
آج لائن آف کنٹرول پر ایک مرتبہ پھر بھارت کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کی سنگین خلاف ورزی کی گئی۔ بھارتی فوج نے نوشہرہ اور راجوری کے سیکٹرز میں اچانک اور بلااشتعال فائرنگ کا آغاز کیا جس سے سرحدی علاقوں میں کشیدگی کی فضا قائم ہو گئی۔ بھارتی فورسز کی اس کارروائی سے مقامی آبادی میں خوف و ہراس پھیل گیا تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق بھارتی جانب سے ہلکے اور بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا جبکہ فائرنگ کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری رہا۔ اس صورتحال کے پیش نظر پاکستانی افواج نے فوری طور پر حفاظتی اقدامات کو یقینی بناتے ہوئے علاقے میں نگرانی کا دائرہ مزید وسیع کر دیا۔ حساس مقامات پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے بروقت نمٹا جا سکے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی افواج نے انتہائی تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے کسی قسم کی جارحانہ کارروائی سے گریز کیا۔ صورتحال پر مکمل کنٹرول رکھا گیا اور سرحدی علاقوں میں نگرانی کے لیے جدید آلات بروئے کار لائے گئے۔ فضائی اور زمینی نگرانی کے ذریعے ہر نقل و حرکت پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے تاکہ کسی بھی اشتعال انگیز اقدام کا فوری جواب دیا جا سکے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق بھارت کی جانب سے اس قسم کی کارروائیاں خطے میں امن و استحکام کو نقصان پہنچانے کی ایک کوشش ہیں۔ ماضی میں بھی بھارت متعدد بار لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کر چکا ہے جس کا مقصد داخلی مسائل سے توجہ ہٹانا اور خطے میں عدم استحکام پیدا کرنا بتایا جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوتا ہے جس کے اثرات پورے خطے پر مرتب ہو سکتے ہیں۔
مقامی آبادی نے مطالبہ کیا ہے کہ عالمی برادری بھارت کی جانب سے کی جانے والی ان خلاف ورزیوں کا نوٹس لے اور خطے میں امن کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر کردار ادا کرے۔ سرحدی دیہات کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ وہ طویل عرصے سے اس صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں اور بھارتی فائرنگ کے باعث ان کی روزمرہ زندگی شدید متاثر ہوتی ہے۔
سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ پاکستانی افواج ہر قسم کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں اور ملکی سرحدوں کے دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے لیکن اگر جارحیت مسلط کی گئی تو اس کا بھرپور اور مؤثر جواب دیا جائے گا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق لائن آف کنٹرول پر بڑھتی ہوئی کشیدگی اس بات کی عکاس ہے کہ بھارت خطے میں طاقت کے ذریعے اپنے عزائم مسلط کرنا چاہتا ہے، تاہم پاکستان کی پالیسی ہمیشہ سے امن، تحمل اور ذمہ داری پر مبنی رہی ہے۔ عالمی قوانین اور معاہدوں کی پاسداری پاکستان کی اولین ترجیح ہے۔
آخر میں سیکیورٹی ذرائع نے اس امر کی تصدیق کی کہ صورتحال پر مکمل نظر رکھی جا رہی ہے، کسی قسم کی جارحیت کی اطلاع نہیں، اور سرحدی علاقوں میں امن و امان برقرار ہے۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ افواہوں پر کان نہ دھریں اور صرف مستند ذرائع سے حاصل کردہ معلومات پر اعتماد کریں۔



