کویت میں تین امریکی لڑاکا طیارے کس نے اور کیسے تباہ کیے؟
دوستانہ فائرنگ کا واقعہ، ایرانی حملہ نہیں

مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی کے دوران کویت میں تین امریکی لڑاکا طیاروں کی تباہی کی خبر نے خطے میں تشویش کی لہر دوڑا دی۔ ابتدائی طور پر یہ گمان کیا جا رہا تھا کہ یہ طیارے ایران کے حملے کا نشانہ بنے، تاہم بعد میں واضح ہوا کہ معاملہ کچھ اور تھا۔
امریکی فوج کے مطابق یہ طیارے ایرانی حملے میں نہیں بلکہ ایک ’دوستانہ فائرنگ‘ (Friendly Fire) کے واقعے میں تباہ ہوئے۔
🛡️ سینٹکام کی تصدیق
امریکی سینٹرل کمانڈ United States Central Command (سینٹکام) نے باضابطہ بیان جاری کرتے ہوئے تصدیق کی کہ اس کے تین F-15E Strike Eagle لڑاکا طیارے کویت میں غلطی سے مار گرائے گئے۔
بیان کے مطابق یہ طیارے ایران میں جاری ایک آپریشن میں شریک تھے اور جنگی ماحول کے دوران کویت کے فضائی دفاعی نظام نے غلط شناخت کی بنیاد پر انہیں نشانہ بنا دیا۔
سینٹکام کا کہنا ہے کہ:
لڑائی کے دوران، جس میں ایرانی طیارے، بیلسٹک میزائل اور ڈرونز شامل تھے، کویتی فضائی دفاعی نظام نے غلطی سے امریکی طیاروں کو ہدف بنایا۔
🇰🇼 کویتی حکومت کا مؤقف
کویت کی وزارتِ دفاع نے بھی طیاروں کے تباہ ہونے کی تصدیق کی۔ ان کا کہنا تھا کہ:
واقعے میں عملے کے ارکان محفوظ رہے
تمام اہلکاروں کو طبی معائنے کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا
امریکہ کے ساتھ مل کر واقعے کی تحقیقات مکمل کر لی گئی ہیں
کویتی حکام کے مطابق یہ ایک تکنیکی اور شناختی غلطی تھی، نہ کہ کسی دشمن کارروائی کا نتیجہ۔
✈️ ایف 15 سٹرائیک ایگل کی خصوصیات
F-15E Strike Eagle امریکی فضائیہ کا ایک جدید ملٹی رول لڑاکا طیارہ ہے جو:
فضا سے فضا اور فضا سے زمین دونوں طرح کے حملوں کی صلاحیت رکھتا ہے
دن اور رات ہر موسم میں مشن مکمل کر سکتا ہے
نچلی پروازوں اور طویل فاصلے تک ہدف کو نشانہ بنانے کی طاقت رکھتا ہے
جدید اے پی جی 70 ریڈار سسٹم سے لیس ہے
یہ طیارہ امریکی فضائیہ کی طاقت کا اہم حصہ سمجھا جاتا ہے، اسی لیے اس کی تباہی غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔
⚠️ دوستانہ فائرنگ کیا ہوتی ہے؟
دوستانہ فائرنگ اس واقعے کو کہا جاتا ہے جب جنگی حالات میں غلط شناخت یا تکنیکی خرابی کی وجہ سے اپنی ہی اتحادی افواج ایک دوسرے کو نشانہ بنا لیں۔ جنگی دباؤ، ریڈار کی غلطی یا کمیونیکیشن میں خلل اس کی بڑی وجوہات ہو سکتی ہیں۔
نتیجہ
کویت میں تباہ ہونے والے تین امریکی طیارے ایرانی حملے میں نہیں بلکہ کویتی فضائی دفاعی نظام کی غلطی سے مار گرائے گئے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ اس واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
تاہم یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جنگی ماحول میں غلطیوں کا خطرہ ہمیشہ موجود رہتا ہے — حتیٰ کہ اتحادی افواج کے درمیان بھی۔
رپورٹ: عبدالمومن


