اہل بیت اور صحابہؓ کی آپس میں محبت
حضور نبی پاکﷺ نے فرمایا اے اللہ میں حسنؓ اور حسینؓ سے راضی ہو تو بھی ان سے راضی ہو جا کیا شان ہے نواسہ رسولﷺ کی اور ایک موقع پر فرمایا جس نے حسینؓ سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی جس نے اس بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض رکھا
حضرت جابر فرماتے ہیں کہ میں آقا ؐ کی خدمت میں حاضر ہوا آپ ؐ نے امام حسنؓ و امام حسینؓ کو اپنی پشت مبارک پر بٹھایا ہوا تھا اور ہاتھوں اور دونوں گھٹنوں پر چل رہے تھے۔ میں نے کہا سواری کتنی اچھی ہے تو آپؐ نے فرمایا سوار کتنے اچھے ہیں (کنزالعمال)نبی مکرم ؓجن کے لئے یہ ساری کائنات بنی جن کے لئے دن اور رات کانظام وجود میں آیا معراج جن کا سفر کہلایا سدرہ المنتہیٰ جن کی راہ گزر ٹھہری عرش عظیم جن کے لئے فرش بنا دیدار الہی جن کا اعزاز ٹھہرا وہ نبی ؐ اپنی مبارک پشت پر دونوں شہزادوں کو سوار کیئے ہوئے ہیں اور ساتھ فرما رہے ہیںکہ اگر سواری عمدہ ہے تو سوار کتنے اچھے ہیں ۔ حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ ایک بار حضور نبی کریم ؐنے حضرت فاطمہؓ سے فرمایا کیا تم اس پر رضی نہیں ہو کہ تم جنت کی عورتوں کی سردار ہو اور تمہارے بیٹے جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں (کنزالعمال)امیر المو منین حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ حسن سر سے لیکر سینے تک نبی کریم ؐسے مشابہہ تھے اور حسین ؓسینہ سے لیکر قدموں تک آپ ؐ کے ساتھ مشابہت رکھتے تھے۔ (ترمذی) ماہ محرم الحرام کا آغاز ہی لازوال قربانیوں کی داستان ہے مگر تاریخ یہ ایسی قربانی ہے جو ہمیشہ یاد رکھی جائے گی جس میں چند دن کا بچہ علی اصغر سے لے کر پورا خاندان شہید ہو گیا مگر حق کا رستہ نہ چھوڑا آج ہم وہ کام کرتے ہیں جو بلکل مترادف ہیں امام حسینؓ کے افسوس کے ساتھ حسینیؓ کہلانا تو سارے چاہتے ہیں مگر حسینؓ کے خیموں کو آگ کس نے لگائی ان پر خنجر کس نے چلائی تیر کس نے چلائے تو یہ سارے کام یزید کے پیروکاوں کے ہیں تو حسینی کیوں یہ کام کرتے ہیں پھر اہل بیت اور اصحابؓ کی آپس میں محبت دیکھے کہ ایک دوسرے کے ناموں سے اپنے بچوں کے نام تاکہ یہ پیغام جائے کہ ہمارے درمیاں کوئی لرائی نہیں ہے یہ لوگوں نے اپنی دوکان داری چلانے کے لیے دو الگ نظریات بناڈالے جبکہ دس محرم کے دن ایک طرف امام حیسنؓ کا تزکرہ تو کیا جاتا ہے مگر ان کے ان بھائیوں کے نام ہی نہیں لیے جاتے جن کے نام حضرت علیؓ نے اپنے یاروں سے محبت کی بنا پر رکھے تھے جن میں ابوبکر بن علی عثمان، بن علی، عمر بن علی ، یہ تین بھائی بھی کربلا میں شہید ہوئے ہم ایک طرف امن امن کی صدا لگاتے ہیں دوسری جانب یزید کے کام پھر پورے دس دن جلوس ہوتے ہیں ان میں سرعام صحابہؓ کی گستاخیاں امی عایشہؓ پر بہتان بازی فرقہ واریت ایک بات 1400 سال پہلے کی ہے اور ان پاک صاف ہونے کی یا دلیل کافی ہے کہ اللہ ان سے راضی وہ اللہ سے راضی ہم کون ہوتے ہیں تحقیق کرنے والے یا حوالے دینے والے جبکہ دوسری جانب کچھ احباب یزید کو ٹھیک کہتے ہیں وہ بھی غلط ہے خبیث کی حمایت کیوں آپ لوگوں کو یاد نہیں میرے نبیؐ کا خاندان زبح ہونا کسی نبیؐ نے اتنی تکالیف نہیں برداشت کی جتنی میرے نبیؐ نے برداشت کی پیغام حسینؓ یہ ہے کہ ہر دور میں یزید ہو گے آپ نے حق کا ساتھ نہیں چھوڑنا حق کی دعوت جاری رکھنی ہے اور حق پر ہوتے ہوئے آپ پر بہت سی تکلیف آئے گی مگر مقابلہ کرنا ہے چاہئے موت کو گلے لگانا پڑھ جائے اسلام پلیٹ میں رکھا کھانا نہیں جو کھا لیا اس کے لیے محنت اور قربانی دینی پڑھتی ہے حضرت ابرائیم علیہ اسلام کو پہلے اولاد نہیں دی اللہ نے جب اولاد دی تو ذبح کا حکم جب بھی نظام یا اسلام کی بات کریں گے تو سامنا یزیدیت سے ہو گا وقت کے فرعون سے ہو گا مگر آج تک حق کی آواز جو بلند کرتا ہے وہ حضرت حسینؓ کی وہ لازوال قربانی تھی جو آج تک بچے بچے کے نام پر حضرت حسینؓ کا نام ہے آج اور آنے والی قیامت تک ہر آدمی حضرت حسینؓ اور اہل بیت کی قربانی کو نہیں بولے گا
رونے والا ہوں شہید کربلا کے غم میں
کیا در مقصد نہ دیں گے ساقی کوثر مجھے