بھارت کا دہشت گردی ڈرامہ ہمیشہ کیلئے دفن، پانچ گنا بڑے دشمن کو ہر محاذ پر شکست دی: پاک فوج
پاک فوج کا مؤقف، دشمن کے الزامات بے بنیاد قرار، قومی سلامتی کے دفاع کیلئے ہر سطح پر کامیابی کا دعویٰ

پاک فوج نے اپنے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے پاکستان پر دہشت گردی سے متعلق عائد کیے جانے والے الزامات بے بنیاد اور حقائق کے منافی ہیں، جبکہ پاکستان نے ہر محاذ پر اپنے دفاع کو مؤثر انداز میں یقینی بنایا ہے۔ فوجی ترجمان کے مطابق دشمن کی جانب سے پھیلایا جانے والا “دہشت گردی کا بیانیہ” عالمی سطح پر ناکام ہو چکا ہے اور پاکستان نے سفارتی، عسکری اور اطلاعاتی میدان میں مؤثر جواب دیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ پاکستان ایک طویل عرصے سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صفِ اول کا کردار ادا کر رہا ہے اور اس جنگ میں ہزاروں جانوں کی قربانی دی جا چکی ہے۔ پاک فوج کے مطابق دنیا بھر نے پاکستان کی انسدادِ دہشت گردی کوششوں اور قربانیوں کا اعتراف کیا ہے، اس لیے پاکستان پر بے بنیاد الزامات عائد کرنا حقائق کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔
فوجی حکام نے کہا کہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے ملک کے مختلف علاقوں میں دہشت گرد عناصر کے خلاف کامیاب کارروائیاں کیں، جن کے نتیجے میں امن و امان کی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی۔ ان کے مطابق ملک کے سرحدی علاقوں میں نگرانی کے نظام کو مزید مؤثر بنایا گیا ہے تاکہ کسی بھی قسم کی دراندازی یا تخریب کاری کو بروقت روکا جا سکے۔
بیان میں بھارت پر الزام عائد کیا گیا کہ وہ خطے میں کشیدگی پیدا کرنے اور پاکستان کے خلاف منفی پروپیگنڈا کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ پاک فوج کے مطابق بھارتی بیانیہ وقت کے ساتھ کمزور ہوا کیونکہ عالمی سطح پر حقائق سامنے آتے گئے۔
پاکستان نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا ہے کہ خطے میں امن اور استحکام مذاکرات، تعاون اور باہمی احترام کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ فوجی ترجمان نے کہا کہ پاکستان نے ہر فورم پر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کیا، جبکہ دشمن کی جانب سے اشتعال انگیزی اور الزامات کا سلسلہ جاری رکھا گیا۔
بیان میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ پاکستان کی افواج ہر قسم کے خطرات سے نمٹنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں۔ جدید جنگی حکمت عملی، تربیت، اور قومی یکجہتی کی بدولت پاکستان نے مختلف چیلنجز کا کامیابی سے مقابلہ کیا۔ فوجی حکام کے مطابق دشمن کی جانب سے پھیلائی جانے والی غلط معلومات اور نفسیاتی جنگ کا بھی مؤثر جواب دیا گیا۔
پاک فوج نے کہا کہ ملکی دفاع صرف عسکری میدان تک محدود نہیں بلکہ سفارتی، اطلاعاتی اور سائبر محاذ پر بھی بھرپور توجہ دی جا رہی ہے۔ جدید دور میں اطلاعاتی جنگ کی اہمیت بڑھ چکی ہے، اسی لیے قومی بیانیے کے تحفظ کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
بیان میں پاکستانی عوام کے کردار کو بھی سراہا گیا اور کہا گیا کہ قوم نے ہمیشہ اپنی افواج کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ فوجی ترجمان کے مطابق یہی اتحاد پاکستان کی اصل طاقت ہے، جس کی بدولت ہر قسم کے بیرونی دباؤ اور خطرات کا مقابلہ ممکن ہوا۔
ماہرین کے مطابق پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات طویل عرصے سے کشیدہ رہے ہیں، اور دونوں ممالک اکثر ایک دوسرے پر مختلف الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔ تاہم بین الاقوامی برادری ہمیشہ اس بات پر زور دیتی رہی ہے کہ دونوں ایٹمی طاقتیں تحمل اور سفارتکاری کا راستہ اختیار کریں۔
پاک فوج کے بیان میں اس عزم کا اعادہ بھی کیا گیا کہ پاکستان اپنی خودمختاری، سلامتی اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام جاری رکھے گا۔ فوجی حکام نے کہا کہ دشمن کے کسی بھی مذموم عزائم کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا اور ملک کے دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
بیان کے اختتام پر کہا گیا کہ پاکستان ایک پرامن ملک ہے اور خطے میں امن و ترقی چاہتا ہے، تاہم اگر اس کی سلامتی یا خودمختاری کو چیلنج کیا گیا تو بھرپور جواب دیا جائے گا۔ پاک فوج نے اس عزم کا اظہار کیا کہ قومی سلامتی کے لیے تمام ادارے اور عوام متحد ہیں اور ہر قسم کے خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔



