
پاک فوج نے بھارتی آرمی چیف کے حالیہ بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ کسی ایٹمی ملک کو مٹانے کی دھمکی دینا ذہنی دیوالیہ پن اور غیر ذمہ دارانہ سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ پاک فوج کے مطابق اس قسم کے بیانات نہ صرف خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرناک ہیں بلکہ عالمی ذمہ داریوں اور سفارتی اصولوں کے بھی منافی ہیں۔
ترجمان کے مطابق پاکستان ایک ذمہ دار ایٹمی ریاست ہے جو اپنے دفاع کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج ہر قسم کی جارحیت کا بھرپور اور مؤثر جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں، اور دشمن کی کسی بھی مہم جوئی کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔
بیان میں کہا گیا کہ جنوبی ایشیا جیسے حساس خطے میں اشتعال انگیز بیانات کشیدگی میں اضافے کا سبب بن سکتے ہیں۔ پاک فوج نے زور دیا کہ خطے کے مسائل کو دھمکیوں یا جنگی بیانات کے بجائے سفارت کاری، مذاکرات اور ذمہ دارانہ رویے کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔
پاکستان کی عسکری قیادت نے کہا کہ پاکستانی قوم اپنی خودمختاری، سالمیت اور قومی وقار کے تحفظ کے لیے متحد ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی پاکستان نے ہر مشکل صورتحال میں قومی دفاع کو یقینی بنایا اور مستقبل میں بھی کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ پاکستان امن پسند ملک ہے اور خطے میں پائیدار امن و استحکام کا خواہاں ہے، تاہم امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ پاک فوج کے مطابق قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔
دفاعی ماہرین کے مطابق ایٹمی صلاحیت رکھنے والے ممالک کے درمیان سخت بیانات عالمی سطح پر تشویش کا باعث بنتے ہیں، کیونکہ اس سے خطے میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کو تحمل، سفارتی رابطوں اور بین الاقوامی اصولوں کے مطابق معاملات آگے بڑھانے چاہئیں۔
بھارت اور پاکستان کے درمیان ماضی میں بھی مختلف مواقع پر کشیدگی دیکھی گئی ہے، تاہم عالمی برادری ہمیشہ دونوں ممالک پر تحمل اور مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے پر زور دیتی رہی ہے۔
سیاسی اور سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے بیانات نہ صرف دوطرفہ تعلقات کو متاثر کرتے ہیں بلکہ خطے کی معاشی اور سیکیورٹی صورتحال پر بھی منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق جنوبی ایشیا میں امن اور استحکام کے لیے ذمہ دارانہ بیانیہ انتہائی ضروری ہے۔
پاک فوج کے ترجمان نے کہا کہ پاکستانی عوام اپنی افواج کے ساتھ کھڑے ہیں اور ملک کے دفاع کے لیے مکمل یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دشمن کے کسی بھی مذموم عزائم کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔
بیان میں عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا گیا کہ وہ اشتعال انگیز بیانات کا نوٹس لے اور خطے میں امن برقرار رکھنے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔
دوسری جانب بھارتی بیان پر پاکستان کے سیاسی، عوامی اور سفارتی حلقوں کی جانب سے بھی سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ مختلف رہنماؤں نے اسے غیر ذمہ دارانہ بیان قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسی زبان خطے کے امن کے لیے نقصان دہ ہے۔
ماہرین کے مطابق پاکستان اور بھارت جیسے ایٹمی طاقت رکھنے والے ممالک کے درمیان کشیدگی میں کمی اور مسلسل سفارتی رابطے ہی خطے میں پائیدار امن کی ضمانت بن سکتے ہیں۔


