پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مجوزہ اضافہ مسترد، وزیراعظم کا عوام کو بڑا ریلیف
پٹرول میں 95 اور ڈیزل میں 203 روپے اضافے کی سمری رد، عالمی قیمتوں کے باوجود حکومت 56 ارب کا بوجھ خود اٹھائے گی

حکومت پاکستان نے عوام کو بڑا ریلیف دیتے ہوئے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بھاری اضافے کی مجوزہ سمری مسترد کر دی ہے۔ وزیراعظم نے قوم سے خطاب میں اعلان کیا کہ پٹرول میں 95 روپے اور ڈیزل میں 203 روپے فی لیٹر اضافے کی تجویز کو قبول نہیں کیا جائے گا اور موجودہ قیمتیں برقرار رکھی جائیں گی۔
وزیراعظم نے اپنے خطاب میں کہا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کے باعث پاکستان میں پیٹرول کی قیمت 544 روپے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت 790 روپے فی لیٹر تک پہنچ سکتی تھی۔ تاہم حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ اس اضافے کا بوجھ براہ راست عوام پر منتقل نہیں کیا جائے گا بلکہ اسے خود برداشت کیا جائے گا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اس فیصلے کے نتیجے میں قومی خزانے پر تقریباً 56 ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا، لیکن موجودہ معاشی حالات میں عوام کو مزید مشکلات میں دھکیلنا حکومت کے لیے قابل قبول نہیں۔ وزیراعظم کے مطابق حکومت کی اولین ترجیح عام آدمی کو ریلیف فراہم کرنا اور مہنگائی کے اثرات کو کم سے کم کرنا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر یہ اضافہ منظور کر لیا جاتا تو ملک میں مہنگائی کی شرح میں نمایاں اضافہ ہو سکتا تھا، کیونکہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں براہ راست ٹرانسپورٹ، اشیائے خوردونوش اور دیگر بنیادی ضروریات کی قیمتوں پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ حکومت کے اس فیصلے سے وقتی طور پر مہنگائی کے دباؤ کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔
دوسری جانب معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکومت کے لیے اس مالی بوجھ کو طویل عرصے تک برداشت کرنا ایک بڑا چیلنج ہو سکتا ہے۔ اگر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند رہتی ہیں تو حکومت کو سبسڈی برقرار رکھنے کے لیے اضافی وسائل کا بندوبست کرنا ہوگا، جس کے لیے ممکنہ طور پر ٹیکس اصلاحات یا دیگر مالی اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔
عوامی سطح پر اس فیصلے کو سراہا جا رہا ہے، خاص طور پر ٹرانسپورٹ اور زراعت سے وابستہ افراد کے لیے یہ ایک بڑی سہولت ہے۔ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ نہ ہونے سے نہ صرف کرایوں میں اضافہ روکا جا سکے گا بلکہ زرعی لاگت پر بھی قابو پایا جا سکے گا۔
حکومت نے عندیہ دیا ہے کہ مستقبل میں بھی عالمی قیمتوں کا مسلسل جائزہ لیا جائے گا اور عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کیے جائیں گے۔ وزیراعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مشکل معاشی حالات کے باوجود حکومت عوام کو ریلیف دینے کے لیے ہر ممکن اقدام جاری رکھے گی۔
مجموعی طور پر یہ فیصلہ موجودہ معاشی دباؤ کے دوران ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے، جو نہ صرف عوامی مشکلات کو کم کرے گا بلکہ حکومت کی عوام دوست پالیسیوں کی عکاسی بھی کرتا ہے۔


