🌍 پاکستان کا ‘بورڈ آف پِیس’: امن کی خواہش یا خطرناک توازن بازی؟
پاکستان نے امریکہ کے صدر کی سربراہی میں بنائے گئے ‘بورڈ آف پِیس’ کے پہلے اجلاس میں شرکت کا فیصلہ کیا ہے — ایک ایسا اقدام جسے حکومت نے عالمی امن میں پاکستان کا فعال کردار قرار دیا ہے، جبکہ اپوزیشن اور مبصرین نے اسے تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

پاکستان نے ‘بورڈ آف پیس’ کیوں جوائن کیا؟ حکومتی موقف
وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ پاکستان کا مقصد غزہ میں مستقل جنگ بندی، انسانی امداد میں اضافہ، اور دوبارہ تعمیر میں مدد کرنا ہے۔ اسلام آباد یہ ظاہر کرنا چاہتا ہے کہ وہ اس فورم کے ذریعے فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کو مضبوط بنانا چاہتا ہے، اور اس کے لیے اقدامات اقوام متحدہ کی قراردادوں کے دائرہ کار میں رہ کر کیے جائیں گے۔
وزیرِ منصوبہ بندی کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ پاکستان کی سفارتی کامیابی ہے اور اس سے غزہ میں جاری ظلم کے خلاف عالمی کوششوں میں پاکستان کی آواز مضبوط ہوگی۔
🧠 تنقید: اپوزیشن اور ماہرین کیا کہتے ہیں؟
اپوزیشن جماعتوں اور ماہرین نے حکومت کے فیصلے پر تنقید کی ہے۔
جی یو آئی (ف) کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ بورڈ امریکہ کے زیر اثر ہے اور پاکستان کو ایسے فورم میں شامل نہیں ہونا چاہیے جہاں اسرائیل اور امریکی مفادات غالب ہوں۔
پی ٹی آئی نے بھی کہا کہ اس فیصلے پر پارلیمنٹ میں مکمل مشاورت نہیں ہوئی اور اہم فیصلے عوام کے سامنے بیان کیے جانے چاہئیں تھے۔
بعض تجزیہ کاروں نے کہا کہ اس اقدام سے پاکستان اقوام متحدہ کے عالمی کردار کو کمزور کر رہا ہے اور ایک ایسے ڈھانچے میں شریک ہو رہا ہے جو بہت سے ممالک کے نزدیک متوازن بین الاقوامی امن کی کوششوں کے خلاف ہے۔
🕊️ ‘بورڈ آف پیس’ کیا ہے؟ کیا پاکستان کے فیصلے سے مسئلہ حل ہوگا؟
‘بورڈ آف پیس’ ایک بین الاقوامی فورم ہے جس کا مقصد غزہ اور دیگر تنازعات میں سیزفائر، انسانی امداد اور دوبارہ تعمیر کو باضابطہ بنانا ہے۔ اس کے ارکان نے مل کر غزہ کی تعمیر کے لیے اربوں ڈالر کے عطیات کا وعدہ بھی کیا ہے۔
تاہم بہت سے ممالک اسے تحفظ کے ساتھ دیکھتے ہیں کیونکہ اس کی ساخت، صدارت اور فیصلے زیادہ تر امریکہ کی مرضی کے مطابق دکھائی دیتے ہیں۔ فلسطینی نمائندگی نہ ہونا اور اقوام متحدہ کے روایتی کردار کو پس منظر میں چھوڑنا بھی تنقید کی وجوہات میں شامل ہیں۔
🌐 پاکستان کی خارجہ پالیسی کے لیے اس کے اثرات
پاکستان کا عملی کردار اگرچہ عالمی سطح پر امن کی کوششوں میں شامل نظر آتا ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے بین الاقوامی فورمز میں شمولیت سے پاکستان کو اپنے قومی مفادات، عوامی حساسیت، اور اسلامی ممالک کے ساتھ تعلقات کے توازن کو بہت احتیاط سے برقرار رکھنا ہوگا۔
اس فیصلے نے پاکستان کے اندر سخت سیاسی و نظریاتی مباحثے بھی شروع کر دیے ہیں، جس میں ایک طرف حکومت کی سفارتی حکمت عملی کی تعریف کی جا رہی ہے، جبکہ دوسری طرف اسے غلط سمت اور جلد بازی قرار دیا جا رہا ہے۔
رپورٹ: عبدالمومن


