ہزارہ

بلاول بھٹو کی تمام تر پارٹی کو مضبوط کرنے کی کوششیں میئر کراچی سبوتاژ کر رہے ہیں

۔ جعلسازی اور کرپشن نے ادارے کا چہرہ بگاڑ دیا۔۔ سعید تنولی صدر کراچی رائٹس

کراچی (پریس ریلیز / خصوصی رپورٹ) کراچی رائٹس آرگنائزیشن کے صدر تاجر برداری کے رہنما اور عوام دوست پارٹی پاکستان کے جنرل سیکریٹری سعیدتنولی نے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی کی عوامی امنگوں اور پالیسی کو چرب زبان اور تنقید برداشت نہ کرنے والے میئر کراچی ناقابل تلافی نقصان پہنچا رہے ہیں۔لانڈھی، نیو کراچی، اورنگی، بلدیہ ٹاؤن اور سرجانی ٹاؤن کے بعد اب ہاکس بے ماڑی پور اور ویسٹ میں اوورسیز پاکستانیوں سمیت مختلف زمینوں پر قبضے کئے جا رہے ہیں۔بلاول بھٹو کی تمام تر پارٹی کو مضبوط کرنے کی کوششیں میئر کراچی سبوتاژ کر رہے ہیں۔ جعلسازی اور کرپشن نے ادارے کا چہرہ بگاڑ دیا۔ اینٹی کرپشن سہولت کار ادارہ بن گیا۔ لانڈھی، نیو کراچی، اورنگی، بلدیہ ٹاؤن اور سرجانی ٹاؤن کے بعد اب ہاکس بے ماڑی پور اور ویسٹ میں اوورسیز پاکستانیوں سمیت مختلف زمینوں پر قبضے کئے جا رہے ہیں۔ اورنگی میں سابق پی ڈی آفاق مرزا کے جعلی دستخطوں سے موٹیشن اور ریگولائرزیشن کے لیٹر سمیت جعلسازیاں ہو رہی ہیں۔ 500کی سیریل کاجعلی آؤٹ ورڈ رجسٹر، 300کی سیریل کا نیا رجسٹر،چالان جعلی یا اصلی۔ پکڑے جانے پر ماتحت عملے اور بیٹرز کو فٹ کردیا۔ شاہنواز نے بھاری رشوت لے کر 544صفحات کی جعلی رپورٹ جمع کرادی۔ سعید تنولی نے انکشاف کیا کہ کرپشن بے نقاب کرنے پر صحافیوں کی ایف آئی آر درج کرائی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کیماڑی کے بعد سب سے زیادہ کرپشن اورنگی میں ہو رہی ہے۔ گلشن ضیاء میں میونسپل کمشنر افضل زیدی کے بیٹر کی جانب سے فراہم کردہ جگہ پر چائنا کٹنگ اور لوٹ میلہ لگا ہوا ہے۔ جعلی رجسٹرز بنا کر جعلسازی عروج پر ہے۔ عدالتی احکامات کے برعکس توہین عدالت کرتے ہوئے میئر، میونسپل کمشنر، پی ڈی اورنگی، جعلی لسانی جماعت کے کرمنل افراد عاصم، انیس کالا، شاہ فیصل کالونی اور لائنز ایریا کے کرمنل افراد گلشن ضیاء میں بلدیہ ٹاؤن، بورڈ آف ریونیو کی زمینوں نو ہزار ایکڑ پر تاریخ کی بدترین کرپشن کر رہے ہیں جسکی سرپرستی میونسپل کمشنر اور میئر کے علاوہ سسٹم مافیا کر رہی ہے۔ فیصل رضوی نے اینٹی کرپشن کے افسر شاہنواز کو کلفٹن میں اپنے بنگلے پر پچاس لاکھ روپے دے کر عدالت میں 544 صفحات کی جعلی رپورٹ دے کر جج کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔جبکہ بے نظیر بھٹو کے نام کا اسٹیڈیم بیچ دیا گیا۔ جس پر پارٹی کے ناظم گڈو بہاری نے سخت احتجاج کیا ہے جبکہ پارٹی کے احتجاج کرنے والے ورکرز کی ایف آئی آر ٹاؤن چیئرمین کے فون پر کٹوا دی گئی۔فیصل رضوی نامی جعلساز افسر نے نیا ناظم آباد سے رقم وصولی کرکے عابد ستی، ممتاز تنولی اور جمیل ڈائری کو دی جبکہ میئر کی رقم میونسپل کمشنر کو دی۔ حیرت انگیز امر ہے کہ میئر نے دس سال غائب رہنے والے فیصل رضوی جسکی ایکس پاکستان لیف، میڈیکل کوئی چیز موجود نہیں۔اسکو ساری تنخواہیں کس قانون کے تحت دی گئیں۔ امیگریشن کا ریکارڈ، جعلی آکشن، نالوں پر تعمیرات، یو سی ڈی کی فروخت، کھوئی والی مارکیٹ، علی گڑھ مارکیٹ، بنارس نیشنل، مسجد کے احاطے پر قبضے کے بعد دکانوں کی تعمیر، بنارس پل کے نیچے دکانوں کی تعمیرات سمیت لیزوں کے نام پر جعلسازی اور لاکھوں فی کس کی وصولی کی جا رہی ہے۔ میئر نے کھلی کرپشن کی سرپرستی کرکے بلاول بھٹو کے کراچی ویژن کو سخت نقصان پہنچایا ہے۔ اینٹی کرپشن کی سہولت کاری رشوت وصولی اور جعلی دستاویزات پی ڈی کے دفتر میں بیٹھ کر سیف عباس اور دیگر کی مدد سے تیار کرنے کی ہم نے پہلے نشاندہی کردی تھی۔ کراچی رائٹس آرگنائزیشن چیئرمین بلاول بھٹو سے مطالبہ کرتی ہے کہ میئر کو معطل کرکے تحقیقات کی جائے۔ٹھیکوں میں گھپلوں اورجعلی آکشن افضل زیدی کی کلک سے کے ایم سی تک کرپشن کی تحقیقات کرائی جائے۔ نیب فیصل رضوی کی تحقیقات کرے اور کرپشن مافیا کو کراچی سے نجات دلائی جائے۔

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button