📰 سرحد پار یا نہیں؟ پاکستان کا گلف اسٹریم G450 طیارہ بھارتی فضائی حدود سے گزرا، نیا تنازعہ جنم لیا!
پاکستان ایئر فورس کے گلف اسٹریم G450 نے لاہور سے کولمبو کا سفر مکمل کرتے ہوئے بھارتی کنٹرول والے فلائٹ انفارمیشن ریجن (FIR) سے عبور کیا، جس نے فضائی حدود کے موجودہ تنازعات کو دوبارہ متحرک کر دیا ہے۔

پاکستان ایئر فورس کا ایک گلف اسٹریم G450 طیارہ حالیہ دنوں میں لاہور سے کولمبو، سری لنکا کا سفر مکمل کرتے ہوئے بھارتی کنٹرول والے فلائٹ انفارمیشن ریجن (FIR) سے گزرا۔ یہ واقعہ اس وقت سامنے آیا جب دونوں ممالک کے درمیان فضائی حدود پر تنازعات جاری ہیں اور پاکستان اور بھارت نے باہمی طور پر ایک دوسرے کے طیاروں پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔
طیارہ، جس کا کال سائن PAAF296 اور رجسٹریشن نمبر N881JJ ہے، 14 فروری 2026 کو لاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ائرپورٹ سے روانہ ہوا اور تقریباً پانچ گھنٹے کے فلائٹ کے بعد کولمبو پہنچا۔ فلائٹ ٹریکنگ ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ طیارے کا راستہ عربی سمندر اور بھارتی FIR کے کنٹرول والے علاقوں سے گزرا۔ بعض خبری ذرائع اور سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ کیا گیا کہ یہ حرکت فضائی حدود کی پابندی کی خلاف ورزی ہے۔
تاہم ماہرین کے مطابق یہاں ایک اہم فرق ہے:
سرکاری فضائی حدود صرف 12 ناٹیکل میل تک ملک کے ساحل سے بڑھتی ہیں، جس کے اندر داخل ہونا ایک حقیقی حدود کی خلاف ورزی تصور کیا جاتا ہے۔
فلائٹ انفارمیشن ریجن (FIR) ایک انتظامی زون ہے جو ہوا بازی کی نگرانی کے لیے بنایا گیا ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ علاقہ مکمل طور پر ملک کی خود مختاری میں شامل ہے۔
طیارے نے سرحدی حدود میں داخل ہوئے بغیر بھارتی FIR کے اندر سے پرواز کی، جو بین الاقوامی ہوا بازی کے قوانین کے مطابق قانونی ہے۔ یہ تکنیکی پہلو میڈیا پر بحث کا مرکز بنا ہوا ہے اور بہت سے ماہرین نے واضح کیا ہے کہ اس فلائٹ نے حقیقی فضائی حدود کی خلاف ورزی نہیں کی۔
یہ واقعہ اس لیے بھی سیاسی اہمیت اختیار کر گیا ہے کیونکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان گزشتہ برسوں میں فضائی پابندیاں جاری ہیں اور دونوں ممالک کے طیاروں کو ایک دوسرے کے فضائی حدود استعمال کرنے سے روکا گیا ہے۔ اس قسم کے سفر پر عوام اور ماہرین کی توجہ اس بات پر ہے کہ آیا یہ محض ایک قانونی فلائٹ تھی یا اس کے پیچھے کوئی سیاسی یا سفارتی پیغام چھپا ہوا ہے۔
حالانکہ بھارتی یا پاکستانی حکومت کی طرف سے اس حوالے سے کوئی باضابطہ بیان نہیں آیا، میڈیا میں اسے نیا فضائی بحران قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ واقعہ ان دونوں ممالک کے تعلقات میں پائی جانے والی تناؤ اور حساسیت کی عکاسی کرتا ہے، خاص طور پر جب فضائی پابندیاں کئی اقتصادی اور آپریشنل اثرات مرتب کر رہی ہیں۔
ماہرین کے مطابق مستقبل میں اس قسم کے پروازوں پر مزید سیاسی اور سفارتی توجہ دی جا سکتی ہے، جبکہ حقیقی قانونی طور پر یہ سفر بین الاقوامی فضائی قوانین کے مطابق جائز تھا۔
یہ واقعہ اس بات کا بھی عندیہ دیتا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان فضائی تعاون کے مسائل ابھی حل طلب ہیں اور مستقبل میں اس سلسلے میں مزید قانونی اور سفارتی مباحث پیدا ہو سکتے ہیں۔
رپورٹ: عبدالمومن


