ہزارہ

ڈی آئی جی ہزارہ کے زیر صدارت ہزارہ، گلگت و آزاد و جموں کشمیر میں ترقیاتی پراجیکٹ و چائنیز سیکیورٹی کے حوالے سے اہم میٹنگ منعقد

ڈی آئی جی ہزارہ کے زیر صدارت ہزارہ، گلگت و آزاد و جموں کشمیر میں ترقیاتی پراجیکٹ و چائنیز سیکیورٹی کے حوالے سے اہم میٹنگ منعقد

ایبٹ آباد()ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس ہزارہ ریجن ناصر محمود ستی کی زیر صدارت ہزارہ، گلگلت اور آزاد جموں و کشمیر میں جاری ترقیاتی پراجیکٹ، چائنیز و دیگر غیر ملکیوں کی سیکیورٹی اور لاء اینڈ آرڈر کے حوالے سے اہم ان لائن میٹنگ کا انعقاد کیا گیا۔ میٹنگ ڈی آئی جی گلگلت، استور، اور اے آئی جی سیکیورٹی آزاد جموں و کشمیر، ڈی پی او ز ایبٹ آباد، مانسہرہ، اپر کوہستان، ایس پی سپیشل برانچ ہزارہ،ایس پیز سی ٹی ڈی ہزارہ اور ایس پی ایس ایس یو ہزارہ نے شرکت کی۔ میٹنگ میں ہزارہ، گلگت اور آزادجموں و کشمیر میں جاری ترقیاتی پراجیکٹس، چائنیز و دیگر غیر ملکیوں کی سیکیورٹی، موجودہ سیکیورٹی اقدامات اور ان میں مزید بہتری لانے اور شر پسند و جرائم پیشہ افراد کیخلاف قانونی کارروائیوں کے حوالے سے اہم امور پر تبادلہ خیا ل کیا گیا۔ڈی آئی جی ہزارہ ناصر محمود ستی نے میٹنگ شرکاء سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ترقیاتی پراجیکٹ اور چائنیز کی سیکیورٹی حکومت پاکستان کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور انکو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں ہم سب کو مل کر کام کرنا ہوگا اور اس میں کسی قسم کی کوئی بھی کمی کوتاہی نہ کی جائے۔ چائنیز ورکرز و دیگرغیر ملکیوں کی نقل و حرکت کے حوالے ایک دوسرے انفارمیشن شیئرنگ کو مزید مستحکم بنایا جائے اور بروقت ایک دوسرے کو اطلاع فراہم کریں اور چائنیزشہریوں کی نقل و حرکت کے دوران فل پروف انتظامات کیئے جائے تاکہ کوئی بھی ناخوشگوار واقع رونما نہ ہوں۔ترقیاتی پراجیکٹس کے اردگرد اپنی اپنی حدود میں سیکیورٹی انتظامات کا ہفتہ وار آڈٹ کیا جائے مشترکہ سرچ اینڈ سٹرائیک آپریشن کیئے جائے اور سیکیورٹی انتظامات میں سیکیورٹی خدشات کو دور کیا جائے۔شر پسند و جرائم پیشہ عناصر کیخلاف مل کر قانونی کارروائیاں عمل میں لائی جائے، سی ٹی ڈی اور سپیشل برانچ کی مدد سے شرپسند و جرائم پیشہ عناصر و گرہوں کی فہرستیں مرتب کرکے ایک دوسرے کیساتھ شیئر کریں اور انکے خلاف گھیرا تنگ کیا جائے۔ اپنے اپنے اضلاع میں انٹری پوائنٹ پر ناکہ بندیوں کے نظام میں مزید بہتری لائے جائے مشکوک افراد اور مشکوک گاڑیوں کی اچھے طریقہ کار سے چیکنگ کی جائے اور کسی بھی سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر اعلی افسران کو مطلع کیا جائے۔

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button