کالمز

*اساس تخلیق*

انسان از ابتدائے آفرنیش حقیقت کا متلاشی رہا ہے۔ تلاش حقیقت کے اس سفر میں انسان رموز مخلوقات اور اسرار کائنات کو جاننے میں کوشاں رہا۔ اس کوشش میں بسا اوقات مختلف پوشیدہ اشیا کو منکشف کرتا رہا اور ایسی اشیا دریافت کرنے میں کامیاب ہوا جو انسان کی معلومات میں نہیں تھیں ۔ شے سے شے بنائی گئی اور اسے تخلیق سمجھا گیا لیکن اصل سوال یہ ہے کہ تخلیق کسے کہتے ہیں؟ اس ضمن میں بالعموم دریافت کو تخلیق سے تعبیر کیا گیا لیکن دریافت موجود کی ہوتی ہے۔ جبکہ تخلیق موجود نہیں ہے اس کے معنی یہ ہیں کہ جو موجود نہ ہوا سے موجود کر دینا تخلیق ہے :

"تخلیق وہ ہے جو پہلے کبھی نہ ہو اور اب موجود ہو ۔ ایک تخلیق

وہ ہے جو شے سے وجود میں آئے۔ ایسی تخلیق جو کچھ نہ ہو اور
کچھ ہو کے انسانی قدرت میں ہے قادر مطلق اس شے کو تخلیق
کرتا ہے جو کبھی کسی طور پر کسی مقام پر موجود نہ ہو وہ نہیں ہوتی اور ہو جاتی ہے۔ ”

کچھ تخلیقات انسان کے احاطہ میں ہیں یہ اشیا عینی دنیا میں تخلیق پاتی ہے اور کبھی ذہنی دنیا میں ایسا بھی ہے کہ پہلے ذہنی دنیا میں تخلیق ہوا اور پھر اسے عینی دنیا میں تشکیل کر دیا جائے ۔ دنیا میں وجود وہستی کے سوا کچھ نہیں ہوتا اور ہستی کے مقابل کوئی اور چیز نہیں جبکہ ذہنی دنیا میں عدم اور مابیت دونوں موجود ہوتے ہیں اس طرح یہ بات عیاں ہے کہ عینی دنیا اور ذہنی دنیا میں جدا گانہ ہستیاں پائی جاتی ہیں۔ اس طرح وجود کو عینی و ذہنی میں منقسم کیا جا سکتا ہے ۔ وجود بھی تخلیق ہے۔

جو پہلی بار ملبوس آئے وہ تخلیق کہلائے گی۔ تخلیق کو سمجھنے کے لیے وجود وہستی کی تقسیم کو جانا ضروری ہے۔ تخلیق دراصل ہستی کا دوسرا نام ہے وجود کے کچھ طبقات میں مادہ وحرکت ، زمان ومکان ایک طبقہ ہے۔ دوسرا طبقہ جہات اور صورتوں پر مشتمل ہے اس سے بالاتر طبقہ کا تصور یہ کہتا ہے کہ بالائی طبقہ تصاویر کا حامل نہیں ہے۔ تصاویر ایک طبقہ ہے جس سے بالا تر طبقہ تصاویر کے بغیر اور پھر اس سے بالا تر طبقہ ہے جو کوئی شے نہ رکھتے ہوئے بھی موجود ہے۔

عالم کی تقسیم جس انداز میں بھی کی عالم کو ایک موجود ماننا پڑے گا۔ اگر یہ موجود ہے تو پھر
ایک زمان میں یہ موجود نہیں تھا۔ عدم سے وجود میں آنا تخلیق ہے اس طرح یہ عالم بھی تخلیق ہے۔ جو شے تخلیق ہوتی ہے وہ خلق شد و وجود کی حامل ہوتی ہے۔ جو شے تخلیق ہو کر وجود دہستی پالیتی ہے اس کا وجود عینی ہوگا یا دینی ہوگا۔ عینی وجود جسم کا حامل ہوتا ہے لیکن ذہنی وجود تصورات کی دنیا میں آباد اور موجود ہوتا ہے۔ جب کسی جسم کو ذہن میں لایا جائے تو وہ ۔ ۔ ذہن میں نہیں ہوتا لیکن موجود ہوتا ہے۔ ذہن میں جو پہلے موجود نہ ہو لیکن وہ ذہن میں آجائے وہ تخلیق ذہنی دنیا میں وقوع پذیر ہوگی۔ اس طرح کائنات میں اور ذہن میں جو کچھ موجود ہے وہ قدیم نہیں اور جو قدیم نہیں وہ مخلوق ہے اس لیے تخلیق سے پس یہ کائنات کسی بھی حیثیت میں ہو تخلیق ہے۔ کائنات کے موجودات موجود نہیں تھے گویا جو نہیں تھے وہ بن گے اس لیے تخلیق کہلائے۔ حادث جونکہ ہمیشہ سے نہیں ہے اس لیے ظاہر ہے کہ ایک زمانہ میں اس کا وجود نہیں تھا اب اس کا وجود قائم ہوا تو اس کے وجود کے قائم ہونے کی کوئی وجہ ہے۔ حادث ہمیشہ سے نہیں ہے اس لیے اس کا وجود تخلیق ہوا۔ ہر شے جو ہے وہ
وجود کی حامل ہے وجود کسی سبب کے تابع ہے۔

” علت اور معلول کے درمیان تخلیقی عمل میں خصوصی رابطہ ہوتا ہے علت معلوم کے وجود کے باعث بنتی ہے علت نہ ہوتو معلوم وجود میں نہیں آسکتا معلوم خود اپنے وجود کے لیے کسی
چیز کامحتاج ہے۔ وہ چیز ہی اس معلوم کی علت ہے ۔“

حادث عدم سے وجود میں آیا اس لیے یہ مخلوق ہے اس لیے حادث معلوم اور بطور معلوم علت کا محتاج ہے۔ اگر حادث معلوم ہے تو اس کی علت بھی لازمی طور پر موجود ہوگی جو اس کی علت ہے وہ بھی کسی علت کی معلوم ہوگی۔ جب کوئی شے نہیں ہے اور وہ آجاتی ہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے یہ کہاں سے آئی کیسے آئی جو موجود نہیں تھی اب خلق ہوئی تو اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ ایک وقت ایسا آئے گا کہ یہ موجود عدم میں بدل جائے گی۔ کوئی حادث علت کے بغیر وجود نہیں پا سکتا اس لیے ایک تخلیق کی کوئی علت ہے۔ اس علت کو جان کر یہ معلوم کیا جا سکتا ہے کہ یہ کیسے وجود میں آئی اس کے تخلیق ہونے کا موجب کیا ہے۔ علت و معلوم کا رشتہ اس امر کا شاہد ہے کہ تخلیق کا کوئی اصول ہے اور اس کی کوئی اساس ہے تخلیق کا عمل بے ترتیب نہیں ہے اس ترتیب کو جان کر تخلیق کی اساس کو جانا جا سکتا ہے۔ فلاسفہ صرف اس چیز کو علت کہتے ہیں جس نے اس نشے کوخلق کیا عینی دنیا میں اشیاء جود میں آتی رہتی ہیں جبکہ دینی دنیا کے موجودات ذہنی عملیت کے نتیجہ میں وجود پاتے ہیں تخلیقی عمل میں تخلیقی نظر کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ تفکر بھی ذہنی عمل ہے جو کسی ۔۔ کو منکشف کرنے کے
لیے چند معلوم امور کو مربوط کرنے سے حاصل ہوتا ہے

۔ ذہن لاشے ہے لیکن دماغ سے ربط کی بدولت سے تصور کیا جاتا ہے ۔ مینی دنیا سے حاصل شدہ معلومات کے ذریعہ ذہن اپنی کارگزاں دکھاتا ہے ۔ بامقصد خیالات جوریجادات اور مث بنتے ہیں تخلیقی تفکر سے ہی حاصل ہوتے ہیں تخلیقی تفکر در اصل سوچ کی منزل
ہے جو سی شے میں کمی بیتی کر کے نتائج اخذ کرتی اور نئی نئی باتوں کو وجود میں لاتی ہے۔

تخلیق مختلف مراحل سے گزرتی ہے۔ اولاً مسئلہ در پیش ہوتا ہے اس مسئلہ کی فہم و تجربہ خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ معلومات کا اجتماع،معلومات کی ترتیب و تنظیم فکر اور موصول شدہ معلومات سے حل کے لیے جدید طریقوں کو زیر بحث لانا ایسے مراحل میں جو تخلیق کے عمل میں اپنا کردار ادا کرتا ہیں بعض اوقات اچانک نیا خیال نمودار ہوتا ہے تخلیقی تفکر میں ایک مرحلہ ایسا بھی آتا ہے کہ سوچ کو ترک کر دیا جاتا ہے۔ بظاہر وہ اسے ترک کر چکا ہوتا ہے لیکن اندرون خانہ سوچ کا عمل جاری رہنا نیا خیال جنم لیتا ہے جو تخلیق کا باعث بنتا ہے۔

تخلیقی نظر میں نفسیاتی تحفظ اور نفسیاتی آزادی درکار ہوتی ہیں تخلیق کے مفہوم پر غور
کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ غائب کو حاجر کرنا شے سے نشے بنانا یا مکنون موجود سے نیا وجود قائم کرنا ہے۔ تخلیق کا مفہوم اس طرح واضح ہوتا ہے کہ جو شے کبھی موجود نہیں تھی اس کا وجود میں آجانا تخلیق ہے۔ ایک تخلیق وہ ہے جو انسان کے قدرت میں نہیں ہے۔ انسان ۔۔ قدیم سے اس پر غور کر رہا ہے کہ یہ شے کیسے وجود میں آئی۔

زمان ومکان کے اسرار سے پردہ اٹھانے میں کوشاں انسان اس کوشش میں ہے کہ وہ عدم کے وجود کا پتا لگا سکے۔ زمان و مکان کے جملہ موجودات کب کیونکر اور کیسے وجود میں آئے ان تمام موجودات کے بارے میں انسان تا حال کچھ جاننے سے قاصر ہے۔ شے کے علت و معلوم سے بے خبر ہے لیکن اس کوشش میں مگن ہے کہ یہ شے کہاں سے آئی۔

دوسری تخلیق وہ ہے جو شے سے وجود میں آئی ایک شے پہلے موجود ہے لیکن اس شے سے دیگر شے خود سن جاتی ہے تو کہہ سکتے ہیں کہ یہ ایک شے موجود سے وجود میں آئی ۔ تیسری تخلیق وہ ہے جو انسان نے تخلیقی تفکر سے ایجاد کی یہ بات طے ہے کہ جو پہلے نہ ہو وہ ہو جائے وہ تخلیق ہے۔ اس مرحلہ پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ تخلیق کی اساس کیا ہے ۔ کائنات میں بہت سی اشیاء انسان کی دسترس میں ہیں اور بہت سی بھی تک۔۔ اختیار میں نہیں ہیں جن موجودات پر انسان دسترس رکھتا ہے ان میں رد و بدل کر کے نئی اشیاء کو تخلیق کرتا ہے اور کچھ اشیاء ذہنی دنیا میں وجود پاکر ایک تصور
اختیار کرتی ہیں ایسی تصور کو عملی دنیا میں وارد کر کے اس سے نئی شے کا وجود قائم کیا جاتا ہے۔

تخلیق کے عمل میں جو انسانی دسترس میں ہے سب سے پہلے مشایدہ پھر تجربہ ہوتا ہے۔ عینی دنیا سے شے کو دینی دنیا میں منتقل کر کے اس پر کچھ سوالات اٹھائے جاتے ہیں کہ ذہن میں جو تصویر اجاگر ہوئی ہے یہ بیرونی دنیا میں موجود ہے یا نہیں ۔ اس کا وجود عینی ہے یا ذہنی۔ یہ تصویر حقیقی ہے یا ممکن حادث ہے یا قدم ، ثابت ہے یا تیز ، واحد ہے یا کثیر قوت رکھتی ہے یا فعل ی سرانجام دیتی ہے۔ یہ جو یہ ہے یا عرض اس قسم کے دیگر سوالات انسان کو اس تصویر پر غوروخوض کی دعوت دیتی ہیں پھر اس تصویر کو عینی دنیا میں مرتب کر کے تخلیقی عمل سرانجام دیا جاتا ہے۔ اس طرح ایک شے کے تصور سے دوسری شے کو خلق کیا جاتا ہے۔ جب مشاہدہ کے نتیجہ میں کوئی نقش ذہن پر ابھرتا ہے تو خاطر مکنون سے آمیزش یا آد پزش کا عمل شروع ہوتا ہے جس کے نتیجہ میں ذہن تخلیق کی طرف مائل ہوتا ہے اور علم کی بدولت شے سے شے کو وجود عطا کرتا ہے۔ گویا تخلیق
کی اساس اور مشاہدہ کا نیا علم اور پھر سوچ ہے۔

ادبی تخلیقات میں تخلیقی تفکر کا بڑا دخل ہے۔ شعر وادب کے میدان میں مشاہدات عالم کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ عینی دنیا سے حاصل شدہ اور حواس کی بدولت ذہنی دنیا میں منتقل ہوکر آگہی کا سبب بنتا ہے۔ یہ آگہی اور اک ہے۔ اور اک میں وقوع پذیر حقیقت خاطر مکنون سے ٹکراتی ہے تو ایک رد عمل پیدا ہوتا ہے۔ یہ رد عمل بعض اوقات کوئی نئی بات پیدا کرتا ہے جس کے نتیجہ میں شعر و ادب تخلیق ہوتے ہیں اس لیے یہ کہا جاسکتا ہے کہ ادبی تخلیقات تخلیق کار کے مشاہدے، تجربے اور علم کی بدولت وجود میں آتی ہیں۔ مشاہدہ کے بغیر کسی شے کا خیال پیدا ہوتا ہے لیکن بعض اوقات ذہن میں پہلے سے موجود معلومات بھی تخلیق کا باعث بنتی ہیں ۔ لیکن وہ موجود معلومات بھی مشاہدہ سے حاصل ہوتی ہیں۔

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button