پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کبھی تنہا نہیں رہا، اور نہ ہی تنہا چھوڑیں گے ۔علی شاہین

اسلام آباد ترکیہ کی گرینڈ نیشنل اسمبلی کے رکنِ پارلیمنٹ اور ترکیہ–پاکستان فرینڈشپ پارلیمانی گروپ کے چیئرمین علی شاہین نے اسلام آباد میں منعقدہ "امن، سلامتی اور ترقی” کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی ایک عالمی لعنت ہے، جس کے خاتمے کے لیے پوری دنیا کو متحد ہونا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ
میں اپنے خطاب کے آغاز میں کل اسلام آباد میں ہونے والے دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کرتا ہوں۔ شہداء کے لیے رحمتِ الٰہی اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کرتا ہوں۔ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کبھی تنہا نہیں تھا اور نہ ہی کبھی تنہا رہے گا۔ ترکیہ ہمیشہ پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے۔
علی شاہین نے کہا کہ آج کی دنیا میں کوئی ملک تنہا عالمی چیلنجز کا سامنا نہیں کر سکتا۔ دہشت گردی، موسمیاتی تبدیلی، اور سماجی ناہمواری جیسے مسائل مشترکہ کوششوں سے ہی حل ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے پارلیمانی تعلقات کو عوامی جذبات اور باہمی اعتماد کے فروغ کا بہترین ذریعہ قرار دیا۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دہشت گردی عالمی امن و ترقی کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے، اس کے خلاف کسی قسم کی تفریق کے بغیر مشترکہ جدوجہد کی ضرورت ہے۔ جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کے لیے بھی مکالمے اور تعاون کی راہ اپنانا ناگزیر ہے۔ علاقائی ممالک کو دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ایک مؤثر اور مسلسل تعاون کا نظام قائم کرنا چاہیے۔
اپنے خطاب میں علی شاہین نے مزید کہا کہ شام میں اسرائیلی جارحیت کو فوری روکا جائے، غزہ میں جنگ بندی کو مستقل بنایا جائے، ایران کے جوہری معاملے پر سفارت کاری بحال کی جائے، اور یوکرین تنازع کے منصفانہ حل کے لیے استنبول مذاکرات کو دوبارہ زندہ کیا جائے۔ انہوں نے قبرص کے ترک باشندوں پر عائد پابندیوں کو انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔
علی شاہین نے بتایا کہ ترکیہ 15 سے 19 اپریل 2026 تک استنبول میں بین الپارلیمانی یونین (IPU) کا اجلاس منعقد کرے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ترکیہ نے ماحولیاتی تحفظ کے لیے "زیرو ویسٹ” کو ایک عالمی تحریک کی صورت دے دی ہے۔



