عالمیقومی

وزیرِ اعظم شہباز شریف کازرعی انقلاب کی جانب بڑا قدم

کسانوں کو جدید عالمی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنےکاروڈ میپ تیار

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ زرعی شعبے کی اصلاحات، کسانوں کو جدید عالمی زرعی طریقہ کار سے روشناس کروانا اور زرعی برآمدات میں اضافہ موجودہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ وزیرِ اعظم نے ان خیالات کا اظہار زرعی شعبے کو بین الاقوامی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور ملکی زرعی برآمدات بڑھانے کے حوالے سے تشکیل دیے گئے نجی شعبے کے ماہرین پر مشتمل ورکنگ گروپ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔

وزیرِ اعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق اجلاس میں زرعی شعبے کو درپیش مسائل، فی ایکڑ کم پیداوار، زرعی اجناس کی پراسیسنگ، برآمدی صلاحیت، تحقیق و ترقی اور پالیسی اصلاحات پر تفصیلی غور کیا گیا۔ وزیرِ اعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وفاقی حکومت اپنے دائرہ اختیار میں رہتے ہوئے زرعی شعبے میں اصلاحات کرے گی جبکہ صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر زراعت کی مجموعی ترقی کیلئے مربوط اقدامات اٹھائے جائیں گے۔

وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور اس شعبے میں ترقی کی بھرپور استعداد موجود ہے، تاہم جدید ٹیکنالوجی، معیاری بیج، مؤثر زرعی تحقیق اور عالمی معیار کے مطابق پراسیسنگ نہ ہونے کے باعث ہم اپنی حقیقی صلاحیت سے فائدہ نہیں اٹھا سکے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ وسائل میں رہتے ہوئے زرعی تحقیق پر سرمایہ کاری کی جا رہی ہے تاکہ فی ایکڑ پیداوار میں نمایاں اضافہ ممکن بنایا جا سکے۔

اجلاس میں وزیرِ اعظم کو بریفنگ دی گئی کہ کسانوں کو معیاری بیج کی فراہمی، بروقت اور مناسب قیمت پر کھاد کی دستیابی، فصلوں کو بیماریوں سے بچانے کیلئے ادویات کی فراہمی اور مؤثر ایکسٹینشن سروسز کے ذریعے زرعی پیداوار میں بہتری لائی جا سکتی ہے۔ وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ کسانوں کو جدید زرعی اطوار، موسمی تبدیلیوں سے نمٹنے کے طریقوں اور عالمی منڈیوں کے تقاضوں سے آگاہ کرنے کیلئے خصوصی پروگرام ترتیب دیے جائیں۔

وزیرِ اعظم نے کہا کہ زرعی اجناس کی صرف پیداوار ہی نہیں بلکہ ان کی پراسیسنگ اور ویلیو ایڈیشن وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ زرعی اجناس کی پراسیسنگ کے ذریعے برآمدات کے قابل اشیاء تیار کرنے کیلئے پالیسی سطح پر اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ اس ضمن میں سرٹیفکیشن رجیم متعارف کروانے پر بھی کام کیا جا رہا ہے تاکہ پاکستانی زرعی مصنوعات عالمی منڈیوں میں بہتر قیمت حاصل کر سکیں اور کسانوں کی آمدن میں اضافہ ہو۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ حال ہی میں حکومت پاکستان نے چین میں ایک ہزار پاکستانی طلباء و طالبات کو سرکاری خرچ پر زراعت کی جدید ٹیکنالوجی کی تربیت کیلئے بھیجا ہے تاکہ جدید علم اور مہارت کو ملک میں فروغ دیا جا سکے۔ وزیرِ اعظم نے اس اقدام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ انسانی وسائل کی ترقی کے بغیر زرعی انقلاب ممکن نہیں۔

وزیرِ اعظم نے ماہی گیری، ڈیری، گلہ بانی، ہارٹی کلچر، پھلوں اور ان سے تیار کردہ مصنوعات کی برآمدات میں اضافے کیلئے بھی جامع حکمت عملی مرتب کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے ساحلی پٹی پر پام آئل کی کاشت اور پیداوار کیلئے پالیسی اقدامات تشکیل دے کر پیش کرنے کی بھی ہدایت دی تاکہ خوردنی تیل کی درآمدات میں کمی لائی جا سکے۔

اجلاس میں چیئرمین ورکنگ گروپ رانا نسیم اور ان کی ٹیم نے ملکی زرعی شعبے پر مشتمل جامع رپورٹ پیش کی جس میں ربیع اور خریف کی بڑی فصلوں، فی ایکڑ اوسط پیداوار، پھلوں اور سبزیوں کی پیداوار، برآمدات، ڈیری اور دیگر متعلقہ شعبوں کا علاقائی اور عالمی سطح پر تقابلی جائزہ شامل تھا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ قلیل مدتی اصلاحاتی فریم ورک کے تحت موجودہ وسائل میں رہتے ہوئے پاکستان کی فی ایکڑ اوسط پیداوار میں اضافہ کیا جائے گا۔

اجلاس کو یہ بھی آگاہ کیا گیا کہ وفاقی حکومت صوبائی حکومتوں کے تعاون سے مؤثر زرعی ایکسٹینشن سروسز متعارف کروائے گی تاکہ کسانوں کو جدید زرعی طریقوں، مشینی کاشت، پانی کے بہتر استعمال اور موسمی اثرات سے بچاؤ کے حوالے سے عملی رہنمائی فراہم کی جا سکے۔ تحقیقاتی اداروں میں اصلاحات کیلئے بھی جامع لائحہ عمل پیش کیا گیا جس کا مقصد نہ صرف موجود فصلوں کی پیداوار بڑھانا بلکہ پاکستان کی زمین اور آب و ہوا کے مطابق نئی اور منافع بخش فصلوں کی کاشت کو فروغ دینا ہے۔

وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ آئندہ پانچ برس میں زرعی برآمدات بڑھانے کیلئے واضح اہداف، ٹائم لائن اور قابلِ عمل حکمت عملی پر مشتمل روڈ میپ تیار کیا جائے۔ انہوں نے ورکنگ گروپ کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایک جامع، مؤثر اور قابلِ عمل منصوبہ ہی زرعی شعبے کو بحران سے نکال کر ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتا ہے۔

اجلاس میں وفاقی وزراء احسن اقبال، رانا تنویر حسین، ڈاکٹر مصدق ملک، محمد اورنگزیب، عطاء اللہ تارڑ، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، معاونِ خصوصی ہارون اختر اور متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ وزیرِ اعظم نے ورکنگ گروپ کو ہدایت کی کہ ان کی تجاویز کو حکومتی اصلاحاتی ایجنڈے کا حصہ بنایا جائے تاکہ زرعی شعبہ قومی معیشت میں مؤثر کردار ادا کر سکے اور کسان خوشحال ہو

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button