قومی

پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ، عوام کے لیے مہنگائی کا نیا دباؤ

پیٹرول کی قیمت میں 7 روپے اضافہ، ڈیزل کی قیمتیں بھی بڑھ گئیں

آج سے پاکستان میں پیٹرول اور ہائی‑اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ نافذ العمل ہو گیا ہے، جس سے عوام کے لیے ایندھن مزید مہنگا ہو گیا ہے۔ حکومت کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 7 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے، جبکہ ہائی‑اسپیڈ ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بھی بڑھا دی گئی ہیں۔

نئی قیمتیں اور پرانے ریٹس:

پیٹرول (Petrol): نیا ریٹ ₨258.17 فی لیٹر، پرانا ریٹ ₨253.17

ہائی‑اسپیڈ ڈیزل (HSD): نیا ریٹ ₨275.70 فی لیٹر، پرانا ریٹ ₨268.38

مٹی کا تیل (Kerosene Oil): نیا ریٹ ₨179.80 فی لیٹر

لائٹ ڈیزل آئل (LDO): نیا ریٹ ₨160.96 فی لیٹر

پیٹرول اور ڈیزل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں عوام کے روزمرہ بجٹ پر براہِ راست اثر ڈالیں گی، خاص طور پر وہ لوگ جو اپنی روزانہ کی آمد و رفت کے لیے گاڑی یا موٹر سائیکل استعمال کرتے ہیں۔ ڈیزل کی قیمت میں اضافہ ٹرانسپورٹ سروسز، سپلائی چین اور اشیائے خور و نوش کی قیمتوں میں اضافے کا باعث بھی بن سکتا ہے۔

عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور روپے کی قدر میں اتار چڑھاؤ کو بنیاد بنا کر حکومت نے یہ فیصلہ کیا ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا جائزہ ہر پندرہ دن بعد لیا جاتا ہے، اور اوگرا (Oil and Gas Regulatory Authority) اور وزارتِ خزانہ کی سفارش کے بعد وزیر اعظم کی منظوری کے ساتھ نئی قیمتیں نافذ کی جاتی ہیں۔

یہ اضافہ مہنگائی کے موجودہ دباؤ میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے، کیونکہ بڑھتی ہوئی ایندھن کی قیمتیں عام صارفین کی خریداری کی صلاحیت اور روزمرہ اخراجات کو متاثر کرتی ہیں۔ عوامی ردعمل کے مطابق، لوگ پہلے ہی بڑھتی ہوئی مہنگائی کے دباؤ میں تھے، اور پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں یہ اضافہ ان کے بجٹ پر مزید اثر ڈالے گا۔

رپورٹ: عبدالمومن

 

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button