاد نافرمان ہو جائے تو والدین کی زندگی اجیرن ہو جاتی ہے۔ آج کل والدین اپنی اولاد کے لیے رات دن محنت کرتے ہیں، لیکن اولاد اپنی ذاتی خواہشات اور دوستوں میں وقت گزارنے میں والدین کو فراموش کر دیتی ہے۔ یہ رویہ رشتوں کے تقدس کی پامالی ہے۔اسلام نے صرف قریبی رشتوں کی نہیں بلکہ دور کے رشتے داروں اور ہمسایوں کے حقوق بھی واضح کیے ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا”جبرائیل علیہ السلام مجھے بار بار ہمسائے کے حقوق کے بارے میں نصیحت کرتے رہے، یہاں تک کہ میں نے گمان کیا کہ شاید ہمسائے کو بھی وراثت میں حصہ دار بنا دیا جائے گا۔”آج ہمسایہ بھوکا سو جائے اور ہم پرواہ نہ کریں، یہ ہمارے ایمان کی کمزوری ہے۔رشتوں کا تقدس ختم ہونے کا مطلب ہے اخلاقی زوال جو کسی بھی معاشرے کو تباہی کر دیتا ہے ۔ جب رشتے کمزور ہو جائیں تو خاندان بکھر جاتے ہیں، دلوں میں نفرت جنم لیتی ہے، حسد اور کینہ بڑھ جاتا ہے اور معاشرتی سکون ختم ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہماری زندگیاں بے سکون ہیں۔اولاد والدین سے دور ہے۔بہن بھائی دشمن بن گئے ہیں۔شوہر اور بیوی کے درمیان اعتماد ختم ہو گیا ہے۔رشتہ دار ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک نہیں ہوتے۔ہمسایہ ہمسائے کو جانتا تک نہیں۔یہ سب اس لیے ہے کہ ہم نے رشتوں کو صرف نام کا تعلق سمجھ لیا ہے، ان کے تقدس کو بھلا دیا ہے۔اگر ہم چاہتے ہیں کہ رشتوں کا تقدس بحال ہو تو ہمیں چند عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔ہر رشتے کی بنیاد صبر،اعتماد اور عزت پر رکھنی ہوگی ۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر انا اور ضد کو چھوڑنا ہوگا۔ایثار اور قربانی یعنی اپنی خواہشات کو دوسروں پر ترجیح نہ دیں بلکہ دوسروں کی خوشی کے لیے اپنی خوشی کی قربانی دیں۔ وراثت، کاروبار اور مالی معاملات میں انصاف کو اپنائیں تاکہ رشتے خراب نہ ہوں۔محبت اور خلوص کا چلن اپنانا ہوگا اس لیے کہ رشتے صرف خلوص سے قائم رہ سکتے ہیں۔پھر دوسروں کا دکھ درد بانٹنا ہی اصل محبت ہے۔اور قرآن و حدیث کی روشنی میں رشتوں کے حقوق ادا کرنے سے ہی سکون اور سچی خوشی نصیب ہوگی۔رشتے اللہ کی طرف سے ایک قیمتی تحفہ ہیں۔ یہ رشتے ہی ہیں جو زندگی کو معنی بخشتے ہیں۔ اگر ہم ان کا تقدس برقرار رکھیں گے تو ہماری زندگیاں سکون سے بھر جائیں گی، خاندان مضبوط ہوں گے اور معاشرہ جنت کا نمونہ بن جائے گا۔ لیکن اگر ہم نے رشتوں کی قدر نہ کی تو معاشرتی بگاڑ، تنہائی، نفرت اور بے سکونی ہمارا مقدر ہوگی۔لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی روزمرہ زندگی میں رشتوں کو اولیت دیں، ان کے حقوق ادا کریں، اور ان کے تقدس کو قائم رکھیں۔ کیونکہ رشتے ٹوٹ جائیں تو زندگی کا حسن ماند پڑ جاتا ہے۔



