پی ٹی آئی کا “عمران خان ریلیز فورس” بنانے کا اعلان
سابق وزیرِاعظم کی رہائی کے لیے ملک گیر عوامی و سیاسی مہم چلانے کا فیصلہ، کارکنان کو متحرک کرنے کی ہدایت

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے اپنے بانی اور سابق وزیرِاعظم عمران خان کی رہائی کے لیے “عمران خان ریلیز فورس” کے قیام کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ پارٹی قیادت کے مطابق یہ فورس ملک بھر میں ایک منظم اور مربوط مہم چلائے گی جس کا مقصد عمران خان کی جلد رہائی کے لیے عوامی، سیاسی اور قانونی سطح پر کوششوں کو تیز کرنا ہے۔ پی ٹی آئی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام موجودہ سیاسی صورتحال کے پیشِ نظر کیا گیا ہے اور اس کے ذریعے کارکنان کو ایک واضح لائحۂ عمل فراہم کیا جائے گا۔
پارٹی ذرائع کے مطابق “عمران خان ریلیز فورس” تنظیمی ڈھانچے کے تحت کام کرے گی اور اس میں مختلف سطحوں پر ذمہ داران مقرر کیے جائیں گے۔ ضلعی اور صوبائی سطح پر کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی جو ریلیوں، جلسوں اور عوامی رابطہ مہم کا اہتمام کریں گی۔ قیادت کا کہنا ہے کہ تمام سرگرمیاں آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے انجام دی جائیں گی اور پرامن احتجاج کو ترجیح دی جائے گی۔ پی ٹی آئی کے مطابق اس مہم کا بنیادی مقصد عوام کو یہ باور کرانا ہے کہ عمران خان کے خلاف مقدمات سیاسی نوعیت کے ہیں اور انہیں انصاف فراہم کیا جانا چاہیے۔
عمران خان اگست 2023 سے جیل میں ہیں اور انہیں مختلف مقدمات میں سزائیں سنائی جا چکی ہیں۔ وہ ان مقدمات کو سیاسی انتقام قرار دیتے ہیں اور مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ 2022 میں پارلیمانی عدم اعتماد کے ذریعے اقتدار سے ہٹائے جانے کے بعد ان کے خلاف کارروائیاں تیز کی گئیں۔ پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ ان کے قائد کو منصفانہ قانونی حق دیا جائے اور عدالتی عمل مکمل شفافیت کے ساتھ آگے بڑھایا جائے۔ پارٹی رہنماؤں نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ ہر قانونی فورم پر اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق “عمران خان ریلیز فورس” کا قیام آئندہ دنوں میں ملکی سیاست پر اثرانداز ہو سکتا ہے۔ ایک طرف یہ اقدام پارٹی کارکنان کو متحرک کرنے میں مدد دے گا، تو دوسری جانب سیاسی درجہ حرارت میں بھی اضافہ ممکن ہے۔ بعض حلقوں کا خیال ہے کہ اگر ملک گیر احتجاجی سرگرمیاں شروع ہوئیں تو حکومت اور اپوزیشن کے درمیان تناؤ مزید بڑھ سکتا ہے۔ تاہم پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ ان کی جدوجہد مکمل طور پر پرامن ہوگی اور وہ جمہوری طریقوں سے اپنا مؤقف پیش کریں گے۔
پارٹی قیادت نے کارکنان کو ہدایت کی ہے کہ وہ نظم و ضبط کا مظاہرہ کریں اور کسی بھی غیر قانونی سرگرمی سے گریز کریں۔ ساتھ ہی عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ جمہوری اقدار کے تحفظ اور انصاف کے قیام کے لیے پارٹی کی مہم کا ساتھ دیں۔ آنے والے ہفتوں میں یہ واضح ہوگا کہ “عمران خان ریلیز فورس” کس حد تک عوامی حمایت حاصل کر پاتی ہے اور سیاسی منظرنامے پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ موجودہ حالات میں یہ پیش رفت ملکی سیاست میں ایک اہم موڑ کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔



