طالبان رجیم کے بعد پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ
سرحدی سیکیورٹی، انٹیلی جنس چیلنجز اور علاقائی صورتحال پر تشویش میں اضافہ

تحریک طالبان افغانستان کے اقتدار میں آنے کے بعد خطے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال میں نمایاں تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے، جس کے اثرات پاکستان پر بھی مرتب ہوئے۔ سرکاری و دفاعی حلقوں کے مطابق سرحدی علاقوں میں شدت پسند عناصر کی سرگرمیوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے نتیجے میں مختلف نوعیت کے حملوں اور سیکیورٹی واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ بعض کالعدم تنظیموں نے بدلتی ہوئی علاقائی صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی تنظیم نو کی کوشش کی۔ سرحدی گزرگاہوں اور دشوار گزار پہاڑی علاقوں کو استعمال کرتے ہوئے دراندازی کے واقعات میں اضافہ ہوا، جس کے باعث قبائلی اضلاع اور حساس تنصیبات کو سیکیورٹی خدشات لاحق ہوئے۔ سیکیورٹی فورسز نے ان خطرات سے نمٹنے کے لیے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں تیزی لائی اور سرحدی نگرانی کا نظام مزید مؤثر بنایا۔
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق افغانستان میں سیاسی تبدیلی کے بعد پیدا ہونے والا خلا بعض غیر ریاستی عناصر کے لیے سازگار ماحول بن سکتا ہے، خاص طور پر اگر سرحدی تعاون اور معلومات کے تبادلے میں کمی ہو۔ اسی تناظر میں پاکستان نے بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ افغان سرزمین کسی بھی ہمسایہ ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے۔
ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کی وجوہات صرف بیرونی عوامل تک محدود نہیں بلکہ داخلی چیلنجز بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ معاشی مشکلات، نوجوانوں میں بے روزگاری اور انتہاپسند بیانیے کی آن لائن موجودگی جیسے عناصر شدت پسندی کو فروغ دے سکتے ہیں۔ اس لیے ایک جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے جس میں سیکیورٹی اقدامات کے ساتھ ساتھ سماجی و معاشی اصلاحات بھی شامل ہوں۔
حکام کے مطابق ریاستی ادارے مکمل ہم آہنگی کے ساتھ کام کر رہے ہیں اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حاصل کی گئی کامیابیوں کو برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہیں۔ علاقائی استحکام، سفارتی رابطوں اور مؤثر بارڈر مینجمنٹ کو پائیدار امن کے لیے کلیدی حیثیت حاصل ہے۔



