جسٹس آغا رفیق احمد خان کی یادداشتوں “ان پرسوٹ آف جسٹس” کی شاندار اور غیر معمولی رونمائی

کراچی — پاکستان کی عدالتی، فکری اور قومی تاریخ میں ایک اہم اور باوقار باب کا اضافہ اُس وقت ہوا جب سابق چیف جسٹس وفاقی شرعی عدالت پاکستان، جناب جسٹس آغا رفیق احمد خان کی خودنوشت سوانح عمری “ان پرسوٹ آف جسٹس” کی پروقار اور تاریخی تقریبِ رونمائی انسٹیٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن کراچی کے سٹی کیمپس آڈیٹوریم میں منعقد ہوئی۔
یہ تقریب محض ایک کتاب کی اشاعت کا جشن نہیں تھی بلکہ عدل، دیانت، آئینی بالادستی، ادارہ جاتی خودمختاری اور قومی ذمہ داری کے سفر کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا ایک عظیم الشان اجتماع ثابت ہوئی۔ عدلیہ، بار، بیوروکریسی، سیاست، کاروبار، ادب اور سول سوسائٹی کی ممتاز شخصیات کی غیر معمولی شرکت نے اس تقریب کو تاریخی رنگ عطا کیا۔
اعلیٰ عدالتی قیادت کی بامعنی شرکت
تقریب کی صدارت موجودہ چیف جسٹس وفاقی شرعی عدالت پاکستان، جناب جسٹس اقبال حمید الرحمٰن نے کی، جبکہ مہمانِ خصوصی چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ، جناب جسٹس ظفر احمد راجپوت تھے۔
اپنے خطابات میں معزز ججز نے کہا کہ جسٹس آغا رفیق احمد خان کی عدالتی زندگی اصول پسندی، آئینی وفاداری اور غیر جانبداری کی درخشاں مثال رہی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ایسے ججز اداروں کی بنیاد مضبوط کرتے ہیں اور قوم کے اعتماد کو بحال رکھتے ہیں۔
ممتاز قومی قیادت کی بھرپور موجودگی
تقریب میں شریک اہم شخصیات میں شامل تھے:
سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان، انوار ظہیر جمالی، سابقہ وزیر اعظم پاکستان، محمد میاں سومرو، سابقہ وزیر اعلیٰ سندھ، سید غوث علی شاہسابقہ گورنر سندھ، معین الدین حیدر

چیئرمین جے ایس گروپ، جہانگیر صدیقی، سینئیر قانوندان سید غلام شاھ،
ان معزز شخصیات کی شرکت نے تقریب کو قومی سطح کی اہمیت عطا کی اور اسے محض ایک ادبی تقریب کے بجائے ایک فکری و ادارہ جاتی مکالمے کا مرکز بنا دیا۔
نمایاں مقررین اور فکری مکالمہ
تقریب میں اظہارِ خیال کرنے والوں میں شامل تھے:
سابق جج لاہور ہائی کورٹ، جسٹس فرخ عرفان خان
سابق اٹارنی جنرل برائے پاکستان، منیر اے ملک
صدر آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی، احمد شاہ
سی ای او سندھ انٹیگریٹڈ ایمرجنسی اینڈ ہیلتھ سروسز، بریگیڈیئر طارق قادر لاکھیر ، کتاب کے ترجمہ نگار مظفر عیسانی اور دیگر
مقررین نے کہا کہ یہ کتاب پاکستان کے عدالتی نظام کی اندرونی جہتوں کو سمجھنے کے لیے ایک اہم حوالہ ہے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ عدلیہ کی خودمختاری اور آئینی بالادستی جمہوری نظام کی بقا کے لیے ناگزیر ہیں۔
مصنف کا تاریخی خطاب: عدل کی جدوجہد کی داستان
اپنے ولولہ انگیز خطاب میں جسٹس (ر) آغا رفیق احمد خان نے کہا:
“انصاف کی تلاش ایک مسلسل جدوجہد ہے۔ جج کا اصل امتحان اُس وقت ہوتا ہے جب وہ دباؤ، مفاد اور وقتی مصلحت سے بالاتر ہو کر آئین اور ضمیر کے مطابق فیصلہ کرے۔”
انہوں نے اپنے 44 سالہ عدالتی سفر کے اہم موڑ، آئینی بحرانوں، تاریخی مقدمات اور ادارہ جاتی دباؤ کے باوجود اصولی مؤقف اختیار کرنے کے تجربات بیان کیے۔ نوجوان نسل کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قانون کا شعبہ محض پیشہ نہیں بلکہ ایک قومی امانت ہے۔
پاکستان ایکسلینس کلب اور وکلاء برادری کی شرکت
تقریب میں پاکستان ایکسلینس کلب کے عہدیداران اور ایگزیکٹو ممبران کی نمایاں شرکت رہی۔ ملک بھر سے ججز، سینئر وکلاء، بار ایسوسی ایشنز کے نمائندگان، لاء اسٹوڈنٹس اور سول سوسائٹی کے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی، جس سے یہ تقریب ایک قومی علمی اجتماع کی صورت اختیار کر گئی۔
ایک فکری، عدالتی اور قومی سنگِ میل
شرکاء نے اس تقریب کو کراچی کی حالیہ تاریخ کی ایک نمایاں علمی و عدالتی سرگرمی قرار دیا۔
“ان پرسوٹ آف جسٹس” نہ صرف ایک فرد کی داستانِ حیات ہے بلکہ پاکستان کے عدالتی ارتقاء، آئینی جدوجہد اور ادارہ جاتی استحکام کی ایک مستند دستاویزی شہادت بھی ہے۔
یہ شام اس عزم کی تجدید تھی کہ انصاف کا چراغ روشن رہے گا اور آئین کی بالادستی ہی قومی استحکام کی ضمانت ہے۔
“ان پرسوٹ آف جسٹس” — ایک کتاب، ایک جدوجہد، ایک عہد۔



