
سندھ حکومت کے محکمہ داخلہ اور امریکی حکومت کے وفد کے درمیان امن و امان، عوامی تحفظ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد کار میں اضافے کے حوالے سے ایک اعلیٰ سطحی ورچوئل اجلاس محکمہ داخلہ سندھ کراچی میں منعقد ہوا، جس میں دوطرفہ تعاون اور سیکیورٹی کے شعبے میں جاری شراکت داری کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ محمد اقبال میمن، انسپکٹر جنرل سندھ پولیس جاوید عالم اوڈھو، اسپیشل سیکریٹری داخلہ سعید شیخ، ڈی آئی جی فیض اللہ کوریجو، وزیر داخلہ سندھ کے کوآرڈینیٹر بلال شیخ سمیت محکمہ داخلہ اور سندھ پولیس کے سینئر افسران شریک ہوئے، جبکہ امریکی وفد اور انٹرنیشنل نارکوٹکس اینڈ لا انفورسمنٹ افیئرز (INL) بیورو کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔
اجلاس کے دوران سندھ حکومت، سندھ پولیس اور امریکی حکومت کے درمیان دیرینہ تعاون کو سراہتے ہوئے عوامی تحفظ کو مؤثر بنانے، قانون کی حکمرانی کو مضبوط کرنے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافے کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
شرکاء نے بالخصوص کچے کے علاقوں میں درپیش سیکیورٹی چیلنجز کا جائزہ لیا اور منظم جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف مؤثر کارروائیوں کے لیے جدید پولیسنگ وسائل، بہتر نقل و حرکت، آپریشنل تیاری اور استعداد کار میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔
اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ تعاون اور معاونت کے مختلف پروگراموں کا مقصد صرف آلات اور وسائل کی فراہمی تک محدود نہیں بلکہ ادارہ جاتی مضبوطی، پیشہ ورانہ تربیت، صلاحیت سازی اور پائیدار قانون نافذ کرنے کے نظام کو فروغ دینا بھی ہے۔
ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ محمد اقبال میمن نے سندھ حکومت کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ صوبے میں شفافیت، جوابدہی، پیشہ ورانہ معیار اور عوامی خدمت کے اصولوں کو مزید فروغ دیا جائے گا۔ انہوں نے بدلتے ہوئے سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی تعاون اور اسٹریٹجک شراکت داری کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
اجلاس کے شرکاء نے امید ظاہر کی کہ سندھ پولیس، محکمہ داخلہ سندھ اور بین الاقوامی شراکت داروں کے درمیان مسلسل تعاون سے صوبے میں امن و امان کی صورتحال مزید بہتر ہوگی، عوامی اعتماد میں اضافہ ہوگا اور سیکیورٹی کے مثبت نتائج حاصل ہوں گے۔ اجلاس کے اختتام پر امن، استحکام اور علاقائی سلامتی کے فروغ کے لیے باہمی تعاون کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔



