قومیکھیلوں کی دنیا

زیر اعظم شہباز شریف کا ہاکی ٹیم مینجمنٹ کو فارغ کرنے کا فیصلہ

پاکستان اسپورٹس بورڈ کے ڈائریکٹر جنرل یاسر پیرزادہ کی جانب سے کھلاڑیوں کے الزامات پر انکوائری کا حکم، قومی کھیل میں اصلاحات کا عندیہ

شہباز شریف نے قومی ہاکی ٹیم کی حالیہ کارکردگی اور کھلاڑیوں کی جانب سے سامنے آنے والے سنگین الزامات کے بعد ٹیم مینجمنٹ کو فارغ کرنے کا بڑا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس اقدام کو قومی کھیل میں شفافیت، احتساب اور اصلاحات کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق قومی ہاکی ٹیم کے چند کھلاڑیوں نے مینجمنٹ کے رویے، سلیکشن کے طریقہ کار اور سہولیات کی فراہمی سے متعلق تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ کھلاڑیوں نے مؤقف اختیار کیا کہ انہیں بنیادی سہولیات، بروقت الاؤنسز اور پیشہ ورانہ ماحول میسر نہیں تھا، جس کے باعث ٹیم کی کارکردگی متاثر ہوئی۔ ان الزامات کے منظر عام پر آنے کے بعد معاملہ حکومتی سطح تک پہنچا۔

اس صورتحال پر فوری نوٹس لیتے ہوئے پاکستان اسپورٹس بورڈ کے ڈائریکٹر جنرل یاسر پیرزادہ نے باضابطہ انکوائری کا حکم دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کھلاڑیوں کی شکایات کو سنجیدگی سے لیا جائے گا اور حقائق سامنے لا کر ذمہ داروں کا تعین کیا جائے گا۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ انکوائری شفاف انداز میں مکمل کی جائے گی اور کسی کے ساتھ ناانصافی نہیں ہوگی۔

ذرائع کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں انتظامی بے ضابطگیوں اور رابطے کے فقدان کی نشاندہی کی گئی ہے۔ اسی تناظر میں وزیر اعظم نے سخت موقف اپناتے ہوئے ٹیم مینجمنٹ کو فارغ کرنے کی منظوری دی۔ حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ قومی کھیل میں بہتری کے لیے میرٹ، پیشہ ورانہ مہارت اور کھلاڑیوں کی فلاح کو اولین ترجیح دی جائے گی۔

یاد رہے کہ پاکستان میں ہاکی کو قومی کھیل کا درجہ حاصل ہے اور ماضی میں قومی ٹیم عالمی سطح پر نمایاں کامیابیاں سمیٹ چکی ہے۔ تاہم گزشتہ چند برسوں سے ٹیم کی کارکردگی تنزلی کا شکار رہی ہے، جس پر شائقین اور سابق کھلاڑیوں کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق انتظامی مسائل، مالی مشکلات اور طویل المدتی منصوبہ بندی کے فقدان نے کھیل کو نقصان پہنچایا۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ قومی ہاکی کے ڈھانچے کا جامع جائزہ لیا جائے اور اصلاحات کے لیے قابلِ عمل تجاویز پیش کی جائیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت کھیلوں کے فروغ اور نوجوان ٹیلنٹ کو مواقع فراہم کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ قومی ٹیم کی ساکھ بحال کرنا اور اسے دوبارہ عالمی سطح پر مسابقت کے قابل بنانا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔

دوسری جانب ہاکی حلقوں میں اس فیصلے کو مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ سابق اولمپینز اور کھیلوں کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر انکوائری غیر جانبدارانہ انداز میں مکمل کی گئی اور سفارشات پر عمل درآمد یقینی بنایا گیا تو قومی ہاکی ایک بار پھر عروج کی جانب گامزن ہو سکتی ہے۔

حکومتی ذرائع کے مطابق عبوری بنیادوں پر نئی مینجمنٹ کی تقرری جلد متوقع ہے جبکہ مستقل تقرریوں کے لیے شفاف اور میرٹ پر مبنی عمل اختیار کیا جائے گا۔ کھیلوں کے ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ اقدام قومی ہاکی میں احتساب کے عمل کو مضبوط کرے گا اور کھلاڑیوں کا اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button