معرکۂ حق میں پاک فوج کو تاریخی کامیابی ملی، بھارت آج تک پہلگام واقعے کے شواہد نہ دے سکا: سعید غنی
پیپلز پارٹی کراچی کے تحت 9 مئی کو سی ویو پر “معرکۂ حق” جشن کا اعلان، قومی نغمے، لیزر شو اور آتشبازی پروگرام کا حصہ ہوں گے

سندھ کے وزیرِ محنت و افرادی قوت و سماجی تحفظ اور پاکستان پیپلز پارٹی کراچی ڈویژن کے صدر سعید غنی نے کہا ہے کہ “معرکۂ حق” میں پاکستان کی مسلح افواج نے دنیا کی تاریخ میں ایک تاریخی کامیابی حاصل کی اور اپنے سے کئی گنا بڑی فوج کو شکست دے کر قومی دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنا دیا۔
کراچی میں سندھ اسمبلی کے میڈیا کارنر پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے سعید غنی نے کہا کہ بھارت نے اپریل 2025 میں پہلگام واقعے کا الزام پاکستان پر عائد کیا، تاہم ایک سال گزر جانے کے باوجود وہ عالمی برادری کے سامنے اس کے شواہد پیش نہیں کر سکا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے نہ صرف ان الزامات کی سختی سے تردید کی بلکہ غیر جانبدارانہ تحقیقات کی بھی پیشکش کی، مگر بھارت اس پر آمادہ نہ ہوا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان کو ایسے شواہد بھی ملے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ پہلگام واقعے میں بھارت خود ملوث ہو سکتا ہے۔ سعید غنی کے مطابق بھارت کی جانب سے پاکستان کے خلاف مسلسل پروپیگنڈا خطے میں کشیدگی پیدا کرنے کی کوشش ہے، لیکن پاکستان نے ہر سطح پر مؤثر جواب دیا۔
اس موقع پر شرمیلا فاروقی، جاوید ناگوری، شکیل چوہدری اور دیگر رہنما بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔
سعید غنی نے کہا کہ اس وقت پورے ملک میں “معرکۂ حق” کی کامیابی کا جشن منایا جا رہا ہے اور اسی سلسلے میں پیپلز پارٹی کراچی کے تحت 9 مئی کو شام 5 بجے نشانِ پاکستان پر ایک عظیم الشان تقریب منعقد کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ تقریب میں ملک کے معروف فنکار شرکت کریں گے اور قومی، ملی اور علاقائی نغمے پیش کیے جائیں گے، جبکہ لیزر لائٹنگ اور آتشبازی کا خصوصی اہتمام بھی کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ “معرکۂ حق” کی پہلی سالگرہ کے موقع پر پورے کراچی میں بینرز اور پینا فلیکس آویزاں کیے گئے ہیں، جبکہ مختلف اضلاع میں خصوصی کیمپس بھی قائم کیے گئے ہیں تاکہ عوام کو اس قومی کامیابی سے آگاہ کیا جا سکے۔
سعید غنی نے کہا کہ 6 اور 7 مئی 2025 کو بھارت نے پاکستان کے نہتے شہریوں، مساجد اور مدارس کو نشانہ بنایا، جس کے جواب میں پاک فوج، پاک فضائیہ اور پاک بحریہ نے مشترکہ اور مؤثر کارروائی کی۔ ان کے مطابق پاک فضائیہ نے چند لمحوں میں بھارت کے 8 جنگی طیارے، جن میں 4 رافیل طیارے بھی شامل تھے، مار گرائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی افواج نے بھارت کے ایئر ڈیفنس سسٹم کو بھی مؤثر انداز میں ناکارہ بنایا، جس کے بعد بھارت نے عالمی طاقتوں، خصوصاً امریکہ، سے رابطے کر کے جنگ بندی کی کوشش کی۔ ان کے مطابق اس جنگ کے بعد بھارت کا غرور ٹوٹ گیا اور خطے میں اس کی اجارہ داری بھی کمزور ہوئی۔
ایک سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ حالیہ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں بھی پاکستان نے ایک ذمہ دار کردار ادا کیا، جبکہ بھارت کا کوئی نمایاں کردار نظر نہیں آیا۔ ان کے مطابق پاکستان کی سفارتی حکمت عملی عالمی سطح پر مؤثر ثابت ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ “معرکۂ حق” میں جہاں افواجِ پاکستان نے اہم کردار ادا کیا، وہیں ملک کی سیاسی قیادت نے بھی مکمل اتحاد کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس دوران آصف علی زرداری بطور صدرِ مملکت اہم مشاورت کا حصہ رہے، جبکہ بلاول بھٹو زرداری نے عالمی فورمز پر پاکستان کا مؤقف بھرپور انداز میں پیش کیا۔
سعید غنی نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے ایک سفارتی وفد بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں بھیجا گیا، جبکہ بھارت نے اپنے سینئر سیاستدان ششی تھرور کو وفد کی سربراہی سونپی۔ ان کے مطابق بلاول بھٹو نے اپنی نوجوان قیادت کے باوجود عالمی فورمز پر بھارت کے مؤقف کو مؤثر انداز میں چیلنج کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاک فوج کی کامیابی سے پاکستانی عوام کے حوصلے بلند ہوئے ہیں اور اب کوئی بھی ملک پاکستان کے خلاف جارحیت سے پہلے کئی بار سوچے گا۔ ان کے مطابق پاکستان نے ثابت کیا ہے کہ وہ اپنی خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔
کشمیر کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے سعید غنی نے کہا کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی خود اس بات کا اظہار کر چکے ہیں کہ کشمیر پر مذاکرات ضروری ہیں۔ ان کے مطابق بھارت اب یہ سمجھ چکا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر خطے میں پائیدار امن ممکن نہیں۔
انہوں نے کہا کہ “معرکۂ حق” کے بعد عالمی سطح پر کشمیر کا مسئلہ دوبارہ نمایاں ہوا ہے اور پاکستان کے مؤقف کو زیادہ توجہ ملی ہے۔
دفعہ 144 کے نفاذ سے متعلق سوال پر سعید غنی نے کہا کہ پیپلز پارٹی ہر بڑے اور چھوٹے پروگرام کے لیے باقاعدہ قانونی اجازت حاصل کرتی ہے، اور 9 مئی کی تقریب کے لیے بھی تمام قانونی تقاضے پورے کیے گئے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ تقریب صرف پیپلز پارٹی کی نہیں بلکہ پورے پاکستان کی تقریب ہے، جس میں تمام شہریوں کو شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ انتظامیہ کی کوشش ہے کہ عوام کو کم سے کم مشکلات کا سامنا ہو، اسی لیے آدھی سڑک ٹریفک کے لیے کھلی رکھنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ تاہم انہوں نے شہریوں سے ممکنہ تکلیف پر پیشگی معذرت بھی کی اور کہا کہ یہ ایک قومی تہوار ہے جسے سب کو مل کر منانا چاہیے۔
دہشت گردی سے متعلق ایک سوال پر سعید غنی نے کہا کہ پاکستان میں دہشت گرد عناصر کے بھارت سے روابط کے شواہد موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کامیاب حکمت عملی کے باعث کراچی میں گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران دہشت گردی کا کوئی بڑا واقعہ پیش نہیں آیا۔
تقریب میں دیگر سیاسی جماعتوں کو دعوت دینے سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ یہ مکمل عوامی پروگرام ہے اور ہر پاکستانی کو اس میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔
پریس کانفرنس کے اختتام پر سعید غنی نے کہا کہ پاکستان نے “معرکۂ حق” میں نہ صرف عسکری میدان بلکہ سفارتی اور سیاسی محاذ پر بھی کامیابی حاصل کی ہے، اور پوری قوم اپنی افواج کے ساتھ کھڑی ہے۔



