قومی

باجوڑ: ابابیل اسکواڈ کے چار شہداء کی نمازِ جنازہ سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا

پولیس کے دستے کی سلامی، عوام کی بڑی تعداد کی شرکت

ابابیل اسکواڈ کے چار بہادر جوانوں کی نمازِ جنازہ سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کر دی گئی۔ اس موقع پر پولیس کے چاق و چوبند دستے نے شہداء کو سلامی پیش کی، جبکہ عوام کی بڑی تعداد نے جنازے میں شرکت کر کے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ جنازے کی تقریب نہ صرف ایک مذہبی فریضہ تھی بلکہ ایک قومی اجتماع کی شکل اختیار کر گئی، جہاں ہر آنکھ اشکبار اور ہر دل شہداء کی قربانیوں پر فخر محسوس کر رہا تھا۔

تقریب کی تفصیلات

نمازِ جنازہ میں اعلیٰ حکومتی شخصیات، پولیس افسران، سیاسی رہنما اور سماجی کارکنان شریک ہوئے۔ جنازے کے دوران پولیس کے دستے نے روایتی انداز میں سلامی پیش کی، جو شہداء کی عظیم قربانی کو خراجِ تحسین پیش کرنے کی علامت تھی۔ جنازے کے بعد شہداء کو مکمل سرکاری پروٹوکول کے ساتھ سپردِ خاک کیا گیا۔

عوامی ردعمل

شہداء کی نمازِ جنازہ میں عوام کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ لوگ دور دراز علاقوں سے آئے تاکہ اپنے ہیروز کو آخری الوداع کہہ سکیں۔ ایک بزرگ شہری نے کہا: "یہ جوان ہمارے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر گئے، ان کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔” نوجوانوں نے بھی شہداء کے جنازے میں شرکت کو اپنی ذمہ داری قرار دیا اور کہا کہ یہ قربانیاں ملک کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے ہیں۔

حکومتی موقف

تقریب میں شریک حکومتی نمائندوں نے کہا کہ شہداء کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ وزیرِ داخلہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ "ابابیل اسکواڈ کے جوانوں نے اپنی جانیں قربان کر کے ثابت کیا ہے کہ پاکستان کے محافظ کسی بھی خطرے کے سامنے ڈٹ جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ حکومت ان کے اہلِ خانہ کے ساتھ کھڑی ہے اور ہر ممکن سہولت فراہم کرے گی۔”

ماہرین کی رائے

سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ شہداء کی قربانیاں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک سنگِ میل ہیں۔ ان کے مطابق، اس طرح کے واقعات قوم کو متحد کرتے ہیں اور عوام میں یہ احساس پیدا کرتے ہیں کہ امن و سلامتی کے لیے ہر شہری کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

نتیجہ

ابابیل اسکواڈ کے چار شہداء کی نمازِ جنازہ نہ صرف ایک مذہبی تقریب تھی بلکہ ایک قومی یکجہتی کا مظہر بھی تھی۔ عوام کی بڑی تعداد کی شرکت اور پولیس کے دستے کی سلامی اس بات کا ثبوت ہے کہ شہداء کی قربانیاں قوم کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گی۔ یہ تقریب اس عزم کی تجدید تھی کہ پاکستان کے عوام اور ادارے اپنے شہداء کو کبھی نہیں بھولیں گے اور ان کی قربانیوں کو ملک کے تحفظ اور سلامتی کی بنیاد سمجھیں گے۔

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button