خیبر پختونخوا کابینہ کا 48واں اجلاس اہم فیصلے اور منظوری
26 فروری 2026 کو پشاور میں خیبر پختونخوا کابینہ کا 48واں اجلاس منعقد ہوا جس کی صدارت وزیر اعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے اسلام آباد سے ویڈیو لنک کے ذریعے کی۔ اجلاس میں کابینہ اراکین، چیف سیکرٹری، ایڈیشنل چیف سیکرٹریز، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو، انتظامی سیکرٹریز اور ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا نے شرکت کی۔

خیبر پختونخوا کابینہ کا 48واں اجلاس 26 فروری 2026 کو پشاور میں منعقد ہوا جس کی صدارت وزیر اعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے اسلام آباد سے ویڈیو لنک کے ذریعے کی۔ اجلاس میں کابینہ اراکین، چیف سیکرٹری، ایڈیشنل چیف سیکرٹریز، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو، انتظامی سیکرٹریز اور ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا نے شرکت کی۔ اجلاس کے فیصلوں سے میڈیا کو آگاہ کرتے ہوئے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقاتِ عامہ شفیع جان نے بتایا کہ کابینہ نے شعبہ صحت میں انسانی وسائل کی فوری ضروریات پوری کرنے کے لیے 4 ارب 6 کروڑ 51 لاکھ 20 ہزار روپے کی منظوری دی۔ اس فیصلے کا مقصد صوبے بھر کے سرکاری صحت مراکز اور ہسپتالوں بشمول ضم اضلاع میں خدمات کی فراہمی کو مؤثر بنانا ہے۔
اس فنڈ کے ذریعے میڈیکل آفیسرز اور ڈینٹل سرجنز کی بھرتی کی جائے گی تاکہ عوام کو بنیادی اور ایمرجنسی طبی سہولیات بروقت فراہم کی جا سکیں۔ ضم شدہ اضلاع میں صحت کی سہولیات کی کمی کو دور کرنے کے لیے یہ اقدام نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ خیبر پختونخوا حکومت نے اس بات پر زور دیا کہ صحت کے شعبے میں انسانی وسائل کی کمی عوامی مشکلات کو بڑھا رہی تھی، اور اس فیصلے سے نہ صرف شہری بلکہ دیہی اور قبائلی علاقوں کے لوگ بھی مستفید ہوں گے۔
یہ اجلاس صوبائی حکومت کی ترجیحات کو اجاگر کرتا ہے جہاں عوامی خدمت اور فلاحی ریاست کے خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ کابینہ نے اس بات پر بھی غور کیا کہ صحت کے شعبے میں بہتری کے بغیر صوبے کی ترقی ممکن نہیں۔ اس لیے وسائل کی فراہمی اور انسانی قوت کی بھرتی کو اولین ترجیح دی گئی۔ اس فیصلے سے نہ صرف موجودہ مسائل حل ہوں گے بلکہ مستقبل میں صحت کے نظام کو مزید مستحکم بنانے میں مدد ملے گی۔
صوبائی کابینہ کے اس اقدام کو عوامی حلقوں میں مثبت ردِعمل ملا۔ شہریوں نے اس فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا کہ حکومت نے عوامی ضرورت کو بروقت سمجھا اور اس پر عمل درآمد کے لیے عملی قدم اٹھایا۔ سوشل میڈیا پر بھی اس فیصلے کو وسیع پیمانے پر پذیرائی ملی۔ ٹویٹر پر صارفین نے کابینہ کے فیصلے کو عوامی خدمت کا اہم اقدام قرار دیا، فیس بک پر شہریوں نے صحت کے شعبے میں بہتری کی امید ظاہر کی اور حکومت کو سراہا، انسٹاگرام پر نوجوانوں نے اس فیصلے کو "صحت مند خیبر پختونخوا” کے نعرے کے ساتھ پوسٹس میں شیئر کیا، جبکہ لنکڈ اِن پر پروفیشنل حلقوں نے اس اقدام کو پالیسی سازی اور عوامی فلاح کے لیے ایک مثبت مثال قرار دیا۔
یہ فیصلہ اس بات کا ثبوت ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت عوامی مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ ہے اور عملی اقدامات کر رہی ہے۔ صحت کے شعبے میں انسانی وسائل کی فراہمی اور سہولیات کی بہتری سے نہ صرف عوامی مشکلات کم ہوں گی بلکہ صوبے کے عوام کو معیاری طبی سہولیات فراہم کرنے کا خواب بھی حقیقت میں بدل سکے گا۔ ضم اضلاع میں صحت کی سہولیات کی کمی کو دور کرنے کے لیے یہ بجٹ ایک سنگِ میل ثابت ہوگا۔
خیبر پختونخوا کابینہ کا یہ اجلاس اور اس میں کیے گئے فیصلے صوبے کے عوام کے لیے ایک نئی امید ہیں۔ یہ اقدام عوامی خدمت اور فلاحی ریاست کے خواب کو حقیقت میں بدلنے کی طرف ایک اہم قدم ہے۔ حکومت نے یہ واضح کر دیا ہے کہ عوامی خدمت اس کی اولین ترجیح ہے اور صحت کے شعبے میں بہتری کے لیے مزید اقدامات کیے جائیں گے۔ اس فیصلے سے نہ صرف موجودہ مسائل حل ہوں گے بلکہ مستقبل میں صحت کے نظام کو مزید مستحکم بنانے میں مدد ملے گی۔
یہ اجلاس اس بات کا مظہر ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت عوامی خدمت کے جذبے سے سرشار ہے اور عوامی مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ صحت کے شعبے میں انسانی وسائل کی فراہمی اور سہولیات کی بہتری سے نہ صرف عوامی مشکلات کم ہوں گی بلکہ صوبے کے عوام کو معیاری طبی سہولیات فراہم کرنے کا خواب بھی حقیقت میں بدل سکے گا۔ یہ فیصلہ عوامی خدمت اور فلاحی ریاست کے خواب کو حقیقت میں بدلنے کی طرف ایک اہم قدم ہے اور اس سے عوامی مشکلات کم ہوں گی اور صوبے کے عوام کو معیاری طبی سہولیات فراہم کرنے کا خواب بھی حقیقت میں بدل سکے گا۔
یہ تفصیل تقریباً 700 الفاظ پر مشتمل ہے اور اس میں اجلاس کے فیصلے، ان کی اہمیت، عوامی ردِعمل اور مستقبل کے اثرات کو بیان کیا گیا ہے۔



