قومی

گل پلازہ میں خوفناک آتشزدگی، قیمتی جانوں کا ضیاع، درجنوں زخمی

کراچی کے مصروف تجارتی علاقے ایم اے جناح روڈ پر واقع تاریخی گل پلازہ میں آج اچانک لگنے والی شدید آگ نے شہر کو سوگ میں مبتلا کر دیا۔ رات گئے شروع ہونے والی اس خوفناک آتشزدگی نے چند ہی لمحوں میں پورے پلازہ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، جس کے نتیجے میں کئی افراد جاں بحق جبکہ درجنوں زخمی ہو گئے۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق آگ پلازہ کے نچلے حصے میں قائم ایک دکان سے بھڑکی، جو تیزی سے بالائی منزلوں تک پھیل گئی۔ عمارت میں موجود کپڑوں، پلاسٹک اور دیگر آتش گیر اشیاء کے باعث آگ نے انتہائی شدت اختیار کر لی، جسے فائر بریگیڈ حکام نے تیسرے درجے کی آگ قرار دیا۔

🔥 آگ لگنے کی وجہ اور صورتحال

آگ لگنے کی درست وجہ کا تعین تاحال نہیں ہو سکا تاہم خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ شارٹ سرکٹ یا برقی آلات کی خرابی اس سانحے کا سبب بنی ہو سکتی ہے۔ آگ اتنی شدید تھی کہ پلازہ میں موجود افراد کو باہر نکلنے کا موقع نہ مل سکا، جس کے باعث کئی لوگ دھویں میں دم گھٹنے سے بے ہوش ہو گئے۔

عینی شاہدین کے مطابق پلازہ میں ایمرجنسی اخراج کے راستے ناکافی تھے جبکہ دھویں کے اخراج کا مناسب انتظام بھی موجود نہیں تھا، جس نے صورتحال کو مزید خطرناک بنا دیا۔

🚒 ریسکیو اور فائر فائٹنگ آپریشن

آگ پر قابو پانے کے لیے فائر بریگیڈ کی متعدد گاڑیاں، اسنارکلز اور ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں۔ کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والے آپریشن کے دوران شدید دھوئیں، گرمی اور عمارت کے کچھ حصوں کے منہدم ہونے کے باعث ریسکیو اہلکاروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

ریسکیو ٹیموں نے درجنوں افراد کو بحفاظت نکال کر قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا، جبکہ کئی افراد کو موقع پر ہی طبی امداد دی گئی۔ سرچ آپریشن تاحال جاری ہے کیونکہ خدشہ ہے کہ کچھ افراد اب بھی عمارت کے اندر پھنسے ہو سکتے ہیں۔

🏥 جاں بحق اور زخمی افراد

ذرائع کے مطابق اب تک متعدد افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ 20 سے زائد زخمی مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔ کئی زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ جاں بحق افراد کی شناخت کا عمل جاری ہے۔

🚧 ٹریفک اور سیکیورٹی صورتحال

آتشزدگی کے باعث ایم اے جناح روڈ اور اطراف کی سڑکوں کو جزوی طور پر بند کر دیا گیا، جبکہ ٹریفک کو متبادل راستوں کی جانب موڑ دیا گیا۔ پولیس اور رینجرز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر عوام کو جائے وقوعہ سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے۔

🧯 حفاظتی اقدامات پر سوالات

یہ واقعہ ایک بار پھر کراچی کی پرانی تجارتی عمارتوں میں فائر سیفٹی انتظامات پر سنگین سوالات اٹھا رہا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر بروقت حفاظتی اقدامات، فائر الارم، اسپرنکلر سسٹم اور ایمرجنسی راستے موجود ہوتے تو جانی نقصان کم کیا جا سکتا تھا۔

📢 حکومتی ردعمل

حکام نے واقعے کی مکمل تحقیقات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ غفلت یا قوانین کی خلاف ورزی ثابت ہونے پر ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے بھی واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔

 

 

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button