مریم سعید کی شاندار کامیابیاں متعدد قومی و نجی اعزازات نے پاکستان کا نام روشن کردیا

اسلام آباد پاکستان کی نوجوان کاروباری شخصیت اور ملک کی کم عمر ترین سی ای او مریم سعید نے اپنی صلاحیتوں، وژن اور قیادت کے بل بوتے پر کئی قومی اور نجی اداروں کے اعزازات اپنے نام کیے ہیں۔ ان کی کامیابیاں نہ صرف ملک و قوم کے لیے باعثِ فخر ہیں بلکہ نوجوان نسل کے لیے بھی ایک روشن مثال بن چکی ہیں۔
سب سے نمایاں اعزاز پرائیڈ آف پاکستان پاکستان یوتھ کونسل کی جانب سے دیا گیا، جو ان کے وژن، محنت اور قیادت کا حقیقی اعتراف ہے۔
خدمات کا اعتراف ان کی سماجی اور تعلیمی خدمات کے اعتراف میں ایجوکیشن اینڈ ٹیک سوسائٹی نے انہیں Tamgha-e-Sataish دیا، جو ان کی جدوجہد اور قربانیوں کی عکاسی کرتا ہے۔ٹیکنالوجی کے میدان میں نئی راہیں متعارف کرانے اور نوجوانوں کو مواقع فراہم کرنے پرنیشنل بزنس فورم نے مریم سعید کو "Best CEO in Tech انویشن ایوارڈ سے نوازا۔ ہیلتھ ٹیکنالوجی کے میدان میں ان کی خدمات کے اعتراف میں پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے انہیں اعزازی خطاب دیا۔ حوصلہ اور خود اعتمادی کی عملی تصویر ہونے پر نیشنل ویمن فورم نے انہیں Women of Courage Award دیا۔
مریم سعید کی خدمات نے نوجوان خواتین اور طلبہ پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں، جس پر یوتھ ایمپاورمنٹ فاؤنڈیشن نے انہیں Women of Impact Award دیا۔
عوامی ووٹ کے ذریعے پاکستان انوویشن کونسل نے انہیں "Public Choice Winner Award in IT & Technology” دیا، جو نوجوانوں میں ان کی مقبولیت اور پذیرائی کا ثبوت ہے۔

پاکستان کی تاریخ میں کم عمر ترین سی ای او کا اعزاز مریم سعید کو حاصل ہوا۔ یہ نہ صرف ایک ریکارڈ ہے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک تحریک ابھر گئ ایوارڈز کے دوران مریم سعید کی معروف سماجی رہنما شعربانو نقوی سے خصوصی ملاقات بھی ہوئی۔ اس ملاقات میں خواتین کی قیادت نوجوانوں کے کردار اور پاکستان کے مستقبل پر مفصل بات چیت ہوئی۔مریم سعید کی زندگی جدوجہد اور حوصلے کی ایک زندہ مثال ہے۔ ابتدا میں ان کے پاس وسائل نہ تھے، نہ سہولتیں اور نہ ہی پلیٹ فارم۔ وہ اکثر پیدل چل کر کام پر جایا کرتی تھیں، لیکن دل میں ایک بڑا خواب تھا کہ پاکستان کے نوجوانوں کے لیے مواقع پیدا کیے جائیں۔ابتدا کے دنوں میں ان کے پاس کمپیوٹر تک نہیں تھا۔ چھوٹے چھوٹے پروجیکٹس پر دن رات محنت کرتے ہوئے انہوں نے اپنی شناخت بنانی شروع کی۔ مالی مشکلات اور سماجی رکاوٹوں کے باوجود انہوں نے ہمت نہ ہاری۔ ناکامیوں نے ان کے حوصلے کو مزید مضبوط کیا اور انہوں نے ایک ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے اپنی منزل پالی۔آج وہ لڑکی جو کبھی پیدل چل کر کام پر جاتی تھی، ملک کی ایک کامیاب آئی ٹی کمپنی کی مالک اور کم عمر ترین سی ای او ہے۔ یہ کہانی نئی نسل کے لیے ایک روشن مثال ہے کہ خواب دیکھنے والے اگر محنت اور حوصلے سے آگے بڑھیں تو کوئی رکاوٹ انہیں نہیں روک سکتی۔



