قومی

*مریدکے آپریشن کے دوران کیا ہوا؟ بی بی سی کی رپورٹ سے اقتباس*

پنجاب میں جی ٹی روڈ پر واقع شہر مریدکے کے علاقے رانا ٹاؤن جی ٹی روڈ کے اُس حصے کے قریب واقع ہے جہاں پیر کی علی الصبح پولیس نے احتجاجی مارچ کے شرکا کو منتشر کرنے کے لیے آپریشن کیا تھا۔
پنجاب پولیس کے مطابق اس آپریشن کے دوران پولیس کے ایک ایس ایچ او ہلاک جبکہ 48 اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ پنجاب پولیس کے مطابق زخمی ہونے والوں میں 17 اہلکار ایسے ہیں جنھیں گولیاں لگی ہیں۔ پولیس کے مطابق اس دوران ٹـی ــ ایـل ــ پـی ــ سے تعلق رکھنے والے تین مظاہرین اور ایک راہگیر بھی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا ۔ جبکہ آٹھ عام شہری زخمی ہوئے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اس موقع پر 40 سرکاری و نجی گاڑیوں کو نذر آتش کیا گیا۔

مقامی پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مظاہرین کو منتشر کرنے کا یہ آپریشن مذاکرات کی ناکامی کے بعد شروع کیا گیا جو کہ پانچ گھنٹے میں مکمل ہوا ۔

مریدکے سے مقامی صحافی جہانزیب نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ شہر میں اس وقت بھی پولیس کی بھاری نفری موجود ہے اور سڑکیں کلیئر کروانے کی کوششیں کی جا رہی ہے۔

تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال مریدکے کی ایمرجنسی سمیت تمام وارڈز کے اندر اور باہر بیڈ لگائے گئے ہیں جہاں اس آپریشن میں زخمی ہونے والے مظاہرین اور پولیس اہلکاروں کو لایا گیا۔

*تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا واٹس ایپ چینل فالو کیجئے*

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button