ہزارہ

سندھ دو لسانی صوبہ ہے اسلکے وسائل پر مہاجروں اور سندھیوں دونوں کا حق ہے۔

آصف زرداری اور بلاول بھٹو نوٹس لے کر میئر اور کرپٹ افسران کو انجام تک پہنچائیں

کراچی  سندھ کی عوام سیلاب کی تکلیف دہ صورتحال سے گزر رہی ہے۔ پنجاب میں تباہی ہی تباہی ہے۔ کے پی شدید تباہی برداشت کر چکا ہے۔ لیکن گڈ گورننس صرف پنجاب میں نظر آتی ہے۔ سندھ میں سیلاب کی آڑ میں کرپشن کا بازار گرم ہوچکا ہے۔ کراچی میں معمولی بارش نے میئر، کنٹومنٹ اور ٹی ایم سیز کی کارکردگی کی پول کھول دی۔ یہ بات سربراہ سندھ قومی الائنس خدا بخش شیخ (کے بی شیخ)نے مجلس عاملہ اور مرکزی کونسل کے مشترکہ اجلاس سے خطاب میں کہی۔ مرکزی کونسل کے عبدالحکیم لغاری، اقبال ساند، رئیس خانزادہ، مسعود قریشی، غلام مرتضی سومرو، غلام مصطفی جتوئی، رازق سنارو،مسرت سلطانہ، ادیبہ رضوی، کلام بخش، امداد ساریو، خالد حسین گھلو، کامران کہوڑو،نیازعباسی، اقبال خان، کریم جتوئی، پرویز چانڈیو اور دیگر اراکین بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ دو لسانی صوبہ ہے اسلکے وسائل پر مہاجروں اور سندھیوں دونوں کا حق ہے۔ سندھ کے مستقل باشندے بھی سندھ کا حصہ ہیں۔ ہم انتظامی یونٹس پورے ملک میں بنیں تو ساتھ دیں گے لیکن اگر سندھ میں یہ تجربہ کیا توہم پیپلز پارٹی قوم پرست جماعتوں کے ساتھ ہوں گے۔ انہوں نے مشاورت کے بعد کراچی اور حیدر آباد کے میئرز کی کرپشن پر ملنے والی رپورٹس پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ کے بی شیخ نے کہا کہ کراچی کو میئر اور اسکے حواریوں نے برباد کردیا۔ ہزاروں ارب بھی انہیں دے دو تو یہ ڈکار لئے بغیر کھا جائیں گے۔ آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو سندھیوں کی غیرت کو للکار رہے ہیں۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کے ہم بھی ہم نوا تھے اسکے نام کا اسٹیڈیم کروڑوں روپے میں بک گیا۔ بلاول بھٹو اور آصف زرداری ویسٹ کی پیپلز پارٹی کی قیادت اور کرپٹ ترین افسران جو 9ہزار ایکڑ پر بلاول ہاؤس کے سسٹم افراد کے ساتھ ملکر الطاف نگر کی زمینیں بیچ رہے ہیں۔ چائنا کٹنگ میں پی پی پی نمبر ون بن چکی ہے۔ انہیں بتایا گیا کہ فیصل رضوی دہشت گرد قاتل اور جعلی افسر ہے جسکا ریکارڈ سب جعلی ہے وہ او پی ایس میں دو دو چارج لے کر ماڑی پور ٹرک اسٹینڈ اور اورنگی میں رئیل اسٹیٹ کابزنس چلا رہا ہے۔ امریکہ میں ساری فیملی سیٹل ہے اسکا بنگلہ کے ایم سی کے منتخب افراد اور میونسپل کمشنر کا عشرت کدہ ہے۔ کے ایم سی کی ایک خاتون ملازمہ جو فیصل رضوی کی بدکرداری میں شامل ہے اسبنگلے کی زینت بنی اور بے تحاشا موٹیشن اور ریگولائزیشن کے لیٹر نشے کی حالت میں فیصل رضوی سے دستخط کرائے۔ چالان پر بنکوں کی جعلی مہریں لگائی گئیں۔ جو ایس ایم جاوید اور کچھ بروکرز نے لگائیں اور یہ دستاویزات جاری کردی گئیں جنکی اصل انٹریز رجسٹر میں موجود تھیں۔جب کورٹ سے ایک کی تصدیق کے لئے آئی تو فیصل رضوی نے رقم کا تقا ضا کیا۔ خاتون نے کہا کہ کلفٹن کے بنگلے میں سب کلیئر ہوچکاہے۔ فیصل رضوی نامی افسر نے کہا کہ میئر اور میونسپل کمشنر کو روزانہ رشوت جاتی ہے آپ ان لوگوں سے اور پیسے لو جب نہ ملے توان سب موٹیشن کو جعلی قرار دے دیا۔ چالان بک بھی نشے کی حالت میں دستخط کی جو اصلی ہیں۔ جمع کرانے کے بجائے اس میں فراڈ کیا گیا جس میں مقصود ملک، عقیل احمد، خاتون افسر، بروکرز، تاجر رہنما، بنک اور عدالت سے معطل لیکن کرپشن کے لئے ماروائے عدالت بحال کرنے والے افضل زیدی اور پوری کرپٹ ٹیم چاچڑ سسٹم، عباس رضوی، ڈائریکٹر لینڈ، سینئر ڈائریکٹر ایچ آر ایم، کرم اللہ وقاصی، پیپلز پارٹی کے کرپٹ نمائندے شامل ہیں۔ میئر کراچی کو اطلاعات کے مطابق دس ایکڑ زمین گفٹ کی گئی ہے۔ جبکہ افضل زیدی نے زمین لینے کے بجائے اسکی قیمت کروڑوں میں وصول کرلی ہے۔ جعلی آکشن بھی عدالت کے احکامات کے بعد منسوخ نہیں کیا گیا جس پر جماعت اسلامی توہین عدالت میں جانے کی تیاری کر رہی ہے۔ کراچی کے متعدد علاقے چائناکٹنگ کی زد میں ہیں جبکہ سیلاب زدگان کو کراچی لاکر ان جگہوں پر رکھا جائے گا جو سسٹم فیصل رضوی اور میئر نے افضل زیدی کے ساتھ ملکر نمٹانے ہیں۔خے بی شٰک نے بریفنگ پر کہا کہ کیڈی اے ایم ڈی اے اور کے ایم سی میں فوجی ایڈمنسٹریٹر لگا کر کونسل اور گورننگ باڈیز معطل کردی جائیں۔ نیب و فری ہینڈ دیا جائے۔ شاہنواز اور ڈی جی سمیت اینٹی کرپشن کے افسروں پر سہولت کاری کے مقدمات قائم کئے جائیں۔ میئر کو بہت جلد سلاخوں کے پیچھے جاتا دیکھ رہا ہوں۔فیصل رضوی اینڈ نیب زدہ کمپنی کے متعلق حساس اداروں کو ایکشن لینا چاہئے۔ انکا کرمنل ریکارڈچیک کیا جائے۔ کرمنل سندھی ہو یا مہاجر سب کو یکساں سزا ملنی چاہئے۔ کراچی کی زمینیں بچانے کے لئے ڈی جی رینجررز کردار ادا کریں۔ پیپلز پارٹی ناسور بن چکی ہے۔ میئر کے خلاف تاریخ ساز ایکشن اور ٹھیکوں میں گھپلوں کا ریفرنس بنایا جائے۔ افضل زیدی کو گرفتار کرکے چھ سالہ کلک اور کے ایم سی کرپشن کا ریکارڈ واگزار کرکے نشان عبرت بنایا جائے۔ کے ایم سی پے رول کا ریکارڈ ضبط اور اورنگی پی ڈی کا ریکارڈ چھاپے مار کر ٗضبط کیا جائے۔ پرانے افسروں کو بلا کر جعلساز افسر کے ریکارڈ کو ٹیلی کرایا جائے۔ ہم سے کنٹریکٹر ایسوسی ایشن نے بھی رابطہ کیا ہے۔ جو ماجی کی فیصل رضوی کی بدکرداری اور کرپشن کا ریکارڈ فراہم کریں گے۔۔ حساس ادارے انہیں طلب کریں لیکن سیکریسی رکھی جائے۔ میئرکا کچا چھٹا جکھل جائے گا اور فیصل رضوی کو انجام تک پہنچایا جائے گا۔ کے بی شیخ نے کہا کہ ایم کیو ایم کیوں خاموش ہے؟ اسکی بھی ساجھے داری کی اطلاعات ہیں۔ فوری بلا تاخیر ایکشن لیا جائے۔ ہم سندھی مہاجر اتحاد کے داعی ہیں لیکن کرپشن پر نو کمپرو مائز پالیسی ہے توقع ہے کہ آصف زرداری اور بلاول بھٹو نوٹس لے کر میئر اور کرپٹ افسران کو انجام تک پہنچائیں گے۔

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button