تحریکِ پاکستان اور نعرہِ اسلام مگر آج کا پاکستان؟
برصغیر پاک و ہند میں مسلمانوں کی آمد اور اشاعتِ اسلام کا فروغ عربوں کے ساتھ تعلقات کی وجہ سے بہت زیادہ متاثر ہوا جس کی وجہ سے اس خطے میں اسلام پھیلنا شروع ہوا۔ عرب میں اسلام کے ظہور کے بعد مسلمان بزرگانِ دین نے تبلیغ و اشاعتِ اسلام کے لئے جنوبی ایشاء کا رخ کیا۔ دعوتِ اسلام کے اس عمل اور کوششوں سے مسلمانوں اور ہندوؤں کے لئے الگ الگ ریاست کا ہونا لازمی بن گیا کیونکہ دونوں قوموں کے نظریات سراسر ایک دوسرے سے مختلف تھے اور دونوں قوموں کا اکھٹا رہنا کسی طور بھی ممکن نہ تھا۔یہی وجہ تھی کہ پاکستان دو قومی نظریہ کی بنیاد پر وجود میں آیااور بانیِ پاکستان کے فرمودات سے بھی واضح ہوتا ہے کہ اسلام ہی پاکستان کی نظریاتی اساس بنا۔قائداعظم نے ایک موقع پر فرمایا کہ میرا ایمان ہے کہ قرآن و سنت کے زندہ جاوید قانون پر ریاست پاکستان دنیا کی بہترین اور مثالی ریاست ہو گی۔اس کے علاہ قائداعظم قرآن پاک اور آقا کے اسوہ حسنہ کو رہبر اور نجات کا ذریعہ سمجھتے تھے۔
قائداعظم کے خطابات کی روشنی میں اگر ہم دیکھیں تو وہ ایسی ریاست چاہتے تھے جو اسلامی اصولوں پر کاربند ہو گی اورجہان ہر قانون اسلام کے مطابق بنایا جائے۔ تحریکِ پاکستان کا مقصد ایک ایسی ریاست کا قیام تھا جہاں برصغیر کے مسلمان بلا خوف و خطر دین پر عمل پیرا ہو کر معاشی و معاشرتی طور پر ایک مضبوط قوم بنیں۔ انگریزوں نے ہندوستان پر اقتدار قائم کرنے کے بعد بہت ساری پالیسیاں بنائیں جن کے ہندوستان کے لوگوں پر منفی اثرات مرتب ہوئے۔ خاص طور پر اقتصادی پالیسیاں ایسی بنائی گئیں جن کی وجہ سے ہندوستان کے لوگ معاشی بدحالی کا شکا ہو گئے۔ ۷۵۸۱ء میں مسلمانوں اور ہندوؤں نے مل کر انگریزوں کے خلاف جنگ شروع کی۔ انگریز تاریخ دان اس جنگ کو ” غدر” جبکہ برصغیر کے تاریخ دان "جنگِ آزادی” کا نام دیتے ہیں۔ اس جنگ میں آزادی کے متوالے بڑی جانفشانی سے لڑے مگرہندوؤں کی اندرونی سازشوں اور نااتفاقیوں کی وجہ سے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا اور انگریز جنگ جیت گیا۔ اس جنگ میں سب سے زیادہ نقصان مسلمانوں کا ہوا کیونکہ ہندوؤں نے اندرونی سازشوں کے جال بُن رکھے تھے اور مسلمانوں کا خون بھانے میں اہم کردار ادا کیا اور جنگ میں ناکامی کی ساری وجوہات مسلمانوں پر ڈال دی گئیں جسکی وجہ سے انگریزوں نے مسلمانوں سے بدترین انتقام لیا اورسخت ترین سزائیں دیں۔ انتہا پسند ہندوؤں نے اس موقع سے بھرپور فائدہ اُٹھایا اور مسلمانوں سے کئی سال حکومت کرنے کا بدلا لینے کے لئے اچھا موقع جانا۔ ہندوؤں نے انگریزوں سے گٹھ جوڑ کر لیا، انگریزی زبان سیکھی، ملازمتیں حاصل کئیں اور انگریز کو اپنی وفاداری کا یقین دلانے میں کامیاب ہو گئے۔ جنگِ آزادی کے وقت ہندوستان میں مسلمانوں کی تعداد تقریباََ پانچ کروڑ تھی مگر پھر بھی وہ محکوم اقلیت بن چکے تھے۔ قائداعظم نے نفرت اور دھوکے پر مبنی اس مہم کو قانونی دائرے میں رہ کر عزم و ہمت سے روک دیا۔
مسلمان رہنماوؤں نے حالات کے تناظر میں یہ بھانپ لیا تھا کہ اب ان دو قوموں یعنی مسلمانوں اور ہندوؤں کا ایک ساتھ اکٹھے رہنا کسی طور بھی ممکن نہیں۔ انتہا پسند ہندوؤں پہلے ہی انگریز سے گٹھ جوڑ کر چکے تھے اور مسلمان اکثریت میں ہونے کے باوجود بھی محکوم بننے پر مجبور تھے۔ اب مسلمان رہنماوؤں کی ذمہ داری بنتی تھی کہ وہ مسلمان قوم کو ان مشکل حالات سے نکالیں تاکہ وہ جدیدعلوم اور انگریزی زبان میں مہارت حاصل کرکے انگریز حکومت کا حصہ بنیں اور اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کر سکیں۔ ان تمام مسائل کے حل کے لئے صوفیاء کرام اور مسلمان حکمرانوں کا کردار اور جدوجہد کا بھی بہت اہم اور تاریخی کردار رہا ہے۔ اس وقت کے مسلمان قائدین چاہتے تھے کہ ہم مذہبی، معاشی، معاشرتی اور اقتصادی طور پر دنیا میں اپناایک الگ اور اونچا مقام بنائیں۔مگر جب ہم آج جائزہ لیتے ہیں تو پتا چلاتا ہے کہ قائداعظم کی رحلت کے بعد ہمارے حکمرانوں کی غلط پالیسوں کی وجہ سے پاکستان گھمبیرمسائل میں الجھ گیا ہے۔اسلام کے نام پر بننے والا یہ پیار ا وطن اب مذہبی وسیاسی فرقہ بندی، اقتصادی و معاشی بدحالی اور معاشرتی طور پر تباہی کی طرف بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ آج ہم قائد کے نظریات،تصورات اور فرمودات کے برعکس اپنی خواہشات پر عمل پیرا ہیں۔ جس ریاست کے لیے ہمارے بزرگوں نے کوشش کی تھی افسوس کہ ہم نے اس ریاست میں نفرت کے بیج بو کر اسے ٹکڑے ٹکٹرے کر دیا ہے۔مشرقی پاکستان جس کے رہنماوؤں نے تحریکِ پاکستان میں بھرپور حصہ لیا مگر ناانصافیوں کی وجہ سے وہ ہم سے الگ ہو چکا ہے۔ عوام آج یہ سوچنے پر مجبور ہو گئے ہیں کیا یہ وہی ملک ہے جسے ہمارے بزرگوں نے لا الہ اللہ کے نعرے لگا کر حاصل کیا؟
علیحدہ وطن کے حصول اور تحریکِ پاکستان خالصتاََ اسلام کے بنیادی اصولوں پر رکھی گئی تھی جس میں اسلام کے اصولوں کے مطابق ہر آئین بننا تھا اور اس علیحدہ ریاست میں ہر فرد کو بلاتفریقِ رنگ و نسل زندگی گزارنے، تعلیم حاصل کرنے، مذہبی عبادات کرنے اور ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنے کی آزادی ملنی تھی۔۔مگر گذشتہ 76برسوں سے ہمیں ہر موڑ پر اسلامی اصولوں اور قائداعظم کے فرمودات و ارشادات کی نفی ہوتی نظر آتی ہے۔آج ہمیں اپنے آپ سے یہ سوال کرنا ہو گا کہ ہم اسلامی اصولوں (جس کی بنیاد پر وطن کا حصول ممکن ہوا تھا) اور علامہ اقبال و قائداعظم کے تصورِ پاکستان و تعمیرِ پاکستان سے مسلسل انحراف کیوں کر رہے ہیں؟ہمارا معاشرہ جسے امن کا گہوارہ بنناتھا،جسے معاشی طور پر مضبوط اسلامی ملک بننا تھا، جو ایک زرعی ملک تھا، جس میں مذہبی و لسانی گروہ بندیاں نہیں ہونی تھیں،جہاں ہر بندے کو عدل و انصاف ملنا تھا اور سب سے بڑی بات پاکستان نے اسلام کی لیبارٹری بننا تھا وہ سب نعرے، ارشادات وفرمودات کہاں کھو گئے؟کس نے ان سب کو پسِ پشت ڈال دیا اور کیوں ہماری آج کی نوجوان نسل ان سب سے دور ہے؟ اگر آج ہم ان سب چیزوں کا جائزہ لے کر راہِ راست پر نہ لوٹے تو تباہی و بربادی زیادہ دور نہیں۔اب وقت ہے کہ ہمارے حکمران اور دانشور مل بیٹھ کر اسلامی اصولوں کے تحت ہر شعبے میں اصلاحات کریں اور پاکستان کو حقیقی اسلامی فلاحی ریاست بطرزِ ریاستِ مدینہ عملی طور پر بنانے کے کوشش کریں نہ کہ صرف لفاظی ہیر پھیر کرتے رہیں۔ ہمارے حکمرانوں کو ذاتی و شخصی فوائد کے قوانین بنانے کی بجائے ایسے قوانین بنانے ہوں گے جو ملکی مفادات میں ہوں۔ اور آئین کے شق 63اور64پر مکمل عمل کروانا ہو گا تاکہ سچے اور ستھرے لوگ اسمبلیوں میں آ کر اسلامی اصولوں کے مطابق قانون سازی کریں۔ قائداعظم نے 1945میں سپاس نامے کے بارے سوال پر کچھ اس طرح جواب دیا *”آپ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ پاکستان میں کون سا قانون ہو گا؟ مجھے آپ کے سوال پر سخت افسوس ہے، مسلمانوں کا ایک خدا، ایک رسول اور ایک کتاب ہے، یہی مسلمانوں کاقانون ہے اور بس۔ اسلام ہی پاکستان کے قانون کی بنیاد ہو گا اور پاکستان میں کوئی قانون بھی اسلام کے خلاف نہیں ہو گا”*۔ قائداعظم نے کئی مواقعوں پر اسلام کے اجزائے ترکیبی مثلاََ کلمۂِ توحید، قرآن کریم، سنتِ رسول، اسلامی ضابطہ اخلاق، اسلامی تہذیب و تمدن، اسلامی تصوارات، وحدت المسلیمن کو اجاگر کیا مگر کیا آج اسلام اور پاکستان ایک ہی سمت میں چل رہے ہیں؟ ذرا سوچئے کہ آج کا پاکستان کدھر جا رہا ہے اور ہم اس میں کیا کردار ادا کر رہے ہیں؟ کیا صرف ہمارا حکمران طبقہ ہی غلط ہے کہ ہم عوام میں بھی کچھ غلطیاں پائی جاتی ہیں؟ کیا ہم اپنے گھر، گلی، محلے اور شہر اسلامی اصولوں پر کاربند ہیں کہ ہم نے مغرب کے اطوار کا اپنا شعار بنا لیا ہے؟ ہم سب نے علامہ اقبال کے اس شعر کو سامنے رکھ کر اپنا جائزہ لیا ہے:
*اپنی ملت سے قیاس اقوامِ مغرب سے نہ*
*کرخاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمی*
*ان کی جمعیت کا ہے ملک و نسب پر انحصار قوت*
*مذہب سے مستحکم ہے جمیعت تری*