عالمیقومی

محسن نقوی کے تہران میں اعلیٰ سطحی مذاکرات، ایران امریکا مذاکرات کی بحالی کی کوششیں

پاکستان کی سفارتی سرگرمیاں تیز، خطے میں کشیدگی کم کرنے اور مذاکراتی عمل بحال کرنے پر زور

محسن نقوی نے تہران میں اعلیٰ ایرانی قیادت سے اہم ملاقاتیں کیں، جن میں خطے کی تازہ صورتحال، مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ایران امریکا مذاکرات کی بحالی کے امکانات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق محسن نقوی نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان، ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں خطے میں امن و استحکام، سفارتی روابط کے فروغ اور جاری کشیدگی کم کرنے کے مختلف پہلو زیر بحث آئے۔

ملاقاتوں کے دوران پاکستان کی جانب سے اس بات پر زور دیا گیا کہ خطے کے مسائل کا حل مذاکرات، سفارت کاری اور باہمی تعاون میں مضمر ہے۔ پاکستانی وفد نے ایران اور امریکا کے درمیان تعطل کا شکار مذاکراتی عمل کو بحال کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

ایرانی قیادت نے خطے میں امن کے قیام کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ایرانی حکام نے کشیدگی کم کرنے اور بات چیت کے عمل کو آگے بڑھانے کے حوالے سے پاکستان کی کوششوں کو مثبت قرار دیا۔

پاکستان اور ایران کے درمیان دوطرفہ تعلقات، سرحدی تعاون، تجارت، علاقائی روابط اور سیکیورٹی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں ممالک نے باہمی تعاون کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیا۔

سیاسی و سفارتی ماہرین کے مطابق پاکستان حالیہ مہینوں میں خطے میں سفارتی سرگرمیوں میں متحرک کردار ادا کر رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کی بحالی نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی امن و معیشت کے لیے بھی اہم سمجھی جا رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان مختلف سفارتی ذرائع سے دونوں ممالک کے درمیان رابطے بحال کرنے اور ممکنہ مذاکراتی ماحول پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ خطے میں مزید کشیدگی سے بچا جا سکے۔

ملاقاتوں میں اس امر پر بھی اتفاق کیا گیا کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے باہمی احترام، مذاکرات اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری ضروری ہے۔

ماہرین کے مطابق پاکستان کی یہ سفارتی کوششیں خطے میں اس کے بڑھتے ہوئے سفارتی کردار کی عکاسی کرتی ہیں، جبکہ تہران میں ہونے والے یہ اعلیٰ سطحی رابطے مستقبل کی علاقائی سیاست پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button